امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایک مسلح شخص نے وائٹ ہاؤس کے قریب سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کی فوری جوابی کارروائی میں حملہ آور مارا گیا ہے تاہم تاحال ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی لیکن حکام کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مشتبہ شخص ذہنی طور پر پریشان تھا۔ امریکی میڈیا کے مطابق مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے پیش آنے والے اس واقعے میں سیکریٹ سروس کے اہلکاروں کی فائرنگ سے دو افراد کو گولیاں لگیں جن میں سڑک پر موجود ایک راہگیر بھی زخمی ہوا ہے جبکہ خوش قسمتی سے کوئی سیکیورٹی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور اس اچانک فائرنگ کے سبب وائٹ ہاؤس کو فوری طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھا جسے صورتحال قابو میں آنے کے بعد اب کھول دیا گیا ہے۔
I was in the middle of taping on my iPhone for a social video from the White House North Lawn when we heard the shots. It sounded like dozens of gunshots. We were told to sprint to the press briefing room where we are holding now. pic.twitter.com/iqdQwh4soq
متعلقہ خبریں— Selina Wang (@selinawangtv) May 23, 2026
ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں ہی موجود تھے کیونکہ انہوں نے امریکا ایران ڈیل کے قوی امکان کے باعث اپنے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لیے باہاماس جانے کا پروگرام منسوخ کر کے وائٹ ہاؤس میں رکنے کو ترجیح دی تھی اگرچہ اس بات کی ابھی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی جبکہ موقع پر موجود صحافیوں کے مطابق وائٹ ہاؤس کے باہر لگ بھگ 30 گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں جس کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس کی چھت پر اسنائپرز کو تعینات کر دیا گیا اور نارتھ لان میں موجود صحافیوں کو پریس بریفنگ روم کے اندر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی جبکہ اے بی سی نیوز سمیت کئی میڈیا چینلز کے صحافی اس وقت لائیو رپورٹنگ کر رہے تھے جس کی وجہ سے فائرنگ کی لرزہ خیز آوازیں براہِ راست کیمروں میں بھی محفوظ ہو گئیں اور یہ واقعہ ایک ایسے نازک وقت پر پیش آیا ہے جب محض چار ہفتے قبل ہی واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران صدر ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا تھا۔



