از قلم: فیصل جنجوعہ
تعلیمی سال جاری ہے، کلاس رومز آباد ہیں، کتابیں کھلی ہیں اور طلبہ روزانہ اسباق پڑھ رہے ہیں۔ مگر ایک سوال ایسا ہے جس پر والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں سب کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے: کیا بچے صرف سبق پڑھ رہے ہیں یا اسے سمجھ بھی رہے ہیں بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی ماحول میں اکثر توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ سبق مکمل ہو گیا، ہوم ورک کر لیا گیا اور ٹیسٹ میں نمبر اچھے آگئے۔ لیکن اصل کامیابی یہ نہیں کہ بچے نے کتنے صفحات پڑھ لیے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ اس نے ان صفحات سے کتنا سمجھا اور کیا سیکھا۔ استاد کی رہنمائی کیوں ضروری ہے؟ ایک طالب علم کتاب خود بھی پڑھ سکتا ہے، انٹرنیٹ سے معلومات بھی حاصل کر سکتا ہے اور جدید ٹیکنالوجی سے سوال کا جواب بھی تلاش کر سکتا ہے۔ لیکن ایک اچھا استاد صرف جواب نہیں دیتا بلکہ طالب علم کو سوچنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔ استاد مشکل تصور کو آسان بناتا ہے، طالب علم کی غلطی کی نشاندہی کرتا ہے، سوال کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ بچہ کہاں الجھ رہا ہے۔ یہ وہ رہنمائی ہے جو صرف کتاب پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتی۔ رٹا وقتی کامیابی، سمجھ مستقل فائدہ، ہمارے ہاں اب بھی امتحانات کی تیاری میں رٹنے کا رجحان موجود ہے۔ طالب علم سوالات کے جوابات یاد کر لیتا ہے اور امتحان میں اچھے نمبر بھی حاصل کر لیتا ہے، مگر سوال کا انداز تبدیل ہوتے ہی مشکلات شروع ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ یاد کیا ہوا جواب مخصوص سوال کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، جبکہ سمجھا ہوا تصور مختلف حالات میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ "کیا جواب ہے؟” بلکہ یہ بھی سکھانا چاہیے کہ "کیوں ہے؟” اور "کیسے ہے؟” موبائل اور مصنوعی ذہانت: مددگار یا شارٹ کٹ؟ موبائل، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت تعلیم کے لیے مفید وسائل ہیں، لیکن اگر ہر سوال کا جواب فوراً تلاش کرنے کی عادت بن جائے تو بچے کی اپنی سوچنے اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
ٹیکنالوجی سے مدد لینا غلط نہیں، مگر ٹیکنالوجی کو سوچ کا متبادل بنا دینا خطرناک ہے۔ بچے کو پہلے سوچنے، پھر سوال کرنے، تحقیق کرنے اور آخر میں ٹیکنالوجی سے تصدیق کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ والدین بھی صرف نمبر نہ دیکھیں، والدین کو بھی اپنے رویے پر غور کرنا ہوگا۔ اگر گھر میں ہر گفتگو کا مرکز صرف نمبر، گریڈ اور پوزیشن ہو تو بچہ فطری طور پر سمجھنے کے بجائے نمبر حاصل کرنے کو ترجیح دے گا۔ والدین کبھی بچے سے یہ بھی پوچھیں "آج اسکول میں کیا نیا سمجھا؟” یہ ایک چھوٹا سا سوال بچے کو رٹے سے سمجھ کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اصل تعلیم کیا ہے؟ اصل تعلیم وہ نہیں جو صرف امتحان تک یاد رہے۔ اصل تعلیم وہ ہے جو بچے کی سوچ، رویے اور کردار میں نظر آئے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ کلاس روم میں سبق ختم کرنے کے بجائے سبق سمجھانے کو ترجیح دی جائے، طلبہ کو سوال کرنے دیا جائے اور استاد کو محض لیکچر دینے والے کے بجائے ایک رہنما کا کردار دیا جائے۔ آخرکار کتاب علم کا ذریعہ ہے، ٹیکنالوجی ایک سہولت ہے، مگر استاد وہ رہنما ہے جو معلومات کو شعور اور شعور کو کردار میں تبدیل کرتا ہے۔بچے کو صرف پڑھائیں نہیں، سمجھائیں، صرف جواب نہ دیں، سوچنا سکھائیں، صرف نمبر نہ دلائیں، علم سے جوڑیں۔



