ستمبر 12, 2026

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب چیک پوائنٹ پر شدید فائرنگ، جوابی کارروائی میں حملہ آور ہلاک، وائٹ ہاؤس لاک ڈاؤن کے بعد بحال

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایک مسلح شخص نے وائٹ ہاؤس کے قریب سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کی فوری جوابی کارروائی میں حملہ آور مارا گیا ہے تاہم تاحال ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی لیکن حکام کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مشتبہ شخص ذہنی طور پر پریشان تھا۔ امریکی میڈیا کے مطابق مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے پیش آنے والے اس واقعے میں سیکریٹ سروس کے اہلکاروں کی فائرنگ سے دو افراد کو گولیاں لگیں جن میں سڑک پر موجود ایک راہگیر بھی زخمی ہوا ہے جبکہ خوش قسمتی سے کوئی سیکیورٹی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور اس اچانک فائرنگ کے سبب وائٹ ہاؤس کو فوری طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھا جسے صورتحال قابو میں آنے کے بعد اب کھول دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں ہی موجود تھے کیونکہ انہوں نے امریکا ایران ڈیل کے قوی امکان کے باعث اپنے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لیے باہاماس جانے کا پروگرام منسوخ کر کے وائٹ ہاؤس میں رکنے کو ترجیح دی تھی اگرچہ اس بات کی ابھی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی جبکہ موقع پر موجود صحافیوں کے مطابق وائٹ ہاؤس کے باہر لگ بھگ 30 گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں جس کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس کی چھت پر اسنائپرز کو تعینات کر دیا گیا اور نارتھ لان میں موجود صحافیوں کو پریس بریفنگ روم کے اندر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی جبکہ اے بی سی نیوز سمیت کئی میڈیا چینلز کے صحافی اس وقت لائیو رپورٹنگ کر رہے تھے جس کی وجہ سے فائرنگ کی لرزہ خیز آوازیں براہِ راست کیمروں میں بھی محفوظ ہو گئیں اور یہ واقعہ ایک ایسے نازک وقت پر پیش آیا ہے جب محض چار ہفتے قبل ہی واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران صدر ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا تھا۔