تحریر:محمدمظہررشید چودھری (03336963372)
اوکاڑہ شہر کے جنوبی حصے میں واقع 27/2L روڈ آج صرف ایک سڑک نہیں رہی بلکہ یہ شہری منصوبہ بندی، انتظامی کارکردگی، تجاوزات، سیوریج مسائل اور عوامی مشکلات کی مکمل تصویر بن چکی ہے۔ اتفاق اڈا سے شروع ہو کر بائی پاس تک جانے والی تقریباً ڈھائی کلومیٹر طویل یہ سڑک درجنوں دیہات، رہائشی آبادیوں اور کمرشل علاقوں کو شہر سے ملاتی ہے۔ روزانہ ہزاروں افراد اسی راستے سے سفر کرتے ہیں، مگر ترقیاتی منصوبوں اور تجاوزات کے درمیان پھنسی یہ سڑک اب خود ایک بڑا سوال بن چکی ہے۔حکومت پنجاب کے روڈ ریسٹوریشن پروگرام کے تحت اس روڈ کی تعمیر نو جاری ہے۔ WASA کی جانب سے نئی سیوریج لائنیں بچھائی جا رہی ہیں، نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں اور سڑک کو جدید انداز میں بحال کرنے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ بظاہر یہ سب ایک خوش آئند پیش رفت محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس علاقے کے رہائشی برسوں سے ٹوٹی سڑک، کھڑے پانی اور ناقص سیوریج کے مسائل جھیل رہے تھے۔ بارش ہوتے ہی سڑک تالاب بن جاتی، ٹریفک رک جاتی اور شہریوں کی مشکلات کئی گنا بڑھ جاتیں۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف پائپ لائنیں بچھا دینا ترقی کہلاتا ہے؟یا ترقی تب مکمل ہوگی جب سڑک واقعی عوام کے لیے آسانی پیدا کرے گی؟27/2L روڈ کا سب سے بڑا تنازع اس کی چوڑائی ہے۔ مقامی شہریوں کے مطابق اس روڈ کی اصل چوڑائی تقریباً 33 فٹ ہے، لیکن ایک مقام پر ناجائز تجاوزات اور مبینہ بااثر تعمیرات کی وجہ سے یہی سڑک سکڑ کر صرف 16 فٹ رہ جاتی ہے۔ یہی وہ حصہ ہے جہاں روزانہ ٹریفک جام معمول بن چکا ہے۔ سکول وینز، رکشے، موٹر سائیکلیں، دیہی علاقوں سے آنے والی گاڑیاں اور پیدل گزرنے والے لوگ سب ایک دوسرے میں الجھے دکھائی دیتے ہیں۔یہ مسئلہ صرف آمدورفت تک محدود نہیں۔ شہریوں کا خدشہ بالکل درست ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی وقت آگ لگنے، حادثے یا ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہوئی تو ریسکیو اور فائر بریگیڈ گاڑیوں کے لیے وہاں سے گزرنا انتہائی مشکل ہوگا۔ ایک طرف حکومت جدید انفراسٹرکچر کی بات کرتی ہے، دوسری طرف اہم عوامی راستے سکڑتے جا رہے ہیں۔مقامی لوگوں کاکہنا ہے کہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوا جب محکمہ مال کے اہلکاروں اور پٹواری کی جانب سے سرکاری زمین کی پیمائش کی گئی۔ موقع پر نشانات بھی لگائے گئے اور یہ بات سامنے آئی کہ بعض تعمیرات سرکاری حدود میں موجود ہیں۔ مگر حیران کن طور پر اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ نہ کوئی بڑا آپریشن ہوا، نہ کوئی واضح کارروائی سامنے آئی اور نہ ہی عوام کو آگاہ کیا گیا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔یہی خاموشی سوال پیدا کرتی ہے۔اگر تجاوزات واقعی موجود ہیں تو کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟اگر کارروائی نہیں ہونی تو پھر نشاندہی کیوں کی گئی؟اور اگر سب کچھ قانون کے مطابق ہے تو عوام کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا جا رہا؟اوکاڑہ کے شہری اب صرف اعلانات نہیں سننا چاہتے بلکہ عملی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں ایسی سڑک چاہیے جو واقعی کشادہ ہو، محفوظ ہو اور جدید شہری ضرورتوں کے مطابق ہو۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ 27/2L روڈ اب صرف ایک مقامی سڑک نہیں رہی، یہ شہر کے جنوبی حصے کی معاشی اور سماجی شہ رگ بن چکی ہے۔اتفاق اڈا، ارشاد ٹاؤن، شفقت بلاک، 27/2L آبادی، کمرشل مارکیٹس اور بائی پاس سے ملحقہ دیہاتوں کے ہزاروں لوگ اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ کسان اپنی اجناس لے کر شہر آتے ہیں، طلبہ سکول اور کالج پہنچتے ہیں، ملازمین دفاتر جاتے ہیں اور مریض ہسپتالوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر سڑک کا ایک حصہ بھی رکاوٹ بن جائے تو اس کا اثر پورے علاقے پر پڑتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ تجاوزات صرف اس ایک روڈ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کے شہری نظام کا ناسور بن چکی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کہیں غریب کی ریڑھی فوراً اٹھا لی جاتی ہے اور کہیں بڑے بڑے پختہ ڈھانچے برسوں تک قانون کو چیلنج کرتے رہتے ہیں۔ عوام کے ذہن میں یہی تاثر سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ شفاف انداز میں حقائق عوام کے سامنے لائے۔ اگر تجاوزات موجود ہیں تو بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ اگر منصوبے میں تبدیلی ہوئی ہے تو اس کی تفصیل جاری کی جائے۔ اور اگر بعض مقامات پرروڈ واقعی 33 فٹ سے کم کر دی گئی ہے تو اس کی وجوہات واضح کی جائیں۔ترقی صرف مشینری، کھدائی اور پائپ لائنوں کا نام نہیں۔ ترقی تب ہوتی ہے جب عوام کو سہولت ملے، اعتماد بحال ہو اور شہری خود کو محفوظ محسوس کریں۔27/2L روڈ کی موجودہ صورتحال دراصل ایک امتحان ہے۔ امتحان صرف انتظامیہ کا نہیں بلکہ اس پورے نظام کا، جو ایک طرف ترقی کے دعوے کرتا ہے اور دوسری طرف عوام کو روزانہ ٹریفک، تجاوزات اور غیر یقینی صورتحال کے درمیان چھوڑ دیتا ہے۔سانچ کے قارئین کرام! کہ سڑکیں صرف اینٹوں اور تارکول سے نہیں بنتیں، انصاف، منصوبہ بندی اور قانون کی برابری سے بنتی ہیں.





