ستمبر 12, 2026

ایک اہم سڑک، دو دہائیوں کی بے توجہی

تحریر:محمدمظہررشید چودھری (03336963372)

سڑکیں کسی بھی شہر کی ترقی، معاشی سرگرمیوں اور شہری زندگی کی عکاس ہوتی ہیں۔ اگر یہی سڑکیں خستہ حالی، ٹوٹ پھوٹ اور بدانتظامی کا شکار ہو جائیں تو ترقی کے تمام دعوے اپنی معنویت کھو بیٹھتے ہیں۔ اوکاڑہ شہر میں بھی ایک ایسی اہم شاہراہ موجود ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے متعلقہ اداروں کی عدم توجہی کا شکار ہے۔ اس سڑک کے آغاز میں ایک جانب گورنمنٹ گریجوایٹ گرلز کالج اوکاڑہ سٹی واقع ہے، جبکہ دوسری جانب شہر کا مرکزی قبرستان ہے۔ تقریباً دو کلومیٹر طویل اور 33 فٹ چوڑی یہ شاہراہ آگے جا کر نہر لوئر باری دوآب کے کنارے قائم لنک روڈ کے ذریعے اوکاڑہ فیصل آباد روڈ کو اکبر روڈ سے ملاتی ہے۔ جغرافیائی اور شہری اہمیت کے اعتبار سے یہ سڑک اوکاڑہ کے اہم ترین رابطہ راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ روزانہ ہزاروں طلبا و طالبات، اساتذہ، سرکاری و نجی ملازمین، تاجر، مزدور، رکشہ اور ویگن ڈرائیور، ایمبولینس اور عام شہری اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے اسی شاہراہ کو استعمال کرتے ہیں، مگر افسوس کہ اتنی اہمیت کے باوجود یہ سڑک برسوں سے تعمیر و مرمت کی منتظر ہے۔بدقسمتی سے اس اہم شاہراہ کی موجودہ حالت اس کی اہمیت کے بالکل برعکس ہے۔ امیر کالونی سے ہی سڑک کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ جگہ جگہ گہرے گڑھے، ٹوٹی ہوئی سطح، اکھڑا ہوا کارپٹ اور سیوریج کا بہتا پانی اس راستے کو خطرناک بنا دیتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس سڑک پر برسوں سے کسی قسم کی مرمت ہی نہ کی گئی ہو۔ ہر گزرنے والا شہری یہی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر اس سڑک کی تعمیر و بحالی کیوں مسلسل نظر انداز کی جا رہی ہے۔سانچ کے قارئین کرام ! بارش کے دنوں میں صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے۔ معمولی بارش بھی اس سڑک کو تالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہے۔ نکاسی آب کا مناسب نظام نہ ہونے کے باعث بارش کا پانی اور سیوریج کئی کئی دن تک سڑک پر کھڑا رہتا ہے۔ موٹر سائیکل سوار گڑھوں کا اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے حادثات کا شکار ہوتے ہیں، رکشے اور گاڑیاں پانی میں راستہ تلاش کرتی ہیں جبکہ پیدل چلنے والوں کو کیچڑ اور گندے پانی سے گزرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف شہریوں کے لیے اذیت کا باعث بنتی ہے بلکہ صحت عامہ کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔اس سڑک کی اہمیت صرف ٹریفک تک محدود نہیں۔ امیر کالونی سے ایوب پارک تک یہ راستہ درجنوں رہائشی آبادیوں کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔ اس کے اطراف متعدد تعلیمی ادارے قائم ہیں جہاں روزانہ سینکڑوں طلبا و طالبات تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو اسکول اور کالج بھیجتے وقت ہر روز اس بات کی فکر میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں ٹوٹی ہوئی سڑک یا گہرے گڑھے کسی حادثے کا سبب نہ بن جائیں۔ خاص طور پر موٹر سائیکل اور سائیکل استعمال کرنے والے طلبہ کے لیے یہ راستہ مسلسل خطرے کی علامت بن چکا ہے۔یہی سڑک بزرگ شہریوں، خواتین اور بچوں کے لیے بھی شدید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ قریبی مساجد میں نماز ادا کرنے والے نمازیوں کو بھی اسی خراب راستے سے گزرنا پڑتا ہے۔ مریضوں کو اسپتال منتقل کرنے والی ایمبولینسوں کی رفتار بھی ان گڑھوں کی وجہ سے متاثر ہوتی ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں چند لمحوں کی تاخیر قیمتی جانوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس پہلو پر بھی متعلقہ اداروں کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ٹوٹ پھوٹ کے ساتھ ساتھ سیوریج کا مسئلہ بھی اس سڑک کی بدحالی میں اضافہ کر رہا ہے۔ اگر سڑک تعمیر بھی کر دی جائے لیکن نکاسی آب کا مستقل حل نہ نکالا جائے تو چند ہی ماہ بعد یہی مسئلہ دوبارہ جنم لے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ سڑک کی تعمیر کے ساتھ زیر زمین سیوریج لائنوں، بارش کے پانی کی نکاسی اور ڈرینج سسٹم کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنایا جائے تاکہ عوام کو مستقل ریلیف مل سکے۔سانچ کے قارئین کرام ! افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اوکاڑہ شہر میں متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے، نئی سڑکیں تعمیر ہوئیں، کئی شاہراہوں کی توسیع کی گئی، مگر اس اہم سڑک کی قسمت نہ بدل سکی۔ یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا ترقیاتی منصوبوں میں شہریوں کی اصل ضروریات کو ترجیح دی جا رہی ہے یا نہیں؟ اگر ایک ایسی سڑک جو تعلیمی اداروں، رہائشی آبادیوں، قبرستان، پارک اور مرکزی شاہراہوں کو آپس میں جوڑتی ہو، مسلسل نظر انداز ہوتی رہے تو یہ منصوبہ بندی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔اس مسئلے کا حل صرف سڑک پر چند ٹرالی مٹی ڈالنے یا وقتی مرمت سے ممکن نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ محکمے مکمل تکنیکی سروے کرائیں، سیوریج اور نکاسی آب کا نظام درست کریں، سڑک کی ازسرنو تعمیر کریں، دونوں اطراف فٹ پاتھ اور بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے مناسب نالیاں بنائیں، جبکہ رات کے وقت بہتر اسٹریٹ لائٹس اور ٹریفک سائن بورڈ بھی نصب کیے جائیں۔ اگر یہ اقدامات کیے جائیں تو نہ صرف شہریوں کو سہولت ملے گی بلکہ حادثات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔اوکاڑہ کے عوام کسی غیر معمولی سہولت کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ انہیں ایک محفوظ، صاف اور قابلِ استعمال سڑک میسر ہو تاکہ وہ روزانہ کی زندگی باوقار انداز میں گزار سکیں۔ یہ سڑک صرف کنکریٹ اور تارکول کا ٹکڑا نہیں بلکہ ہزاروں شہریوں کی زندگی، تعلیم، روزگار، عبادت اور علاج کا راستہ ہے۔ اس کی بحالی دراصل عوامی خدمت، شہری سہولت اور بہتر طرزِ حکمرانی کا امتحان ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ متعلقہ ادارے، منتخب عوامی نمائندے اور ضلعی انتظامیہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ اگر آج اس سڑک کی تعمیر و بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تو یہ صرف ایک شاہراہ کی مرمت نہیں ہوگی بلکہ اوکاڑہ کے ہزاروں شہریوں کو بہتر، محفوظ اور باوقار زندگی کی طرف ایک اہم قدم ہوگا۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ سڑک بھی جلد اس توجہ کی مستحق قرار پائے گی جس کی وہ برسوں سے منتظر ہے٭