تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں کہتا ہے کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اس ملک کے مسائل کی تشخیص بھی عجیب انداز میں ہوتی دیکھی ہے اور علاج بھی عجیب طریقے سے ہوتا دیکھا ہے۔ کبھی پوری قوت سے یہ بتایا گیا کہ پاکستان کے تمام مسائل کی جڑ فوج ہے اور جب تک فوج سیاست سے الگ نہیں ہوگی ملک آگے نہیں بڑھے گا۔ پھر ایک زمانہ آیا جب آواز بلند ہوئی کہ نہیں جناب اصل خرابی تو سیاست دانوں میں ہے یہی لوگ ملک کو لوٹتے ہیں یہی اقتدار کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں یہی اداروں کو کمزور کرتے ہیں اور یہی ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے بجائے مزید بحرانوں میں دھکیلتے ہیں۔ قوم ابھی اس بحث سے پوری طرح باہر بھی نہیں نکلی تھی کہ ایک اور تشخیص سامنے آگئی کہ اصل خرابی عدلیہ میں ہے فیصلے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں طاقتور بچ نکلتے ہیں کمزور پستے ہیں اور انصاف کا نظام خود انصاف کا محتاج دکھائی دیتا ہے۔ ہر دور میں گواہیاں پیش ہوئیں دلائل دیے گئے الزامات لگے کرداروں کی نشان دہی ہوئی اور قوم کو یقین دلایا گیا کہ بس اب اصل مرض پکڑ لیا گیا ہے لیکن بندن میاں حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ اگر ہر مرتبہ مرض کی جڑ دریافت ہوگئی تھی تو پھر بیماری ختم کیوں نہ ہوئی اور اگر علاج بھی ہوتا رہا تو مرض بڑھتا کیوں گیا۔ یہی تو وہ مقام ہے جہاں بندن میاں اپنی مخصوص بے باکی سے کہتا ہے کہ شاید ہم نے بیماری کو کبھی مکمل جسم میں دیکھا ہی نہیں ہم نے ہمیشہ ایک عضو کو پورا جسم سمجھ کر علاج کیا اور پھر جب مرض ختم نہ ہوا تو کسی دوسرے عضو کو قصوروار ٹھہرا دیا۔ فوج نے سیاست میں مداخلت کی تو اس کا حساب ہونا چاہیے تھا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاست دانوں نے بارہا اسی طاقت کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔ سیاست دانوں نے کرپشن کی تو احتساب ہونا چاہیے تھا مگر احتساب بھی کئی مرتبہ سیاسی انتقام کا ذریعہ بنتا رہا۔ عدلیہ نے کہیں غلط فیصلے کیے یا ادارہ جاتی کمزوریاں دکھائی دیں تو اصلاح ضروری تھی لیکن عدلیہ کے فیصلوں کے ساتھ ساتھ قانون سازی اور ریاستی اداروں کی مجموعی کارکردگی بھی اسی نظام کا حصہ ہے۔ یعنی مسئلہ صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ وہ پورا انتظامی ڈھانچہ ہے جس میں طاقت جواب دہی سے بڑی ہوجائے اور اختیار ذمہ داری سے آزاد ہوجائے۔ اور بندن میاں کہتا ہے کہ اب ایک اور نام بڑی شدت سے سامنے آرہا ہے بیورو کریسی۔ وہ بیورو کریسی جو ریاست کے روزمرہ نظام کو چلاتی ہے فائل کو حرکت دیتی ہے حکم کو نافذ کرتی ہے بجٹ خرچ کرتی ہے منصوبے بناتی ہے زمین کے معاملات دیکھتی ہے ٹیکس وصولی سے لے کر ترقیاتی منصوبوں تک ہزاروں فیصلوں میں موجود رہتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر انتظامی مشینری اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی بیورو کریسی اس ملک کے تمام مسائل کی جڑ ہے۔ بندن میاں کہتا ہے کہ نہیں اگر ہم ایک بار پھر کسی ایک طبقے کو مکمل ذمہ دار قرار دے دیں گے تو ہم تاریخ کی وہی غلطی دوبارہ دہرائیں گے لیکن یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ کمزور سیاسی قیادت مضبوط اور غیر جواب دہ انتظامیہ کو جنم دیتی ہے اور کمزور ادارہ جاتی نگرانی بیورو کریسی کو ایسا اختیار دے دیتی ہے جس میں فیصلہ کرنے والا اکثر عوام کے سامنے براہ راست جواب دہ نہیں ہوتا۔ یہی وہ بے مہار اونٹ ہے جس کی مثال بندن میاں دیتا ہے کہ جسے نکیل ڈالنے کے لیے کبھی فوج آئی کبھی سیاست دان آئے کبھی عدالتیں آئیں لیکن کسی نے مستقل طور پر اس کے اختیار اور جواب دہی کا ایسا نظام قائم نہ کیا جو اسے قانون کے دائرے میں مکمل طور پر باندھ سکتا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر حکومت اپنے ساتھ تبدیلی کا نعرہ لے کر آئی مگر فائلوں کی رفتار وہی رہی نظام کی پیچیدگیاں وہی رہیں اختیارات کے مراکز وہی رہے اور عوام کے لیے دفتر کے دروازے پر کھڑے ہونے کی اذیت بھی وہی رہی۔ بندن میاں کہتا ہے کہ اس ملک کا اصل مرض شاید کسی ایک ادارے کا نام نہیں بلکہ غیر جواب دہ اختیار ہے۔ جس کے ہاتھ میں اختیار ہے اس سے سوال نہ ہو جس نے فیصلہ کیا اس سے نتیجہ نہ پوچھا جائے جس نے خزانہ خرچ کیا اس سے حساب نہ لیا جائے جس نے منصوبہ بنایا اس کی کامیابی یا ناکامی کا تعین نہ ہو اور جس نے قانون توڑا وہ اپنے تعلقات طاقت یا عہدے کی وجہ سے بچ نکلے تو پھر چاہے وہاں فوج ہو سیاست دان ہوں عدلیہ ہو یا بیورو کریسی بیماری پیدا ہوگی ہی ہوگی۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ بیماری کا چہرہ بدلتا رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کبھی شخصیات بدلنے سے امیدیں وابستہ کی گئیں کبھی حکومتیں بدلنے سے کبھی نظام بدلنے سے اور کبھی کسی طاقتور ادارے کے ہاتھ میں مکمل اختیار دینے سے لیکن چند سال بعد قوم پھر وہیں کھڑی دکھائی دی جہاں پہلے کھڑی تھی۔ تعلیم کے مسائل اپنی جگہ صحت کے مسائل اپنی جگہ بے روزگاری اپنی جگہ مہنگائی اپنی جگہ انصاف کی تاخیر اپنی جگہ پولیس اور تھانے کا نظام اپنی جگہ سرکاری اسپتالوں کی حالت اپنی جگہ بلدیاتی اداروں کی کمزوری اپنی جگہ اور سرکاری دفاتر میں عام آدمی کی بے بسی اپنی جگہ موجود رہی۔ بندن میاں کہتا ہے کہ اگر ایک ملک میں ایک نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد روزگار کے لیے در در کی ٹھوکریں کھائے اگر ایک غریب آدمی علاج کے لیے اپنی جمع پونجی بیچ دے اگر ایک شہری اپنے جائز کام کے لیے دفتر کی میز سے میز تک فائل اٹھائے پھرے اگر کسی منصوبے کی لاگت بار بار بڑھے مگر عوام کو مطلوبہ فائدہ نہ ملے اگر قوانین موجود ہوں مگر ان پر عمل درآمد کمزور ہو اور اگر طاقتور آدمی کے لیے راستہ ہمیشہ آسان جبکہ عام آدمی کے لیے ہر دروازہ بھاری ہو تو ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ قصوروار کون ہے بلکہ یہ پوچھنا چاہیے کہ ایسا نظام کیوں بنا ہوا ہے جس میں یہ سب کچھ بار بار ہوتا ہے۔ یہی اصل تشخیص ہے۔ پاکستان کا مرض محض فوج نہیں سیاست نہیں عدلیہ نہیں بیورو کریسی نہیں بلکہ طاقت کے مراکز کا وہ باہمی کھیل ہے جس میں ادارہ جاتی مفاد قومی مفاد پر غالب آجاتا ہے اور جواب دہی کا نظام کمزور پڑجاتا ہے۔ فوج کا کام دفاع ہے اسے آئینی حدود میں رہنا چاہیے سیاست دانوں کا کام عوامی نمائندگی اور قانون سازی ہے انہیں اقتدار کو ذاتی یا جماعتی مفاد کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے عدلیہ کا کام قانون اور آئین کے مطابق انصاف فراہم کرنا ہے اسے آزاد بھی ہونا چاہیے اور اپنے فیصلوں اور ادارہ جاتی کارکردگی کے حوالے سے آئینی و قانونی دائرے میں جواب دہ بھی ہونا چاہیے اور بیورو کریسی کا کام ریاستی مشینری کو قانون کے مطابق چلانا ہے نہ کہ حکومتوں سے بالاتر ایک مستقل اقتدار بن جانا۔ لیکن بندن میاں کہتا ہے کہ اصل علاج کسی ایک ادارے کو شکست دینا نہیں بلکہ ہر ادارے کو اس کی حدود میں واپس لانا ہے۔ نکیل کسی ایک کے ہاتھ میں نہیں بلکہ آئین کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔ ترازو کسی شخصیت کے ہاتھ میں نہیں بلکہ قانون کے ہاتھ میں ہونا چاہیے اور احتساب کسی دشمنی یا انتقام کے تحت نہیں بلکہ ایک مستقل شفاف اور غیر جانب دار نظام کے ذریعے ہونا چاہیے۔ بیورو کریسی کو دشمن سمجھنے کے بجائے اسے قانون کا پابند پیشہ ور ادارہ بنانا ہوگا جہاں تقرری اہلیت پر ہو تبادلہ اصول کے تحت ہو ترقی کارکردگی کی بنیاد پر ہو فیصلوں کی دستاویزات محفوظ ہوں سرکاری خریداری شفاف ہو ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی آزاد اداروں سے ہو اور عوام کو اپنے جائز کام کے لیے غیر ضروری دفتری چکروں سے نجات دی جائے۔ اسی طرح سیاست دانوں کے لیے بھی واضح اصول ضروری ہیں کہ اقتدار امانت ہے ذاتی ملکیت نہیں۔ فوج کے لیے بھی آئینی حدود غیر مبہم ہونی چاہئیں عدلیہ کے لیے بھی ادارہ جاتی اصلاحات ضروری ہیں اور بیورو کریسی کے لیے بھی کارکردگی اور جواب دہی کا ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں اچھا افسر عزت اور تحفظ پائے اور بدعنوان یا نااہل افسر کسی سیاسی سفارش یا انتظامی پیچیدگی کے پیچھے چھپ نہ سکے۔ بندن میاں کہتا ہے کہ قوموں کی نجات کسی ایک مسیحا سے نہیں ہوتی ادارے مضبوط کرنے سے ہوتی ہے۔ جب نظام افراد کا محتاج ہوجائے تو ہر نیا شخص نیا تجربہ بن جاتا ہے اور ہر تجربہ قوم کے لیے نئی آزمائش بن جاتا ہے۔ ہم نے بھی یہی کیا ہے کبھی ایک چہرے سے امید باندھی کبھی دوسرے سے اور کبھی ایک ادارے کو تمام مسائل کا حل سمجھ لیا لیکن بنیادی سوال وہیں رہا کہ کیا اس ملک میں قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے کیا ریاستی اختیار واقعی عوام کے سامنے جواب دہ ہے کیا سرکاری فیصلوں کا نتیجہ ناپا جاتا ہے کیا قومی خزانے کے ایک ایک بڑے خرچ کا حساب لیا جاتا ہے کیا عوام کو اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے سفارش کی ضرورت نہیں پڑتی اور کیا کسی طاقتور شخص کے لیے قانون کی تعبیر مختلف نہیں ہوجاتی۔ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر بندن میاں کہتا ہے کہ مرض ابھی زندہ ہے اور صرف مریض کا لباس تبدیل ہورہا ہے۔ علاج تب شروع ہوگا جب ہم الزام تراشی کے اس دائمی چکر سے باہر نکلیں گے اور یہ تسلیم کریں گے کہ پاکستان کو کسی ایک ادارے کے خلاف جنگ نہیں بلکہ اداروں کے درمیان آئینی توازن کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسی ریاست چاہیے جہاں فوج مضبوط ہو مگر آئین کے تابع ہو سیاست مضبوط ہو مگر قانون کے تابع ہو عدلیہ آزاد ہو مگر انصاف کے معیار سے بندھی ہو اور بیورو کریسی بااختیار ہو مگر عوام اور قانون کے سامنے جواب دہ ہو۔ جب اختیار کے ساتھ جواب دہی آئے گی جب فیصلے کے ساتھ ذمہ داری آئے گی جب عہدے کے ساتھ احتساب آئے گا اور جب قانون طاقتور اور کمزور دونوں پر یکساں لاگو ہوگا تب شاید بندن میاں بھی اپنی وہ پرانی شکایت واپس لے لے کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ اور قوم کو نجات کب ملے گی اس سوال کا ایماندار جواب یہ ہے کہ کوئی شخص تاریخ بتا کر قوم کو دھوکا نہیں دے سکتا۔ یہ نجات ایک دن میں نہیں آئے گی لیکن اس کا آغاز اسی دن ہوجائے گا جس دن ہم کسی ایک طبقے کو ہر خرابی کا ذمہ دار قرار دینے کے بجائے پورے نظام کی خرابی کو سمجھیں گے اور اصلاح کا آغاز اپنے اپنے دائرہ اختیار سے کریں گے۔ بندن میاں آخر میں بس اتنا کہتا ہے کہ پاکستان کو کسی نئے تجربے کی نہیں ایک مستقل اصول کی ضرورت ہے اور وہ اصول ہے آئین کی بالادستی قانون کی حکمرانی اداروں کی حدود شفافیت میرٹ اور بلاامتیاز احتساب۔ اگر یہ اصول نافذ ہوگئے تو اژدہا خواہ فوجی طاقت کا ہو سیاسی اثر و رسوخ کا ہو عدالتی کمزوری کا ہو یا بیورو کریسی کے بے لگام اختیار کا وہ آخرکار قابو میں آ جائے گا اور اگر یہ اصول نافذ نہ ہوئے تو کل پھر کوئی نیا دشمن تلاش کرلیا جائے گا۔جیسا کہ کل فوج،سیاستدان، عدلیہ اور آج بیورو کریسی ہے کل کوئی اور ہوگی مگر قوم کا مرض وہی رہے گا۔ بندن میاں کہتا ہے اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ملک میں طاقتور کون ہے اصل مسئلہ یہ ہے کہ طاقتور کو قانون کے سامنے جواب دہ کون بناتا ہے اور جب تک اس سوال کا عملی جواب ریاست کے ہر ادارے کے اندر موجود نہیں ہوتا تب تک پاکستان میں مسئلے بدلتے رہیں گے مگر مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔



