جولائی 28, 2026

ایران کا امریکی تجاویز مسترد کرنے کا اعلان، آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کی پالیسی برقرار

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے انکشاف کیا ہے کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے کیے جانے والے مذاکرات میں امریکا کے بے جا مطالبات کے سبب اس کی تجاویز کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں شروع ہونے والی اس بات چیت میں امریکا نے ایسا منصوبہ پیش کیا جس میں غیر منصفانہ مطالبات شامل تھے، جسے ایرانی وفد نے یکسر مسترد کر دیا۔ غریب آبادی کے مطابق امریکا نے دھمکی دی تھی کہ منصوبہ مسترد ہونے کی صورت میں مذاکرات کو ناکام سمجھ کر امریکی وفد واپس چلا جائے گا، اور آخر کار ایسا ہی ہوا۔ ایرانی وفد نے مذاکرات جاری رکھنے کی کوئی درخواست نہیں کی، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ایران باوقار انداز میں سفارتکاری کر رہا ہے۔

علاوہ ازیں، آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے نائب وزیر خارجہ نے بتایا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ بند کیے جانے کے بعد عمان میں بھی بات چیت کا سلسلہ ہوا۔ عمانی وفد نے زور دیا کہ جہازوں کی آمدورفت کے لیے جنوبی راستہ اس وقت تک کھلا رکھا جائے جب تک ایران اور عمان کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ جائیں، تاہم ایران نے اس تجویز کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ کاظم غریب آبادی نے واضح کیا کہ جنگ کے آغاز ہی سے ایران کی اصولی پالیسی یہ ہے کہ ایسی تجاویز تسلیم نہیں کی جائیں گی، اور آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کی پالیسی بدستور برقرار رہے گی۔