ڈنگہ (میاں احتشام اللہ اسلم) تین سال سے چوکوں‘ سڑکوں اور مرکزی راستوں پر مسلح تصادم کرنے والے تین گروپوں کے مابین عوامی رابطہ آفس ہیلاں رود ڈنگہ میں ایم این اے چوہدری نصیر عباس سدھو کی زیر صدارت راضی نامہ کا بڑا اکٹھ۔ امن و امان کی بحالی کے لئے نئے دور کا آغاز ہوا۔ تفصیلات کے مطابق آزاد یوتھ فورس‘ وڈی سرکار فورس اور دنڈا بردار فورس کے نام سے 80 سے 100 نوجوانوں پر مشتمل مسلح گروپ کے مابین 3 سال سے مسلح بڑے تصادم کا سلسلہ جاری تھا جس سے علاقہ میں خوف و حراس پھیلا ہوا تھا۔ آخری لڑائی گزشتہ عید سے 5 روز قبل چوک درزیاں والا میں ہوئی جس میں جاوید پیرزادہ کے بیٹے کو گولی سے شدید زخم آئے جبکہ اس لڑائی میں کئی نوجوان ڈنڈوں کے حملے سے شدید زخمی ہوئے۔ بات حد سے بڑھنے لگی اور خدشہ تھا کہ سلسلہ نہ روکا گیا تو بات جانی نقصان تک چلی جائے گی۔
جس پر ممتاز سیاسی راہنما چوہدری وقاص شمشاد‘ مہر محمد انور سہلوانہ‘ مہر محمد انور ناز‘ مہر ریاض احمد‘ خالد سہیل بلو اور پیر آفتاب شاہ پر مشتمل معززین کے وفد نے ایم این اے چوہدری نصیر احمد عباس سدھو سے ملاقات کر کے ان کو خطرے سے آگاہ کیا اور بطور عوامی نمائندہ جان کر معاملہ میں مداخلت کی درخواست کی۔ جس پر ایم این اے چوہدری نصیر احمد عباس سدھو نے سیاسی راہنما قیصر اسحاق مغل اور ممتاز سیاسی و کاروباری راہنما میاں کامران ادریس کو ذمہ داری دی کہ تین دھڑوں کے والدین سے مل کر ان کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کریں۔
جس پر قیصر اسحاق مغل اور میاں کامران ادریس نے تمام دھڑوں سے مسلسل رابطہ کیا۔ نوجوانوں سے ملاقاتیں کر کے ان کو معاملہ سنگین ہونے سے قبل ختم کرنے اور والدین کو اپنے بچوں کو جھگڑوں سے نکالنے کے لئے کاوش کرنے پر راضی کیا۔ جب تمام فریقین راضی ہو گئے تو گزشتہ روز عوامی رابطہ آفس ہیلاں روڈ پر تینوں فریقین اور جاوید پیرزادہ سمیت زخمی نوجوانوں کے والدین اکٹھے ہوئے۔ اس موقع پر SHO تھانہ ڈنگہ جہانگیر علی چدھڑ‘ قیصر اسحاق مغل‘ میاں کامران ادریس‘ چوہدری وقاص شمشاد‘ مہر انور سہلوانہ‘ مہر محمد انور ناز‘ مہر محمد ریاض‘ راجہ خالد پرویز‘ سید نوازش علی شاہ‘ چوہدری خالد اسلم آہیر‘ حاجی محمد حنیف جوڑا‘ پیر آفتاب شاہ‘ شبیر حسین بٹ‘ حنان بٹ‘ سید باقر علی شاہ سمیت سینکڑوں معززین موجود تھے۔
چوہدری نصیر عباس سدھو نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ اب نوجوانوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ حالات بہتر نہیں رہے۔ میں ان تمام افراد کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ڈنگہ میں امن و امان قائم کرنے میں اپنی اپنی کاوشیں کیں۔ میں تمام نوجوانوں سے کہوں گا کہ اب وہ بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ میں SHO صاحب سے کہتا ہوں کہ اگر اب بھی یہ نوجوان لڑائی جھگڑے سے باز نہ آئے تو ان کو قانونی کاروائی کی آزادی ہو گی۔ میں قیصر اسحاق مغل‘ میاں کامران ادریس کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے دو ہفتے تک مسلسل کاوش کر کے معاملہ حل کروایا۔ سید باقر شاہ‘ حنان بٹ ایک دوسرے سے ملے اور جاوید پیرزادہ اپنے بچے سمیت کھڑا ہوا اور زخمی کرنے والوں کو معاف کر دیا۔



