از قلم: فیصل جنجوعہ
آج ہم اکثر افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ "17 سال کی عمر میں محمد بن قاسم نے برصغیر میں ایک تاریخی مہم کی قیادت کی، جبکہ آج کا نوجوان سوشل میڈیا پر لائکس اور فالوورز کی دوڑ میں مصروف ہے۔” اگرچہ یہ تقابل ہر نوجوان کی درست تصویر پیش نہیں کرتا، لیکن یہ ضرور ایک اہم سوال اٹھاتا ہے کہ ہماری ترجیحات کہاں جا پہنچی ہیں؟ ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا ہم نے اپنی نئی نسل کو صرف جدید سہولتیں دیں، یا انہیں مضبوط کردار بھی دیا؟ کیا ہم نے انہیں قرآنِ مجید سے جوڑا یا صرف وائی فائی سے؟ کیا ہم نے انہیں مسجد، کتاب، علم، ادب اور تاریخ کا راستہ دکھایا، یا ان کے ہاتھوں میں صرف موبائل فون، گیمز اور سوشل میڈیا تھما دیا؟ آج کا سب سے بڑا مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ اس کا بے مقصد استعمال ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت علم حاصل کرنے کے بہترین ذرائع بن سکتے ہیں، لیکن جب یہی چیزیں وقت، اخلاق اور شخصیت کو نگلنے لگیں تو یہ ترقی نہیں بلکہ زوال کی علامت بن جاتی ہیں۔
ایک مضبوط قوم صرف اعلیٰ عمارتوں، سڑکوں یا جدید آلات سے نہیں بنتی بلکہ کردار، دیانت، علم، محنت، قربانی، حیا اور ذمہ داری سے بنتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان بڑے خواب دیکھیں، قیادت کریں اور دنیا میں مثبت کردار ادا کریں تو ہمیں ان کی تربیت پر وہی توجہ دینی ہوگی جو ان کی تعلیم پر دیتے ہیں۔ والدین بچے کی پہلی درسگاہ ہیں۔ گھر وہ جگہ ہے جہاں بچے سچ بولنا، احترام کرنا، عبادت، نظم و ضبط اور انسانیت سیکھتے ہیں۔ اگر گھروں میں اخلاقی تربیت کمزور ہو جائے تو صرف تعلیمی ادارے اس خلا کو مکمل طور پر پُر نہیں کر سکتے۔ اسی طرح اساتذہ، مذہبی رہنما، میڈیا اور ریاست بھی نوجوانوں کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کے نوجوانوں میں بے شمار صلاحیتیں موجود ہیں۔ دنیا بھر میں پاکستانی نوجوان تعلیم، تحقیق، کھیل، کاروبار اور ٹیکنالوجی کے میدان میں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان کی توانائی کو درست سمت دیں، انہیں مقصدِ حیات سے روشناس کرائیں اور ان میں خود اعتمادی، کردار اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کریں۔ قومیں صرف پیدا نہیں ہوتیں، بلکہ مسلسل تربیت، تعلیم، محنت اور اعلیٰ اقدار کے ذریعے تیار کی جاتی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسل تاریخ ساز کردار ادا کرے تو ہمیں آج ہی اپنے گھروں، اسکولوں اور معاشرے میں علم، اخلاق، حیا، نظم و ضبط اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو فروغ دینا ہوگا۔ عظیم نوجوان اتفاق سے نہیں بنتے، بلکہ عظیم تربیت، عظیم اساتذہ، عظیم والدین اور عظیم اقدار انہیں عظیم بناتی ہیں۔





