تحریر: راجہ شہزاد احمد (کھاریاں)
ایک وقت ایسا تھا کہ ہم ہر طرف یہ نعرہ سنتے تھے
چلو چلو دوبئ چلو
ڈنکی لگاؤ
ایران سے ترکی اور ترکی سے یونان
چلو چلو ڈنمارک چلو – PC change کرو۔وزٹ ویزا لگ جائے گا –
آج کل پورے پاکستان کے دور دراز کے علاقوں میں یہ نعرہ گونج رہا ہے
چلو چلو۔ کھاریاں چلو
ہر روز میں جنرل بس اسٹینڈ سے لیفٹ کو ٹرن لیتا ہوں اور ٹی ایچ کیو سے یو ٹرن لے کر کسی بھی بازار سے شہر کے بائیں طرف ان ہوتا ہوں راستے میں بے شمار مزدور لوگ فری دستر خوان کی طرف جاتے نظر آتے ہیں کسی کو لفٹ دیتا ہوں وہ ساتھ چل پڑتا ہے ان کے کوائف پوچھتا ہوں
تو میں نے مندرجہ زیل حیران کن انکشافات اکٹھے کیے ہیں
(1) کھاریاں میں شمالی وزیرستان ، باجوڑ ، پشاور ، سکھر ، داجل ، لاڑکانہ ، ڈیرہ غازی خان ، بھکر اور بے شمار دیگر علاقوں سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جو آتا ہے ادھر ہی سیٹ ہوتا ہے واپس جانے کا نام نہیں لیتا اور اپنے باقی رشتہ داروں کو بھی بلانا شروع کر دیتا ہے
(2) کھاریاں میں ان کو دوپہر اور شام کا بہترین کھانا فری ملتا ہے یہ صبح صرف ایک کپ چائے اور پراٹھا کھاتے ہیں باقی مزدوری کرتے ہیں دن میں دو مرتبہ چائے ٹھیکیدار کی طرف سے ملتی ہے۔ لہذا دوپہر اور شام کے کھانے کے پیسے بچ جاتے ہیں ۔اس طرح یہ کم و بیش 500 روپے کی ڈیلی بچت کرتے ہیں
(3) میں نے ایک بھکر کے مزدور سے پوچھا کہ آپ کھاریاں میں ہی کیوں آئے ؟ اس نے کہا کہ ہمارے علاقوں میں مزدوری” 800 روپے روزانہ ” ہے جو ضروری نہیں ہے کہ وقت پر مل بھی جائے۔ کھاریاں میں 1300 سے پندرہ سو دیہاڑی ہے جو ہر جمعرات کی شام کو باقاعدگی سے مل جاتی ہے اور دو وقت کا کھانا بھی فری ملتا ہے ۔۔۔اس طرح ہم مہینے میں، اپنے علاقوں کی نسبت، دوگنا کماتے ہیں بچت بھی زیادہ کرتے ہیں ۔
(4) ایک مونگ پھلی بیچنے والے نے بتایا کہ ہم چکوال سے 200 روپے کلو مونگ پھلی لاتے ہیں اور یہاں 800 روپے کلو بیچتے ہیں اگر ایک دن میں دس کلو مونگ پھلی بھی بک جائے تو روزانہ کا منافع پانچ اور چھ ہزار کے درمیان ہوتا ہے اس طرح مہینے میں ہم ڈیڑھ لاکھ سے زائد منافع کماتے ہیں کھاریاں والے بحث نہیں کرتے جو ریٹ لگاؤ اس پر ہی خرید لیتے ہیں -کھاریاں ہمارے لیے دوبئ ، ابو ظہبی اور یونان ، سپین جیسے "غریب ممالک "سے بہتر ہے-
کھاریاں کے اپنے لوگ ڈنکیا ں لگا کر باہر جاتے ہیں اور زندگی یورپ کو دے کر میت لے کر پاکستان ا جاتے ہیں کھاریاں میں بے شمار زمینیں جنوبی پنجاب سے آئے لوگوں نے ٹھیکے پر لی ہیں اور ان کو کاشت کرتے ہیں فصل آدھی آدھی کے فارمولے کے تحت بہترین کمائ کر رہے ہیں-
ہمیں کسی کے کھاریاں آنے پر اعتراض نہیں ہے سارے پاکستان کا حق ہے کہ وہ کھاریاں آئے لیکن
کھاریاں والو
ڈیمو گرافی بدل رہی ہے
مکانوں کے کرایے بڑھتے جا رہے ہیں مقامی افراد کو کاروبار کے لیے ، دکانیں نہیں ملتیں – یہ لوگ دکانیں لے رہے ہیں –
دیگر علاقوں سے آنے والے جتھوں کی صورت میں شام کو ٹہلتے نظر آتے ہیں جی ٹی روڈ ان سے بھرا ہوتا ہے۔ ہر جتھے میں ایک” لڑکا "بھی ہوتا ہے .خاص کر ان جتھوں میں جو قبائلی علاقوں ، بنوں یا لکی مروت سے آ رہے ہیں –
۔یہ لوگ صفائی نہیں رکھتے ۔دینی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں اور ان کی وجہ سے مقامی مزدوروں اور نوجوان طبقے کو تھوڑی مزدوری اور تھوڑی تنخواہ مل رہی ہے ۔۔نسوار کھا کر جگہ جگہ تھوکنا ، دس گز کی شلوار اٹھا کر سڑک کنارے ہی عین غین شروع کر دینا ۔شرفاء کے گھروں کی جو لڑکیاں بائیک یا سکوٹی چلاتی ہیں گردنیں موڑ موڑ کر ان کو گھورنا ، گٹکا ، چرس، پان کا استعمال کر کے ہر طرف پچکاریاں مارنا اور رنگ برنگے نقش بنانا ،لوڈر رکشا لے کر دس فٹ تک اس کو لاد کر ، رانگ سائیڈ سے روڈ پر پچاس ساٹھ کے ایم کی رفتار سے چلانا ،ناجائز تجاوزات کرنا ، ہو ہو کی آوازیں نکالنا ،دانت صاف نہ کرنا، ناخن نہ تراشنا ،
،ڈاڑ ھی سنت کے مطابق رکھنے کی بجائے پورے منہ پر پھیلانا ،دو منہ والی گالیاں دینا ، ان کا وطیرہ ہے ۔ یہ ثقافت تبدیل کر رہے ہیں ،ماتھے پر گھوری اور منہ پر آنکھوں تک بال ، پان سے لال کردہ ہونٹ، اور زبان ؟۔ ؟؟ ؟ ؟ ؟؟؟۔ ۔۔۔۔۔۔۔ہر بات اس لفظ سے شروع کرتے ہیں
"””””ہیں ؟
ہآ ؟
ہو ؟
اور بات یوں کرتے ہیں جیسے کسی کو پیچھے سے سر پر ڈانگ ماری جائے ۔۔۔
رکھ پبی سرکار کے مقامی جنگل میں یہ ٹرکوں کے حساب سے درخت کاٹ کاٹ کر بیچ رہے ہیں میرا خیال ہے کہ محکمہ جنگلات والے ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔مختصر یہ ہے کہ یہ ثقافتی آلودگی پھیلا رہے ہیں ۔۔
کھاریاں والو ۔۔۔۔۔اگر یہ سب کچھ جاری رہا تو بہت جلد ” کورنگی ٹاؤن کراچی ” بن جاؤ گے ۔۔۔۔۔۔ ابھی چند دن پہلے سندھ سے آئے ہوئے مزدوروں نے مقامی افراد کے ساتھ جھگڑا کیا لڑائ مار کٹائی ہوئ پولیس تک بات پہنچی جس پر مقامی ایس ایچ او نے تاو کھا کر ،اور تنگ آ کر اعلان کیا کہ "سندھی ” میرے علاقے سے نکل جائیں ۔۔۔۔اس پر بڑی لے دے ہوئی لیکن ایس ایچ او نے کہا کہ میں کسی نسلی تعصب کی بنیاد پر نہیں بلکہ امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے یہ کہ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔یہ لوگ جرائم کرتے ہیں ۔۔۔۔واٹر فلٹر پلانٹس سے ٹونٹیاں تک اتار کر لے جاتے ہیں ۔لیٹرینوں میں گندگی پھیلا کر پانی بھی نہیں بہاتے ۔۔نماز سے بہت دور ۔۔۔بدرمرجان میں ایک غیر مقامی مزدور نے مقامی مستری کے ساتھ ہاتھا پائی شروع کر دی جس کو ٹھیکیدار نے رکوایا ۔۔۔۔ان کی موجودگی میں مقامی جنگل چٹیل میدان بن جائے گا۔ ۔۔اگر یہ رہنا چاہتے ہیں تو قانون کی پاسداری کریں اور مقامی ثقافت کا احترام کریں ۔۔
اللہ گواہ ہے کہ میں نسلی تعصب کے سخت خلاف ہوں لیکن جب اپنے شہر میں ہونے والی یہ gradually cultural change
دیکھتا ہوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ کیا اس کے منفی آفثر شاکس کے بارے میں کسی نے سوچا ہے ؟





