جون 1, 2026

تعلیمی نظام نظر انداز — ایک مجرمانہ غفلت

تحریر:فیصل جنجوعہ

تعلیم کسی بھی قوم کی تعمیر، ترقی اور بقا کی بنیادی اینٹ ہوتی ہے۔ ایک ایسا نظامِ تعلیم جو انسان کو صرف کتابی علم ہی نہ دے بلکہ اس کی شخصیت، کردار، اخلاق اور سوچ کی تعمیر بھی کرے، وہی حقیقی معنوں میں کامیاب تعلیمی نظام کہلاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں تعلیم کو محض ڈگری حاصل کرنے اور ملازمت پانے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے، جبکہ اس کا اصل مقصد انسان کے اندر شعور، برداشت، ذمہ داری اور انسانیت پیدا کرنا تھا۔

آج کا تعلیمی نظام بچوں کی ذہنی اور اخلاقی تربیت سے زیادہ نمبروں، گریڈز اور مقابلے کی دوڑ پر زور دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں تعلیم یافتہ افراد کی تعداد بڑھنے کے باوجود اخلاقی اقدار، برداشت، سچائی اور احترامِ انسانیت کم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر تعلیم انسان کو بہتر انسان نہ بنا سکے تو ایسی تعلیم اپنے مقصد سے دور ہو جاتی ہے۔

تعلیم کا اصل حسن یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر اچھے اور برے کی پہچان پیدا کرے، اسے صبر و تحمل سکھائے، اختلافِ رائے کا ادب دے اور معاشرے کے لیے فائدہ مند شہری بنائے۔ مگر جب تعلیمی ادارے صرف امتحانات، نتائج اور رسمی کامیابیوں تک محدود ہو جائیں تو وہاں سے کردار نہیں بلکہ صرف ڈگریاں پیدا ہوتی ہیں۔

ہمارے تعلیمی نظام میں سب سے بڑی کمی تربیت کے عنصر کی کمی ہے۔ اساتذہ پر بے جا دباؤ، والدین کی غیر حقیقی توقعات، نصاب کی پیچیدگی اور عملی زندگی سے دور تعلیم نے بچوں کو ذہنی دباؤ کا شکار کر دیا ہے۔ بچوں میں تخلیقی صلاحیتیں دبتی جا رہی ہیں اور وہ صرف رٹے بازی تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

ایک مہذب قوم وہی ہوتی ہے جہاں تعلیم انسان کو انسانیت سکھائے۔ جہاں استاد صرف مضمون نہ پڑھائے بلکہ کردار سازی بھی کرے، اور جہاں والدین صرف نمبروں کی فکر نہ کریں بلکہ بچوں کی شخصیت اور اخلاق پر بھی توجہ دیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام پر سنجیدگی سے غور کریں۔ نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، اخلاقی تربیت کو لازمی حصہ بنایا جائے، اور اساتذہ کو وہ مقام اور سہولیات دی جائیں جن کے وہ مستحق ہیں۔ کیونکہ ایک مضبوط اور متوازن تعلیمی نظام ہی ایک مضبوط، باشعور اور مہذب قوم کی ضمانت بن سکتا ہے۔