جون 6, 2026

عزت اور کرسی بچالی گئی

تحریر: قاضی محمد فضل عثمان

آخر کار گرتے پڑتے پاکستان کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کی سی ٹیم کو ون ڈے سیریز میں ہرا ہی دیا ، ایک موقع پر تو لگ رہا تھا کہ پاکستان روائتی طریقہ کار سے اپنا گیم پیش کرکے بس ہارا ہی چاہتا ہے ، لیکن شاداب اور عبد الصمد کی مزاحمت کام آگئی ، اور ایک شرمندگی سے پاکستان کو بچا لیا گیا ۔
ٹیم کے سلیکشن کو لیکر بھی بہت بات چیت ہوتی رہی ہے ، لیکن جیسے تیسے کرکے پاکستان نے باؤلنگ میں گزارا کیا ہے ، باؤلنگ کو کسی امتحان کا سامنا نہیں کرنا پڑا ورنہ حارث رؤف اور شاہین آفریدی کئی بار پاکستان کو یادگار شکستیں فراہم کرچکے ہیں ، سپن وکٹیں بنا کر خود کو بچانے اور کرسیاں بچانے کی کوشش کی گئی ، لیکن اس کام سے بیٹنگ بری طرح ایکسپوز ہوئی ہے ۔
بیٹنگ میں فلو اور جوش نہیں ہے ، ہر کوئی ڈرا ڈرا سہما سہما کھیل رہا ہے جیسے دنیا کے سب سے بڑے باولر کا سب سے خطر ناک پچ پہ سامنا کررہا ہے ، پچ اگر چہ اتنی معیاری اور مدد گار نہیں تھی لیکن اتنی بھی بری نہیں تھی کہ آسٹریلیا کے درجہ چہارم کے باولرز کو وکٹیں تحفتا فراہم کردی جایئں ۔
پاکستان کے سب سے بڑے بیٹسمین کو دو مواقع ملے دونوں بار میچ ختم کیے بغیر واپس تشریف لائے اسے کیا کہا جاسکتا ہے ۔؟ نام بڑے اور درشن چھوٹے ۔بیٹنگ لائن اپ میں تجربہ اور اعتماد کی کمی تھی ، بمشکل سیریز جیتی جاسکی ہے ، آگے دوسری فل سٹرینگتھ ٹیموں کے خلاف رزلٹ کی مایوس کن تصویر بنتی نظر آرہی ہے ۔ داماد جی نے اپنی کپتانی بچالی ، کچھ لوگوں نے جگہ بنا لی اور کچھ نے بچالی ، لیکن پاکستان کے شائقین میں مایوسی اور ناامیدی کی کیفیت پیدا کردی ہے ۔
مرے ناقص خیال کے مطابق ہماری ٹیم کا ونڈے میں سٹرائیک روٹیشن کا مسئلہ جوں کا توں ہے ، اگر وکٹ سازگار نہ ہو تو اس سے پریشر ریلز کیا جاسکتا ہے ، سلیم ملک ، انضمام ، اور میانداد کو کئی کئی اوور بغیر باونڈری کے سنگلز کے ساتھ پانچ کی اوسط برقرار رکھتے دیکھا گیا ہے ، موجودہ بیٹنگ لائن اپ میں ایک لیفٹیننٹ ہینڈر مڈل آرڈر کی ضرورت ہے ، فخر زمان یا سعود شکیل بہترین چوائس ہیں ، سعود آخری ونڈے میں انڈیا کے خلاف وہ ٹاپ سکورر بھی تھا ، اس میں گیٹس ہیں سنگل نکال سکتا ہے ، سلمان آغا بھی یہ بوجھ اٹھا سکتا ہے ، ضرورت پڑنے پر لمبی ہٹیاں بھی یہ لوگ لگا سکتے ہیں ، اوپنگ میں صائم ایوب ون ڈے کرکٹ کا لازمی حصہ ہونا چاہیے ، اس کے اعدادو شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں ،اس کے بعد عبد الصمد اور شاداب کو بطور بیٹر چھٹے نمبر پر کھلایا جائے ، سپشلسٹ باولرز رکھے جائیں ، حارث کے علاوہ تیز باؤلنگ کرنے والے عباس آفریدی ، دانیال جسے صرف منتخب کیا گیا کھلایا نہیں گیا ، بہتر چوایس ہیں ، روٹیشن پالیسی سے باولرز کو کھلائیں گے تو مقابلہ بازی کی فضا بھی پیدا ہوگی اور ان فٹ ہونے کے چانسز بھی کم ہونگے ،سپنر ز بھی دو رکھے جائیں اور باری باری کھلاتے جائیں ،انہیں دو چار پلیرز کو اوپر نیچے کرکے اچھا کمبینیشن بن سکتا ہے ۔اور مایوس پاکستانی قوم کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنے کا سامان کرسکتا ہے ، لیکن شرط صرف یہ ہے کہ انا کے خول سے باہر نکل کر ٹیم کے لئے سوچا جائے ۔🇵🇰پاکستان زند باد 💐