بھٹ شاہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نئے انتظامی یونٹوں کے قیام کی تجویز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے گھسی پٹی قرار دیا ہے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں کہ محسن نقوی کا اشارہ کس طرف تھا، لیکن سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے اور یہاں کے غیور عوام اس طرح کی کسی بھی تجویز کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے صوبائی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں ن لیگ، بلوچستان میں مخلوط، سندھ میں پیپلز پارٹی جبکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، اور اگر نظام کو چلانے میں کوئی ابہام ہے تو اس کا حل یہ نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے نوجوانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان اس ملک کا روشن مستقبل ہیں اور انہوں نے ہی آگے بڑھ کر ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نوجوانوں کو کبھی بھی کاکروچ نہیں سمجھا گیا بلکہ وہ ہمارے ملک کا اصل قیمتی سرمایہ ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملکی ترقی کے لیے موجودہ تباہ شدہ سسٹم کی جگہ نئے انتظامی یونٹس یا صوبے بنانے کو ناگزیر قرار دیا تھا۔





