جولائی 12, 2026

مرحوم بن جائیں، محروم نہیں

✍️ فیصل جنجوعہ

زندگی کا سب سے بڑا المیہ موت نہیں، بلکہ ایسی زندگی ہے جس میں انسان اپنے اخلاق، اپنے رشتوں اور اپنی انسانیت سے محروم ہو جائے۔ ہر انسان نے ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہے، اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ہمیں کب مرنا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم کس حال میں مرنا چاہتے ہیں؟ مرحوم بن کر یا محروم بن کر؟
"مرحوم” وہ ہوتا ہے جس کے لیے لوگ رحمت کی دعا کرتے ہیں، جس کی یاد خیر، محبت، انصاف اور خدمت کے ساتھ زندہ رہتی ہے۔ اس کے جانے کے بعد آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں، زبانیں اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہیں اور دل اس کی نیکیوں کو یاد کرتے ہیں۔ اس کی زندگی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں گزرتی ہے، نہ کہ مشکلات کھڑی کرنے میں۔ اس کے برعکس "محروم” صرف وہ نہیں جو دولت یا منصب سے محروم ہو، بلکہ وہ شخص بھی محروم ہے جو اقتدار، علم، شہرت یا دولت رکھنے کے باوجود محبت، عاجزی، دیانت، اخلاق اور انسانیت سے خالی ہو۔ ایسا انسان بظاہر کامیاب دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں وہ اپنے کردار کی اصل دولت کھو چکا ہوتا ہے۔ آج کا معاشرہ کامیابی کی نئی تعریفیں گھڑ رہا ہے۔ دولت، عہدہ، شہرت اور طاقت کو کامیابی سمجھ لیا گیا ہے، جبکہ سچائی، امانت، رحم، برداشت اور کردار کو ثانوی حیثیت دی جا رہی ہے۔ اسی سوچ نے ہمیں ظاہری ترقی تو دی، مگر اندر سے بے سکون اور باہم دور کر دیا۔ انسان کی اصل میراث اس کی جائیداد نہیں، بلکہ اس کا کردار ہوتا ہے۔ قبر میں نہ ڈگری ساتھ جاتی ہے، نہ بینک بیلنس، نہ عہدہ اور نہ شہرت۔ ساتھ جاتا ہے تو صرف انسان کا عمل، اس کی نیت اور وہ بھلائی جو اس نے دوسروں کے لیے چھوڑی ہوتی ہے۔ اسی لیے تاریخ میں وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جنہوں نے انسانیت کی خدمت کی، انصاف کیا اور لوگوں کے دل جیتے۔ وقت ابھی بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم اپنے رویے بدل سکتے ہیں، نفرت کو محبت سے، غرور کو عاجزی سے، انتقام کو معافی سے اور خود غرضی کو خدمت سے بدل سکتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو "مرحوم” بناتا ہے، ورنہ دنیا سے جانا تو سب نے ہے۔ آخر میں ہر انسان کو اپنے آپ سے صرف ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے: جب میری خبر وفات آئے گی تو لوگ میرے لیے دعا کریں گے یا صرف ایک خبر پڑھ کر آگے بڑھ جائیں گے؟
یہی سوال ہماری زندگی کا سب سے بڑا احتساب ہے مرحوم بننے کے لیے دولت نہیں، اچھا کردار چاہیے؛ کیونکہ دنیا سے جانے کے بعد انسان کی پہچان اس کی جائیداد نہیں، بلکہ اس کی نیک نامی ہوتی ہے۔