کراچی کے معروف و سینئر جرنلسٹ اور کالمکار جاوید صدیقی نے نامور پاکستانی نژاد سعودی ماہرِ معاشیات، اسلامی اقتصادیات کے ممتاز اسکالر اور عالمی شہرت یافتہ دانشور ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا کے 93 برس کی عمر میں انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاوید صدیقی نے مرحوم کی زندگی اور خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عمر چھاپرا پاکستان کا فخر تھے، جنہوں نے تقریباً چھ دہائیوں تک سعودی عرب میں رہ کر معاشی پالیسی سازی، بینکاری اور مالیاتی نظام کے استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا اور عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا۔ ان کے انتقال سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پاکستان، عالمِ اسلام اور بین الاقوامی معاشی حلقے ایک عظیم دانشور سے محروم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر عمر چھاپرا نے اسلامی معاشیات کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اس شعبے میں گراں قدر تحقیقی اور علمی خدمات انجام دیں، اور ان کی تصانیف و نظریات آج بھی دنیا بھر کی جامعات اور مالیاتی اداروں کے لیے رہنمائی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ وہ علم، دیانت، سادگی اور خدمتِ خلق کا بہترین نمونہ تھے اور نوجوان ماہرینِ معاشیات کے لیے ایک مثالی استاد کی حیثیت رکھتے تھے۔
جاوید صدیقی نے بتایا کہ ڈاکٹر عمر چھاپرا سنہ 1965ء میں سعودی عرب منتقل ہونے والے اولین پاکستانیوں میں شامل تھے۔ اُس وقت وہ امریکہ کی یونیورسٹی آف وسکونسن اور یونیورسٹی آف کینٹکی میں معاشیات پڑھا رہے تھے جب سعودی عربین مانیٹری ایجنسی (سما) نے انہیں سعودی عرب آنے کی پیشکش کی۔ وہ (سما) کے پہلے پاکستانی ملازم تھے جنہوں نے شاہ فیصل کے دور میں سعودی عرب کے بینکاری اور مالیاتی نظام کی تشکیل میں بنیادی اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں سنہ 1990ء میں اسلامی مطالعات کے شعبے میں دنیا کے معتبر ترین "شاہ فیصل انٹرنیشنل پرائز” سے نوازا گیا، جبکہ سعودی حکومت نے ان کی خدمات کے صلے میں انہیں سعودی شہریت بھی عطا کی۔ وہ جدہ میں اسلامی ترقیاتی بینک کے اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے مشیر بھی رہے اور اسلامی مالیاتی نظام کے فروغ کے لیے ان کی کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں اور چاہنے والوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عمر چھاپرا کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا مدتوں پُر نہیں ہو سکے گا۔ واضح رہے کہ مرحوم کی نمازِ جنازہ مسجد الحرام میں ادا کی گئی جبکہ تدفین مکہ مکرمہ کے تاریخی قبرستان جنت المعلیٰ میں ہوئی۔ وہ فاران کلب انٹرنیشنل کے بانی صدر عبد الرحمن چھاپرا کے چھوٹے بھائی تھے۔



