تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں آج حسب معمول چائے کے اس پرانے کھوکھے پر تشریف فرما نہیں تھے جہاں ان کی موجودگی محفل کی جان ہوا کرتی تھی نہ ان کے بائیں ہاتھ میں اخبار کا پلندہ تھا، نہ ان کے ہونٹوں پر وہ روایتی طنز و مزاح سے بھرپور جملے مچل رہے تھے اور نہ ہی چہرے پر وہ شوخی اور زندہ دلی تھی جو ہمیشہ سے ان کی منفرد پہچان رہی تھی۔ وہ تو اجڑے ہوئے دل کے ساتھ محلے کی قدیم مسجد کے وسیع صحن میں ایک پرانے اور گھنے درخت کے ٹھنڈے سائے تلے بالکل خاموش اور گم صم بیٹھے ہوئے تھےان کی اداس نگاہیں پتھر کی طرح زمین پر جمی ہوئی تھیں گویا وہ مٹی کی اس تپتی ہوئی گہرائی میں دفن کسی کھوئے ہوئے سچ کو تلاش کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہوں اور ان کے چہرے کی جھریاں وقت کے کسی بڑے المیے کی گواہی دے رہی تھیں۔ میں نے جب ان کی یہ غیر معمولی حالت دیکھی تو مجھ سے رہا نہ گیا میں نے قدم بڑھائے اور ان کے بالکل قریب جا کر انتہائی ادب اور دردمندی سے پوچھا کہ بندن میاں خیریت تو ہےآخر آج قوم کے درد اور ملک کی فکر نے آپ جیسے زندہ دل انسان کو اس قدر خاموش، اداس اور تنہا کیوں کر دیا ہے کہ آپ دنیا و مافیہا سے بے خبر یہاں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے میری آواز سن کر بہت دھیرے سے اپنا بوجھل سر اٹھایا اور مجھے ایسی گہری اور نمناک نگاہوں سے دیکھا جن میں بیک وقت صدیوں کا کرب، شدید غصہ، دلی صدمہ اور ایک عجیب سی بے بسی واضح طور پر جھلک رہی تھی پھر انہوں نے ایک سرد آہ بھری اور انتہائی دھیمی مگر لرزتی ہوئی آواز میں بولے کہ میاں بھائی آج کل دل اس قدر بوجھل ہے کہ سینے میں سانس لینا بھی محال محسوس ہوتا ہے کیونکہ میرے اپنے گھر میں جوان اور معصوم بیٹیاں ہیں اور باہر پورے شہر میں درندے آزادانہ دندناتے پھر رہے ہیں جنہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ آج کے اس بھیانک دور میں نہ تو تین سال کی معصوم اور نادان بچیاں محفوظ ہیں نہ کھیل کود میں مگن کمسن بچے محفوظ ہیں نہ چادر اور نقاب میں لپٹی ہوئی باحیا عورت محفوظ ہے نہ کتابیں سینے سے لگائے کالج جانے والی کوئی طالبہ محفوظ ہے نہ سر پر حجاب اوڑھے کسی کی عزت دار بیٹی محفوظ ہے اور نہ ہی وہ بوڑھی یا جوان ماں محفوظ ہے جو اپنے جگر گوشوں کے بہتر، روشن اور سنہرے مستقبل کے خوبصورت خواب اپنی آنکھوں میں سجائے رزق حلال کی تلاش میں گھر کی دہلیز سے باہر نکلتی ہے۔ بندن میاں ایک لمحے کے لیے رکے، اپنی لرزتی ہوئی انگلیوں سے عینک کو درست کیا اور پھر گویا ہوئے کہ میں دن رات بس یہی سوچتا رہتا ہوں کہ آخر ہم کس بھیانک، بے حس اور تاریک معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں کا انسان چاند اور ستاروں پر کمند ڈالنے کی بڑی بڑی باتیں کرتا ہے سائنس اور ٹیکنالوجی کے معجزات پر فخر کرتا ہے لیکن اپنی ہی گلی کے ایک معصوم اور بے گناہ بچے کو ہوس کے درندوں سے بچانے میں بری طرح ناکام ہو جاتا ہے۔ جہاں روزانہ بڑے بڑے سیاسی اور مذہبی جلسوں میں، ٹی وی اسکرینوں پر اور اونچے منبروں سے اخلاقیات، شرافت اور انسانی حقوق کے طویل اور دلفریب درس دیے جاتے ہیں مگر انہی شہروں کی تاریک گلیوں اور چوراہوں میں روز معصوم کلیاں بے رحمی سے مسل دی جاتی ہیں ان کا بچپن چھین لیا جاتا ہے اور وہ وحشی درندے قانون کی گرفت سے دور آزاد گھومتے رہتے ہیں۔ انہوں نے انتہائی دکھ کے ساتھ کہا کہ ابھی چند ہی روز پہلے میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسی دردناک اور ہولناک خبریں مسلسل گردش کرتی رہیں جنہوں نے پوری انسانیت کا سر شرم اور ندامت سے جھکا دیا ہے کہیں ایک کمسن اور نا سمجھ بچی درندگی کا شکار ہو کر ہسپتال کے بستر پر دم توڑ گئی، کہیں ایک معصوم بچے کی مسخ شدہ لاش کسی سنسان ویرانے یا کچرے کے ڈھیر سے ملی، کہیں درسگاہوں میں علم حاصل کرنے والی ایک طالبہ کو وحشی صفت عناصر نے ہراساں کر کے اس کا مستقبل تاریک کر دیا اور کہیں ایک معصوم جان کی زندگی چند لمحوں کی حوس کی بھینٹ چڑھ کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ یہ صرف اخبارات کے صفحات پر چھپنے والی یا ٹی وی اسکرین پر چلنے والی خبریں نہیں ہیں بلکہ یہ اس پوری بے حس قوم کے مرے ہوئے ضمیر پر لگے ہوئے وہ گہرے اور رساؤ دار زخم ہیں جن کا کوئی علاج نظر نہیں آتا۔ بندن میاں نے ایک بار پھر اپنی عینک کے شیشوں کو صاف کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں بڑا ہی عجیب تماشا برپا ہے ایک طرف شہر کے چوکوں، چوراہوں اور بازاروں میں غیر قانونی اسلحہ لہرانے والے، غنڈہ گردی کرنے والے اور اپنے نیفے میں پستول اڑس کر گھومنے والے اوباش نوجوان خود کو بہت بڑا بہادر، سورما اور طاقتور سمجھتے ہیں اور دوسری طرف معصوم بچوں اور بے بس بچیوں کو تحفظ فراہم کرنے والا ہمارا پورا ریاستی نظام انتہائی کمزور، لاچار اور مفلوج دکھائی دیتا ہے۔ اگر کسی ملک یا ریاست کی رٹ صرف ایک غریب، کمزور اور بے بس آدمی تک ہی محدود ہو اور وہ معاشرے کے بااثر، ظالم اور طاقتور مجرم کے سامنے بالکل بے بس اور لاچار نظر آئے تو پھر ایسے ہی گھناؤنے، لرزہ خیز اور وحشیانہ جرائم جنم لیتے ہیں جن کا ہم روز سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بہت طویل اور سرد سانس لی اور نم آنکھوں کے ساتھ کہا کہ مجھے اب اس بات پر بالکل افسوس نہیں ہوتا کہ معاشرے میں جرائم کیوں ہو رہے ہیں کیونکہ جرم، گناہ اور برائی تو دنیا کے ہر چھوٹے بڑے معاشرے میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتی ہے، بلکہ مجھے تو اصل افسوس، صدمہ اور حیرت اس بات پر ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جس نے اب جرم پر حیران ہونا ہی چھوڑ دیا ہے اور ہماری حس بالکل مر چکی ہے۔ ہم کسی بھی بڑے واقعے کے بعد صرف چند دن شور مچاتے ہیں چند دن سوشل میڈیا پر موم بتیاں جلا کر اور ہیش ٹیگ بنا کر اپنا وقتی غصہ نکالتے ہیں چند دن مذمتی بیانات اور اخباری سرخیاں سامنے آتی ہیں پھر ہم سب مصلحت کی چادر تان کر دوبارہ خاموش ہو جاتے ہیں اور وہ درندے ہمارے اس سکوت کا فائدہ اٹھا کر اگلے کسی معصوم شکار کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ بندن میاں کے پختہ نظریات کے مطابق یہ سنگین مسئلہ صرف قانون کے نافذ نہ ہونے کا نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے پورے معاشرتی، اخلاقی اور تمدنی ڈھانچے کی تباہی اور گہرے بحران کا واضح پیش خیمہ ہے۔ جب گھروں کے اندر والدین کی طرف سے بچوں کی تربیت کمزور ہو جائے، جب ہمارے تعلیمی اداروں سے اخلاقی درس اور کردار سازی کا جنازہ نکل جائے اور وہاں صرف ڈگریوں کی فروخت شروع ہو جائے، جب میڈیا کا ایک بڑا حصہ سماجی شعور بیدار کرنے کے بجائے صرف ریٹنگ اور سنسنی خیزی کو ترجیح دینے لگے، جب عدالتوں میں انصاف کی فراہمی میں تاخیر ایک معمول اور روایت بن جائے اور جب ایک مجرم کو یہ پورا یقین ہو کہ وہ اپنے پیسے، اثر و رسوخ یا نظام کی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر قانون کے شکنجے سے باآسانی بچ نکلے گا تو پھر کسی بھی معاشرے میں انسان نہیں بلکہ بھیڑیے اور درندے پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے انتہائی دردمندی سے کہا کہ میں نے اپنی اس طویل زندگی میں اس ملک کے اندر شدید غربت بھی دیکھی ہے بدترین مہنگائی کے دور بھی بھگتے ہیں اور بڑے بڑے سیاسی و آئینی بحران بھی ملاحظہ کیے ہیں مگر جو شدید خوف، ہراس اور عدم تحفظ کا سایہ آج کے والدین کے مرجھائے ہوئے چہروں پر نظر آتا ہے خدا کی قسم میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسا بھیانک خوف پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ آج ایک بوڑھا باپ اپنی بیٹی کے اسکول، کالج یا یونیورسٹی جانے کے بعد اس کی محفوظ واپسی تک مصلے پر بیٹھ کر دعائیں مانگتا رہتا ہے اور شدید پریشان رہتا ہے ایک ممتا سے بھرپور ماں اپنے ننھے بچے کو گلی میں چند لمحوں کے لیے کھیلنے کی اجازت دینے سے ڈرتی ہے ایک سگی بہن شام کے سائے گہرے ہونے کے بعد گھر سے تنہا باہر نکلنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی آخر یہ کیسا بدبودار اور وحشی معاشرہ بن گیا ہے جہاں خوف ہمارا مستقل مہمان اور مقدر بن چکا ہے اور سکون رخصت ہو گیا ہے۔ بندن میاں نے جذباتی انداز میں کہا کہ دین اسلام نے تو عورت کو کائنات کی سب سے عظیم عزت و تکریم دی تھی معصوم بچے کو اللہ کی خاص رحمت اور گھر کی رونق قرار دیا تھا ماں کے مقدس قدموں تلے جنت جیسی نعمت رکھ دی تھی اور بیٹی کی پرورش کو جہنم کی آگ سے نجات اور جنت کا پروانہ کہا تھا مگر ہم نے اپنے سیاہ اعمال، منافقت اور بے حسی سے اس پاکیزہ اور روشن تعلیم کو کہاں لا کھڑا کیا ہے کہ آج اگر کوئی بدبخت شخص کسی ایک معصوم بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا ہے یا اسے نقصان پہنچاتا ہے تو وہ درحقیقت صرف ایک خاندان پر ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ پوری کائنات، انسانیت اور اسلامی اقدار کے خلاف ایک بہت بڑا اور ناقابل معافی جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ انہوں نے غصے اور جلال میں کہا کہ کسی بھی ملک کے اندر وقت کی حکومت کی سب سے پہلی، بنیادی اور آئینی ذمہ داری اپنے شہریوں کی جان، مال، آبرو اور عزت کا بلاامتیاز تحفظ کرنا ہوتا ہےاگر کسی ملک کا ایک معصوم بچہ اپنے ہی گھر کے باہر محفوظ نہیں ہے اگر ایک نوجوان طالبہ سڑک پر چلتے ہوئے خوف اور دہشت کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے اگر ایک دکھی ماں اپنی بیٹی کی شام کو گھر واپسی تک شدید بے چینی اور اضطراب کا شکار رہتی ہے تو اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پورے حکومتی، انتظامی اور ریاستی نظام میں کہیں نہ کہیں بہت بڑی، ہولناک اور بنیادی خامی موجود ہے جسے دور کرنے میں حکمران مخلص نہیں ہیں۔ بندن میاں کا یہ پختہ خیال تھا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر صرف نئے نئے قوانین بنانے، کتب خانوں کو سزاؤں کی دفعات سے بھرنے اور کاغذات پر دستخط کرنے سے یہ سنگین مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا بلکہ اصل اور وقت کی سب سے بڑی ضرورت ان موجودہ قوانین پر فوری، بے لاگ اور بلا امتیاز عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے کیونکہ جب تک ایک عام یا خاص مجرم کو اس کے گناہ کی فوری اور عبرتناک سزا سرعام نہیں ملے گی جب تک جرائم کی تحقیقات سائنسی، جدید اور شفاف طریقوں سے نہیں ہوں گی، جب تک ہماری پولیس اور عدالتی نظام کو ہر قسم کے سیاسی اثر و رسوخ، رشوت اور سفارش سے پاک کر کے مضبوط اور خودمختیار نہیں کیا جائے گا تب تک معاشرے کے یہ رستے ہوئے زخم کبھی نہیں بھر سکتے اور نہ ہی امن قائم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہر اسکول، مدرسے اور تعلیمی ادارے میں بچوں کو بچپن ہی سے اپنی حفاظت کے بنیادی اصول اور گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کی تمیز سکھائی جائے ہر والدین کو اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی شعوری آگاہی دی جائے ہر محلے اور گلی میں مقامی سطح پر نگرانی کا ایک مؤثر، فعال اور بیدار نظام تشکیل دیا جائے ہر چھوٹے بڑے شہر میں معصوم بچوں کے تحفظ، داد رسی اور فوری کارروائی کے لیے خصوصی اور جدید پولیس یونٹ قائم کیے جائیں اور ہر اس درندے کو ایسی عبرتناک، ہولناک اور تاریخی سزا دی جائے جو کسی بھی معصوم بچے یا بچی کی پاکیزہ معصومیت پر حملہ کرنے کی جرات کرے۔ پھر بندن میاں نے انتہائی مایوسی اور التجا کی کیفیت میں اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر نیلے آسمان کی طرف دیکھا اور نم آلود آواز میں کہا کہ دنیا کی قومیں صرف چمکتی ہوئی سڑکوں، بڑے بڑے فلائی اوورز، موٹرویز اور بلند و بالا سیمنٹ کی عمارتوں سے کبھی ترقی یافتہ یا مہذب نہیں بنتیں قومیں تو تب حقیقی ترقی کے راستے پر گامزن ہوتی ہیں جب ان کے معصوم بچے اپنے ملک کی مٹی پر بالکل محفوظ اور بے خوف ہوں جب ان کی بیٹیاں سڑکوں پر سر اٹھا کر باوقار انداز میں چل سکیں جب ان کے بوڑھے شہری اپنے مستقبل اور نظام انصاف سے مطمئن ہوں اور جب ملک کا قانون اور انصاف کسی طاقتور فرعون اور ایک غریب کمزور شہری کے لیے بالکل برابر اور یکساں کام کرے۔ انہوں نے تاریخی سچائی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے میاں بھائی یاد رکھو اگر آج ہم نے عقل کے ناخن نہ لیے اور اپنے معصوم بچوں کو ایک محفوظ، پرامن اور پاکیزہ ماحول فراہم نہ کیا تو کل آنے والی تاریخ اور ہماری اپنی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی کیونکہ کسی بھی زندہ قوم کا اصل سرمایہ ان کے بینکوں میں موجود غیر ملکی خزانے، ڈالر یا سونے کے ذخائر نہیں ہوتے بلکہ ان کے وہ معصوم بچے ہوتے ہیں جو مستقبل کے معمار ہیں اور اگر کسی ملک کے خزانے تو بالکل محفوظ ہوں لیکن اس کے بچے غیر محفوظ اور درندوں کے رحم و کرم پر ہوں تو وہ قوم اندر سے بالکل کھوکھلی، مردہ اور برباد ہو جاتی ہے۔ یہ دردناک باتیں مکمل کرنے کے بعد بندن میاں اپنی جگہ سے اٹھے، اپنے کپڑے جھاڑے اور جاتے جاتے انتہائی سنجیدگی سے بس اتنا کہہ گئے کہ اب وقت ختم ہو رہا ہےحکومت کو اپنے خواب غفلت سے جاگ کر اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی ہماری عدالتوں کو انصاف کی رفتار بڑھا کر مجرموں کو لٹکانا ہوگا والدین کو اپنے بچوں پر نگرانی کا نظام مزید سخت اور مضبوط بنانا ہوگا اساتذہ کو کتابی علم کے ساتھ ساتھ کردار سازی کا فراموش کردہ کردار دوبارہ ادا کرنا ہوگا اور اس معاشرے کے ہر باضمیر فرد کو اپنے حصّے کی آواز بلند کرنی ہوگی کیونکہ ایسے سنگین حالات میں مجرمانہ خاموشی ہمیشہ ظالم اور درندے کا ساتھ دیتی ہے اور اٹھنے والی حق کی آواز ہمیشہ کسی مظلوم کی آخری امید بنتی ہے۔ اور جس دن اس بدقسمت ملک کی ہر ماں اپنی لاڈلی بیٹی کو کسی بھی خوف، ڈر اور ہراس کے بغیر ہنستے مسکراتے گھر سے رخصت کرے گی اور ہر ننھا بچہ گلیوں میں بغیر کسی درندے کے خوف کے محفوظ ماحول میں کھیل سکے گا، یقین مانو اسی دن ہمارا پیارا پاکستان دنیا کے نقشے پر حقیقی معنوں میں ایک مہذب، اسلامی، پرامن اور مضبوط ترین ریاست کہلانے کا حق دار بن سکے گا ورنہ ہم یوں ہی سسکتے رہیں گے۔





