جون 28, 2026

آزاد کشمیر کے تاجر اور ٹرانسپورٹ رہنماؤں کا عوامی ایکشن کمیٹی سے علیحدگی اور 29 جون سے کاروبار و ٹرانسپورٹ مکمل کھولنے کا اعلان

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے مرکزی تاجروں اور ٹرانسپورٹ رہنماؤں نے 29 جون سے ریاست بھر میں تمام کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ سرگرمیاں مکمل طور پر کھلی رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مظفرآباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے واضح کیا کہ جب تک عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم نہیں ہوئی تھی، ہم اس کے ساتھ کھڑے تھے، لیکن اب ہم اس کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ہم پاک فوج، پاکستانی عوام اور حکومت کے خلاف کسی صورت نہیں ہو سکتے اور پاکستان نے ہر مشکل گھڑی میں ہمارا جو ساتھ دیا ہے، ہم اسے کبھی نہیں بھول سکتے۔

پریس کانفرنس کے دوران رہنماؤں نے راولاکوٹ میں احتجاج کرنے والے عناصر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ "راولاکوٹ میں بیٹھے یہ کون لوگ ہیں؟ ہم ان کے فیصلوں کے ساتھ بالکل نہیں ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ 12 سیٹوں کا معاملہ ایک آئینی مسئلہ ہے، جو کہ عام عوام کا مسئلہ کبھی نہیں رہا۔ انہوں نے احتجاج کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ صبح کا بھولا اگر شام کو گھر آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے، وہ اب بھی واپس آ جائیں۔ اس موقع پر تاجر رہنما گوہر کشمیری نے خصوصی اپیل کی کہ 29 جون کو تمام تاجر بلا خوف و خطر اپنے کاروبار شروع کریں۔

دوسری جانب، آزاد کشمیر میں معمولاتِ زندگی کہیں مکمل اور کہیں جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ دارالحکومت مظفرآباد شہر میں میڈیکل اسٹورز، سبزی و فروٹ کی دکانیں اور بیکریاں کھل چکی ہیں، جبکہ میرپور، بھمبر اور وادی نیلم کے علاقے آٹھ مقام میں بھی کاروباری مراکز جزوی طور پر کھول دیے گئے ہیں جس سے رونقیں بحال ہو رہی ہیں۔