جولائی 17, 2026

بہاولنگر: مسجد عثمان غنیؓ زمین تنازع کی اصل کہانی

کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

​ مسجد اللہ کا گھر ہے جہاں سے امن اور اخوت کی صدائیں بلند ہونی چاہئیں، مگر جب دنیاوی مفادات اور زمین کے تنازعات ان مقدس دروازوں تک آن پہنچیں تو نہ صرف عمارتوں بلکہ معاشرے کا اجتماعی ضمیر بھی متاثر ہوتا ہے، اور چک مدرسہ، ٹبہ سلطان میں قائم نصف صدی پرانی "مسجد عثمان غنیؓ” کی تعمیر و توسیع کا التوا اسی نوعیت کا ایک المیہ ہے جس نے اہلِ علاقہ کے دلوں کو بوجھل کر رکھا ہے۔ دستیاب شواہد اور ریکارڈ کے مطابق اس مسجد کی بنیاد تقریباً پچاس سال قبل مرحوم محمد یار نے رکھی تھی، جو اپنی محنت سے اس عبادت گاہ کو رونق بخشتے اور ذاتی خرچ پر بجلی فراہم کرتے رہے، جن کی وفات کے بعد سن 2004ء سے ان کے صاحبزادے محمد امجد نے اس مشن کو سنبھالا اور گزشتہ دو دہائیوں سے رمضان المبارک میں نمازِ تراویح اور ختمِ قرآنِ پاک کا اہتمام کرتے چلے آ رہے ہیں، یہاں تک کہ نمازیوں کی بڑھتی تعداد کے پیشِ نظر انہوں نے اپنی ملکیتی ساڑھے اکتیس مرلہ زمین میں سے مزید چھ مرلے رقبہ مسجد کے لیے وقف کر دیا تاکہ وضو خانہ اور چار دیواری کی تعمیر سے اللہ کے گھر کو وسعت دی جا سکے۔ رواں سال مارچ میں جب محمد امجد کی زیرِ نگرانی تعمیراتی کام کا آغاز ہوا تو شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے وہ یومیہ بنیادوں پر کام کی ویڈیوز اور اخراجات کے بلز مخیر حضرات کو ارسال کرتے رہے تاکہ اہلِ علاقہ کا اعتماد بحال رہے، مگر افسوس کہ جب یہ نیک کام تکمیل کے قریب پہنچا تو یکایک ایک ہمسائے اصغر ولد شوکت نے عدالتی سٹے آرڈر کا سہارا لے کر کام رکووا دیا، جبکہ اسی دوران ارشد ولد انور نامی ایک اور ہمسائے کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر بہاولنگر کو ایک درخواست موصول ہوئی جس میں مسجد کی تین مرلہ زمین پر ناجائز قبضے کا دعویٰ کیا گیا۔ تحقیقات سے یہ تلخ حقیقت عیاں ہوئی کہ اصغر وغیرہ نے مسجد کی تعمیر شروع ہونے کے ایک ماہ بعد، ضلع پاکپتن کی رہائشی ایک خاتون سے اس کے وراثتی مشترکہ کھاتہ میں سے "بلا قبضہ” دس مرلہ زمین مورخہ 30 اپریل 2026ء کو اپنے نام رجسٹری کروائی اور اسی فرضی بنیاد پر عدالت سے حقائق چھپا کر سٹے آرڈر حاصل کر لیا، دوسری طرف 4 مئی کو ارشد ولد انور نے بھی حقائق کو مسخ کرتے ہوئے انتظامیہ کو درخواست دی، لیکن محکمہ مال کے پٹواری، گرداور اور تحصیلدار کی انکوائری رپورٹ نے ان تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے جس میں واضح کیا گیا کہ مسجد گزشتہ پچاس سال سے اسی مقام پر قائم ہے اور جاری تعمیرات بھی اسی ملکیتی رقبے کے اندر ہیں۔ اس تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس تنازع کا واحد مقصد مسجد کی تعمیر کو روک کر انتظامی امور پر اثر و رسوخ حاصل کرنا ہے، لہٰذا آج اہلِ علاقہ کا مطالبہ نہایت واضح ہے کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائیں اور اگر کوئی شخص محض شرارتاً اس نیک کام میں رکاوٹ بن رہا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ اس کالم کے توسط سے ہم وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا ازخود نوٹس لیں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت جاری کریں کہ محکمہ مال کی رپورٹ کی روشنی میں مسجد عثمان غنیؓ کی تعمیر کی راہ میں حائل رکاوٹیں فی الفور دور کروائی جائیں، ہمیں امید ہے کہ آپ کے دورِ حکومت میں اللہ کے گھر کی تعمیر اور اہلِ علاقہ کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے اور ہم ڈپٹی کمشنر و اسسٹنٹ کمشنر بہاولنگر سے بھی امید رکھتے ہیں کہ وہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں گے تاکہ یہ عبادت گاہ جلد از جلد مکمل ہو سکے۔ آخر میں یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے، انصاف قائم کرنے اور اپنے گھروں کے ساتھ ساتھ اللہ کے گھروں کو بھی آباد رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین