جولائی 27, 2026

امریکا کا جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر پاکستان سمیت 60 سے زائد ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد ٹیرف کا نفاذ

امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام اور اس سے متعلق قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکامی پر پاکستان سمیت 60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک نئے ٹیرف عائد کر دیے ہیں، جن کا اطلاق 24 جولائی سے ہو چکا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی ایک اور کوشش ہے، کیونکہ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے سابقہ اضافی ٹیرف کالعدم قرار دیے جانے کے بعد اب انتظامیہ نے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو بروئے کار لایا ہے۔

پاکستان، بھارت، بنگلا دیش، برطانیہ، کینیڈا اور میکسیکو سمیت کئی ممالک کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے جبکہ دیگر 38 ممالک کی درآمدات پر 12.5 فیصد ٹیرف لاگو ہوگا۔ اس اقدام پر آسٹریلیا اور برازیل جیسے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے جنہوں نے اسے غیرمنصفانہ قرار دیا ہے، جبکہ ناروے نے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ تاہم، نئے ٹیرف میں خام تیل، قدرتی گیس، بعض غذائی اجناس، کھاد اور وہ اشیا جو پہلے ہی سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف (جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومینیم اور تانبا) میں شامل ہیں، کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔