جولائی 17, 2026

معاشرتی زوال اور معصوم بچپن کا تحفظ

تحریر: ڈاکٹر تصور حسین مرزا

کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس کی معیشت، بلند و بالا عمارتیں یا جدید ٹیکنالوجی نہیں ہوتیں، بلکہ اس کے اخلاق، انصاف اور وہ احساسِ تحفظ ہوتا ہے جو وہاں رہنے والے ہر فرد، خصوصاً عورتوں اور بچوں کو حاصل ہو۔ جب کسی ملک میں معصوم بچے خوف کے سائے میں زندگی گزارنے لگیں، والدین اپنے ہی بچوں کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے اضطراب کا شکار ہوں، اور آئے روز ایسے دل دہلا دینے والے واقعات سامنے آئیں جو انسانیت کے ماتھے پر بدنما داغ بن جائیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف قانون کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کی فکری اور اخلاقی بنیادیں متزلزل ہو چکی ہیں۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ حالیہ برسوں میں بچوں کے ساتھ تشدد، استحصال اور جنسی جرائم کے واقعات نے پوری قوم کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہر واقعے کے بعد چند روز تک مذمت، احتجاج، بیانات اور سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار ہوتا ہے، مگر پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ہم صرف افسوس کرتے رہیں گے؟ کب ہم ان اسباب کا سنجیدگی سے جائزہ لیں گے جو اس بگاڑ کو جنم دے رہے ہیں؟

معاشرتی اصلاح کا آغاز ہمیشہ گھر سے ہوتا ہے۔ والدین بچوں کے پہلے استاد ہوتے ہیں۔ اگر بچپن ہی سے اولاد کو دیانت، حیا، احترامِ انسانیت، قانون کی پابندی اور دوسروں کے حقوق کا شعور دیا جائے تو ایک متوازن شخصیت پروان چڑھتی ہے۔ بدقسمتی سے آج مصروفیات، معاشی دباؤ اور جدید طرزِ زندگی نے والدین اور اولاد کے درمیان فاصلے پیدا کر دیے ہیں۔ بچوں کی ضروریات تو پوری کی جاتی ہیں مگر ان کی ذہنی، اخلاقی اور جذباتی تربیت اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے۔

اسی طرح نوجوان نسل کے ہاتھ میں آنے والا موبائل فون ایک ایسی دنیا کا دروازہ کھول دیتا ہے جہاں مثبت معلومات کے ساتھ ساتھ غیر اخلاقی اور پرتشدد مواد بھی آسانی سے دستیاب ہے۔ جب اس استعمال پر کوئی نگرانی نہ ہو تو اس کے منفی اثرات شخصیت اور رویوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے والدین، اساتذہ اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کی طرف رہنمائی کریں۔

تعلیمی اداروں کا کردار بھی صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اسکول اور کالج کردار سازی کے مراکز ہوتے ہیں۔ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق ذاتی حفاظت، اچھے اور برے رویوں کی پہچان، اعتماد کے ساتھ اپنی بات کہنے کا حوصلہ اور دوسروں کے احترام کی تعلیم دینا بھی تعلیمی عمل کا حصہ ہونا چاہیے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں تعلیم صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ بن جائے اور انسان سازی کا عمل کمزور پڑ جائے، وہاں سماجی مسائل میں اضافہ ہونا فطری امر ہے۔

دوسری جانب قانون کی مؤثر عملداری ہر مہذب ریاست کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب جرم کرنے والا یہ محسوس کرے کہ قانون کی گرفت کمزور ہے، انصاف میں غیر ضروری تاخیر ہوگی یا اثر و رسوخ سزا سے بچا لے گا، تو جرائم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ تیز رفتار اور شفاف تحقیقات، غیر جانبدارانہ عدالتی کارروائی اور قانون کے مطابق بروقت سزا معاشرے میں اعتماد پیدا کرتی ہے اور جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

میڈیا اس پورے منظرنامے میں ایک مؤثر قوت ہے۔ صحافت کا مقصد صرف خبر دینا نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح، شعور کی بیداری اور ذمہ دارانہ رائے عامہ کی تشکیل بھی ہے۔ اگر میڈیا سنسنی خیزی سے گریز کرتے ہوئے بچوں کے تحفظ، اخلاقی تربیت، والدین کی ذمہ داری اور قانونی شعور کو اجاگر کرے تو یقیناً اس کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں، اس لیے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظلوم کی آواز بنیں اور اصلاحِ معاشرہ کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھیں۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ صرف حکومت یا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر تمام ذمہ داری ڈال دینا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ ایک صحت مند معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا ہے جب گھر، مسجد، مدرسہ، اسکول، کالج، میڈیا، سول سوسائٹی اور ریاست اپنے اپنے دائرۂ کار میں دیانت داری سے کردار ادا کریں۔ اگر ہم ہر واقعے کے بعد صرف افسوس کا اظہار کرتے رہیں اور اپنی عملی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کریں تو یہ المیے بار بار جنم لیتے رہیں گے۔

اسلامی تعلیمات بھی انسانی جان، عزت اور عصمت کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دیتی ہیں۔ قرآنِ کریم انسان کی عزت و حرمت کو عظیم مقام عطا کرتا ہے، جبکہ رسولِ اکرم ﷺ نے بچوں سے محبت، شفقت، عدل اور حسنِ سلوک کو ایمان کا حصہ قرار دیا۔ ایک اسلامی معاشرے میں ظلم، استحصال اور کمزور پر زیادتی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس لیے ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی عملی زندگی میں ان تعلیمات کو نافذ کریں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم وقتی جذبات سے نکل کر مستقل اصلاح کی طرف قدم بڑھائیں۔ والدین اپنی اولاد کے لیے وقت نکالیں، اساتذہ کردار سازی کو اپنی ذمہ داری سمجھیں، علماء اخلاقی اقدار کو فروغ دیں، میڈیا ذمہ دارانہ صحافت کو شعار بنائے، اور ریاست قانون کی بالادستی کو ہر حال میں یقینی بنائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمارے بچوں کو محفوظ مستقبل، ہمارے معاشرے کو اخلاقی استحکام اور ہماری قوم کو حقیقی ترقی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہوگا کہ کسی قوم کا مستقبل اس کے بچوں کے چہروں پر لکھی ہوئی مسکراہٹ سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر ہم اپنے معصوم بچوں کو خوف سے آزاد، محفوظ اور باوقار زندگی دے سکے تو یہی ہماری سب سے بڑی قومی کامیابی ہوگی، اور اگر اس میں ناکام رہے تو ترقی کے تمام دعوے اپنی حیثیت کھو دیں گے۔