بہاولنگر (رپورٹ: محمد شہزاد بھٹی) بہاولنگر چڑیا گھر میں قید جانوروں کی حالت زار اور انتظامیہ کی مبینہ غفلت نے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے، جہاں تصاویر میں واضح طور پر بندروں کو شدید بیماری، جسمانی کمزوری اور تنہائی میں مبتلا دیکھا جا سکتا ہے۔ جانوروں کی پشت پر زخموں کے نشانات اور ان کی لاغر جسمانی حالت اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہیں بنیادی طبی سہولیات اور مناسب دیکھ بھال میسر نہیں ہے۔ مقامی حلقوں کی جانب سے یہ سنگین الزام عائد کیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے جانوروں کی خوراک اور دیکھ بھال کے لیے مختص کیے جانے والے بھاری فنڈز خوردبرد کیے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں جانور بھوک اور بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ وائلڈ لائف کے اعلیٰ حکام بشمول ڈائریکٹر جنرل وائلڈ لائف، کنزرویٹر اور ڈویژنل وائلڈ لائف آفیسر سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور چڑیا گھر انتظامیہ کی جانب سے خوراک کی مد میں جاری فنڈز کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کریں۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جانوروں کی اس کربناک صورتحال کے ذمے دار کیوریٹر اور متعلقہ عملے کے خلاف فوری محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ان بے زبان جانوروں کو مزید اذیت سے بچایا جا سکے۔





