مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والی برطانوی نیوز سائٹ ‘مڈل ایسٹ آئی’ نے ایک تہلکہ خیز رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق امریکا اور اسرائیل مسجد اقصیٰ کے انتظامی اختیارات اردن سے واپس لینے کے لیے ایک نئے منصوبے پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد اردن کے زیرِ انتظام قائم اسلامی وقف اتھارٹی کو ختم کر کے ایک ایسا نیا ادارہ تشکیل دینا ہے جو اسرائیلی مفادات کے مطابق کام کرے۔
رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور اسرائیل میں موجودہ امریکی سفیر مائیک ہکابی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس نئے مجوزہ ڈھانچے کے تحت مسجد اقصیٰ کو محض ایک اسلامی مقام کے بجائے ’کثیر المذاہب مرکز‘ کا درجہ دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں یہودیوں کو مسجد کے احاطے میں باقاعدہ اور بڑے گروہوں کی صورت میں عبادات کی کھلی چھوٹ دی جائے گی۔
اس منصوبے کے مضمرات انتہائی گہرے ہیں، کیونکہ اس کے تحت اسرائیل کو نہ صرف مسجد کے امام اور خطیب کی تقرری میں فیصلہ کن کردار حاصل ہوگا، بلکہ جمعہ کے خطبات کے مواد کی جانچ پڑتال بھی اسرائیلی حکام کی نگرانی میں ہوگی۔ امریکی حکام کی جانب سے تیار کردہ دستاویز میں اس مقام کی اسلامی شناخت کو ختم کر کے اسے تینوں ابراہیمی مذاہب کے لیے ایک سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اگرچہ اس منصوبے میں عرب ممالک کو باری باری انتظامی امور میں شامل کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے اور بحرین، مصر، مراکش اور متحدہ عرب امارات کو بریفنگ بھی دی جا چکی ہے، تاہم خطے میں اس کے ردِعمل میں تقسیم نظر آتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، جو اردن کا قریبی اتحادی ہے، اس تجویز کی سخت مخالفت کر رہا ہے۔ یہ منصوبہ دراصل ایک دہائی پرانا اسرائیلی خواب ہے جس پر مائیک ہکابی کے سفیر بننے کے بعد سے عملدرآمد کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔





