جون 20, 2026

استاد رہنمائی کا چراغ، کتابیں علم کی بنیاد

از قلم: فیصل جنجوعہ

انسانی تہذیب کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے استاد کا احترام اور کتاب سے محبت کو اپنی ثقافت کا حصہ بنایا، وہی علم، تحقیق اور ترقی کی بلندیاں سر کرتی رہیں۔ استاد وہ چراغ ہے جو اپنی ذات کو جلا کر دوسروں کی زندگیوں کو روشن کرتا ہے، جبکہ کتاب وہ مضبوط بنیاد ہے جس پر علم، شعور اور کردار کی عظیم عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ استاد صرف نصاب پڑھانے والا فرد نہیں بلکہ وہ ایک رہنما، مربی اور کردار ساز ہوتا ہے۔ وہ طلبہ کی صلاحیتوں کو پہچانتا ہے، ان کی سوچ کو جِلا بخشتا ہے اور انہیں زندگی کے نشیب و فراز کا سامنا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ ایک مخلص استاد اپنے شاگردوں کو صرف امتحان میں کامیابی نہیں بلکہ زندگی میں کامیاب انسان بننے کا ہنر بھی سکھاتا ہے۔ دوسری جانب کتاب انسان کی سب سے وفادار دوست ہے۔ یہ نسلوں کے تجربات، دانش اور تحقیق کو اپنے صفحات میں محفوظ رکھتی ہے۔ کتابیں انسان کو سوال کرنا، سوچنا، تحقیق کرنا اور حقیقت تک پہنچنے کا راستہ دکھاتی ہیں۔ جو معاشرہ کتاب سے دور ہو جاتا ہے، وہ علم سے بھی دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ افسوس کہ جدید دور میں موبائل فون، مختصر ویڈیوز اور سوشل میڈیا نے مطالعے کی عادت کو کمزور کر دیا ہے۔ نوجوان معلومات تو حاصل کر رہے ہیں، مگر گہرائی، تحقیق اور فکری پختگی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ رجحان مستقبل کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیونکہ صرف معلومات نہیں بلکہ علم اور بصیرت ہی قوموں کی حقیقی طاقت ہوتی ہے۔ والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ بچوں میں کتاب دوستی کو فروغ دیں، لائبریری کلچر کو زندہ کریں اور استاد کے مقام و مرتبے سے انہیں آگاہ کریں۔ جب ایک طالب علم استاد کی رہنمائی اور کتاب کی روشنی کو اپنا سرمایہ بنا لیتا ہے تو کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ تاریخ کے عظیم سائنس دان، مفکر، ادیب اور رہنما اسی لیے عظیم بنے کہ انہوں نے اساتذہ سے رہنمائی حاصل کی اور کتابوں کو اپنا بہترین ساتھی بنایا۔ آج بھی اگر ہم ایک باشعور، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں استاد کا احترام اور کتاب سے محبت اپنی نئی نسل کی عادت بنانا ہوگی۔
یاد رکھیں! استاد راستہ دکھاتا ہے، کتاب منزل تک پہنچنے کا شعور عطا کرتی ہے۔ جب یہ دونوں نعمتیں ایک طالب علم کی زندگی میں جمع ہو جائیں تو کامیابی، کردار اور علم اس کا مقدر بن جاتے ہیں، اور یہی ایک روشن قوم کی پہچان ہے۔