امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے اور جنگ بندی میں توسیع کی تازہ ترین پیشرفت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے کشیدگی کے خاتمے کی امیدوں کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 1.3 فیصد کمی کے ساتھ 92 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے، جبکہ ماہِ اپریل کے اختتام کے بعد سے اب تک تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 19 فیصد کمی دیکھی جا چکی ہے جو 2020 کے بعد سے ماہانہ بنیادوں پر سب سے بڑی گراوٹ ہے۔
اس کے علاوہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بھی 1 فیصد سے زائد کمی کے بعد 87 سے 88 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہی ہے۔ عالمی منڈیوں پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گراوٹ ایران اور امریکا کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کی توسیع اور جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے مسودے کی خبروں کا نتیجہ ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ کے مطابق، اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان ایک فریم ورک پر اتفاق رائے ہو گیا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس کی حتمی منظوری نہیں دی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں اس حوالے سے ایک اہم اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے تاکہ معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ عالمی رہنماؤں نے اس سفارتی پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے آبنائے ہرمز میں ٹول فری جہاز رانی دوبارہ بحال ہوگی اور خطے میں جاری کشیدگی کے معاشی اثرات سے دنیا کو نجات ملے گی۔





