ستمبر 12, 2026

آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں سیکیورٹی خدشات کے باعث نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شریک نہیں ہوں گے، ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع

ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای شدید سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنے والد اور سابق رہبرِ انقلاب شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہیں کریں گے۔ تہران میں منعقدہ تعزیتی تقریب میں ایرانی شوریٰ نگہبان، صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی فوج کے کمانڈر سمیت دنیا بھر سے آئے وفود نے شہید رہبر کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس تاریخی نمازِ جنازہ میں کئی سربراہانِ مملکت سمیت دنیا کے 100 سے زائد ممالک کے مندوبین شریک ہو رہے ہیں جبکہ جلوسِ جنازہ میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت کا امکان ہے، جس کے پیشِ نظر ایرانی حکومت نے 8 جولائی کو ملک گیر سوگ کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے دفتر میں فرائض کی ادائیگی کے دوران دیگر حکام کے ہمراہ شہید ہو گئے تھے، جس کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا رہبرِ انقلاب منتخب کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں سابق سپریم لیڈر کی بیٹی، داماد اور نواسی بھی شہید ہوئے تھے۔ طے شدہ شیڈول کے مطابق نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد جسدِ خاکی کو تہران سے پہلے قُم، پھر عراق کے شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جہاں سے میت کو دوبارہ ایران لا کر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مشہد مقدس میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔