جون 20, 2026

کالعدم ایکشن کمیٹی سرنڈر کرے تو نوٹیفکیشن واپسی ممکن؛ مودی حکومت نے پانی بند کیا تو پاکستان جنگ کے لیے تیار ہے؛ بلاول بھٹو کا قومی اسمبلی میں دبنگ خطاب

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی غیر مشروط طور پر سرنڈر کرتی ہے اور اپنا احتجاج ختم کرتی ہے، تو ان پر سے پابندی کا نوٹیفکیشن واپس لیا جا سکتا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے مسائل اور اشیاء خورونوش کی قلت پاکستان کی ساکھ اور کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ اس سے پہلے کہ ریاست کو زبردستی کرنی پڑے، وہ اپنی صفوں سے انتہا پسندوں اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کو فوری الگ کریں۔

چیئرمین پی پی پی نے مہاجرین کی نشستوں کے تنازع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ بندوق کے زور پر، دھرنوں یا دھمکیوں سے حل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کا واحد حل بات چیت اور قانون سازی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری خود کریں گے اور مہاجرین کو ووٹ کا حق ملنا چاہیے، تاہم بار بار وہاں کے عوام کو یرغمال بننے نہیں دیا جائے گا۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وہ آزاد کشمیر کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں، اسے مقبوضہ کشمیر بنتا نہیں دیکھ سکتے۔ اگر کوئی ریاست کو نشانہ بنائے گا تو ایکشن ضرور ہوگا۔ دوسری جانب انہوں نے پانی کے بحران پر بات کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری کی وسطی ایشیا سے پاکستان میں اضافی پانی لانے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنے کا مشورہ دیا اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت وارننگ دی کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی بند کرنے کی کوشش کی تو پاکستان جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے عالمی حالات اور علاقائی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی اور نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ براہِ راست پاکستان کے خلاف کام کر رہا ہے۔ ایران پر ہونے والے حملوں پر اسرائیل اور بھارت مل کر خوشیاں منا رہے تھے اور یہ گٹھ جوڑ امریکا ایران حالیہ معاہدے کے بعد بھی ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت اور اسرائیل اس وقت پاکستان کو شدید نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور ملک کے اندر ہونے والے پرتشدد احتجاج ان دشمنوں کے مقاصد کو تقویت دے رہے ہیں۔ بلاول بھٹو نے عزم ظاہر کیا کہ مودی حکومت کی جانب سے بلوچستان اور خیبر پختونخوا (کے پی) میں کی جانے والی تمام سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا کیونکہ وہ کسی بیرونی ایجنسی کے نہیں بلکہ صرف پاکستان کے نمائندے ہیں اور ملک کے بہترین مفاد میں بات کرتے رہیں گے۔