ستمبر 11, 2026

تشویش ناک صورتحال

از قلم: فیصل جنجوعہ

سوشل میڈیا نے اظہارِ خیال کے دروازے کھولے، عام انسان کو اپنی بات دنیا تک پہنچانے کا موقع دیا اور نوجوانوں کو تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا پلیٹ فارم فراہم کیا۔ مگر افسوس کہ اسی آزادی کے ساتھ ایک خطرناک رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے: ٹک ٹاک کی ٹسل۔ چند ویوز، لائکس اور فالوورز کے لیے ایک دوسرے کو چیلنج کرنا، جواباً ویڈیو بنانا، طنز، تضحیک، الزام تراشی اور ذاتی معاملات کو سرِعام لانا اب بعض حلقوں میں تفریح سمجھا جانے لگا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ ایک دوسرے سے اختلاف کیوں کرتے ہیں؛ اصل المیہ یہ ہے کہ اختلاف کو تماشہ اور انسان کو مواد بنا دیا گیا ہے۔وائرل ہونا آج کے ڈیجیٹل کلچر میں کامیابی کی علامت سمجھا جانے لگا ہے۔ نتیجتاً بعض افراد جان بوجھ کر ایسا مواد بناتے ہیں جو غصہ، حیرت یا تنازع پیدا کرے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ جذباتی مواد زیادہ توجہ حاصل کرتا ہے۔یہی ذہنیت ٹک ٹاک کی ٹسل کو خطرناک بناتی ہے۔ ایک ویڈیو کے جواب میں دوسری ویڈیو، پھر تیسری، اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں افراد اس تنازع کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جو معاملہ چند افراد کے درمیان تھا، وہ عوامی تماشہ بن جاتا ہے۔ کیا ہر چیز مواد ہے؟ ہمیں بطور معاشرہ یہ سوال خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا ہر شخص کی عزت، نجی زندگی، اختلاف اور کمزوری کو ویڈیو بنا کر پیش کرنا درست ہے؟ کیا کسی کی تضحیک اس لیے جائز ہو جاتی ہے کہ اس پر لاکھوں ویوز آ سکتے ہیں؟کیا کسی کی کردار کشی صرف اس لیے معمولی بات ہے کہ وہ چند سیکنڈ کی ویڈیو میں ہوئی؟ ہر وائرل چیز قابلِ فخر نہیں ہوتی۔ بعض اوقات وائرل ہونا دراصل ہماری اجتماعی بے حسی کی علامت ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ہونی چاہیے کہ بچے اور نوجوان ان رویوں کو دیکھ کر بڑے ہو رہے ہیں۔ جب انہیں بار بار یہ نظر آئے کہ بدتمیزی پر تالیاں، تضحیک پر لائکس اور تنازع پر شہرت ملتی ہے تو ان کے ذہن میں کامیابی کا تصور بھی بدل سکتا ہے۔ ہم انہیں کتابوں میں اخلاقیات پڑھا کر اور موبائل کی اسکرین پر اس کے برعکس رویے دکھا کر دو متضاد پیغامات دے رہے ہیں۔ یہ تضاد خطرناک ہے۔ والدین صرف موبائل نہ دیکھیں، مواد بھی دیکھیں والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کے ہاتھ میں موبائل دے کر اپنی ذمہ داری ختم نہ سمجھیں۔ بچے کیا دیکھ رہے ہیں، کس قسم کے لوگوں کو فالو کر رہے ہیں اور کس زبان و رویے سے متاثر ہو رہے ہیں، یہ جاننا بھی والدین کی تربیتی ذمہ داری ہے۔ صرف موبائل چھین لینا حل نہیں۔ بچے کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ آن لائن دنیا میں بھی الفاظ کے نتائج ہوتے ہیں، عزت کی اہم ضرورت ہوتی ہے اور ایک غلط پوسٹ مستقبل میں مسئلہ بن سکتی ہے۔اسکولوں کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا آج تعلیم کا مطلب صرف کتاب اور امتحان نہیں۔ ڈیجیٹل دور میں اسکولوں کو بچوں میں ڈیجیٹل اخلاقیات، برداشت، تنقیدی سوچ، ذمہ دارانہ اظہارِ رائے اور آن لائن رویوں کی تربیت بھی کرنا ہوگی۔ ہمیں ایسے نوجوان درکار ہیں جو وائرل ہونے کے لیے شور نہ مچائیں بلکہ اپنی قابلیت سے پہچانے جائیں۔ اختلاف کریں، مگر انسان کو مت توڑیں. اختلاف زندگی کا حصہ ہے۔ ہر شخص کا نقطۂ نظر ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔ مگر اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنا، دوسروں کی تضحیک کرنا اور ہزاروں لوگوں کے سامنے کسی کی عزت کو نشانہ بنانا کسی مہذب معاشرے کی علامت نہیں۔ ٹیکنالوجی جدید ہو سکتی ہے، مگر اخلاقیات پرانی نہیں ہونی چاہئیں۔ ٹک ٹاک یا کوئی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم بذاتِ خود دشمن نہیں۔ اصل مسئلہ ہمارا استعمال، ہماری ترجیحات اور ہماری تربیت ہے۔ اگر ہم نے ویوز کو کردار سے، فالوورز کو عزت سے اور وائرل ہونے کو کامیابی سے بڑا سمجھ لیا تو پھر ہمیں ٹک ٹاک کی ٹسل سے زیادہ اپنی اجتماعی سوچ کی فکر کرنی چاہیے۔ آج ضرورت کسی ایک ٹک ٹاکر کو شکست دینے کی نہیں، بلکہ اس ذہنیت کو شکست دینے کی ہے جو سمجھتی ہے کہ جتنی زیادہ تضحیک، اتنی زیادہ شہرت۔ ویڈیو چند سیکنڈ کی ہوتی ہے، مگر الفاظ کے زخم کبھی کبھی پوری زندگی رہ جاتے ہیں۔