جون 1, 2026

عالمی بساط پر ڈھلتی طاقت کا نوحہ اور ابھرتی حقیقت

تحریرمحمد انور بھٹی

عالمی سیاست کے اسٹیج پر اس وقت ایک ایسا تماشہ رچایا جا رہا ہے جس کی مثال تاریخ کے اوراق میں کم ہی ملتی ہے۔ وہ مملکت جو کبھی اقوامِ عالم کو اپنی انگلیوں کے اشاروں پر نچاتی تھی آج اس کا سربراہ بیجنگ کی چوکھٹ پر ایک ایسے وقت میں کھڑا ہے جب اقتدار کا سورج مشرق سے پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہو رہا ہے۔ یہ محض ایک روایتی سفارتی دورہ نہیں بلکہ ایک ابھرتی ہوئی عالمی قوت کے ہاتھوں ایک ڈھلتی ہوئی طاقت کی عبرت ناک داستان ہے جس نے پوری دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ بین الاقوامی نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق بیجنگ کے سخت ترین آہنی احتساب اور سنسر شپ کے نظام نے اس بار امریکی صدر کے خلاف عوامی غیظ و غضب اور تمسخر کے بند کھول دیے ہیں۔ وہاں کے سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر وائرل ہونے والے پیغامات واشنگٹن کے ایوانوں کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہیں جہاں اب اعلانیہ طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ مغرب اپنا رعب و دبدبہ کھو چکا ہے اور وہ اب صرف ایک "کاغذی شیر” کی مانند رہ گیا ہے۔ چینی عوام کے ان جملوں کو محض جذبات قرار دینا نادانی ہوگی کیونکہ بیجنگ جیسے نظم و ضبط والے شہر میں اس طرح کی مہم تب تک جڑ نہیں پکڑتی جب تک حکومتِ وقت خود اسے سبز جھنڈی نہ دکھائے۔ شی جن پنگ کی انتظامیہ اس طرزِ عمل سے دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ اب میز کے اس پار بیٹھا شخص "برابر کا کھلاڑی” نہیں بلکہ ایک "شکستہ حال سائل” ہے جو اپنے معاشی زخموں کی مرہم کاری کے لیے یہاں آیا ہے۔ وہ صدر، جنہوں نے برسوں اپنے ملک کو اولیت دینے اور چین پر سخت تجارتی محصولات کے نام پر اپنی سیاست چمکائی تھی آج خود انھی ہتھیاروں سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان کی اپنی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں نے ان کے صدارتی اختیارات کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے ہیں اور اب وہ چینی صدر سے معاشی "رحم” کی بھیک مانگنے کی پوزیشن میں نظر آ رہے ہیں۔ یہ منظر نامہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جب کسی ملک کی داخلی بنیادیں ہل جاتی ہیں تو اس کا بین الاقوامی وقار بھی خاک میں مل جاتا ہے۔
سرمایہ داری کا یہ عجیب و غریب تضاد دیکھیے کہ ایک طرف اس مملکت کی بڑی بڑی کارپوریٹ شخصیات اور صنعتی اشرافیہ اپنے تجارتی منافع کی خاطر بیجنگ کے ایوانوں میں حاضری دے رہی ہے اور دوسری طرف ان کا اپنا صدر وہاں کی عوام کے لیے ایک "لطیفہ” بن چکا ہے۔ اقتدار کی اس کمزوری کی جڑیں دراصل ان کی داخلی ناکامیوں میں پیوست ہیں۔ ایران کے ساتھ ایک بے مقصد اور لاحاصل جنگ کا خطرہ مول لینا ہو یا ایپسٹین جیسے شرمناک اخلاقی اسکینڈلز کی پردہ پوشی ان تمام عوامل نے واشنگٹن کی عالمی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی انھیں ایران کے معاملے پر ایک ایسا قلابازی (یو ٹرن) کھانا پڑا جس نے ان کی سفارتی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اب یہ دورہ کسی بڑے تاریخی معاہدے کے بجائے محض ایک بے اثر عکس بندی (فوٹو سیشن) تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
صاحبو بات جہاں پر رکی تھی اب اس سے آگے کا احوال سنیے اور سر دھنیے۔ اس جغرافیائی سیاست (جیو پولیٹیکل) المیے کا سب سے کڑوا رخ وہ سرمایہ دارانہ تضاد ہے جہاں عالمی معیشت کے بڑے بڑے جادوگر جو کبھی امریکی ایوانوں کے فیصلے کرتے تھے آج بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل کی راہداریوں میں اپنی رسد کے نظام (سپلائی چین) کے تحفظ کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ جب معاشی مفادات اور ریاستی وقار ایک دوسرے کے متضاد سمت میں بھاگنے لگیں تو بڑی سے بڑی حکومتیں بھی عالمی اسٹیج پر اپنا رعب کھو دیا کرتی ہیں۔ واشنگٹن کی سب سے بڑی تزویراتی غلطی یہ تھی کہ اس نے معاشی جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہا جس کی دھار خود اس کے اپنے صنعتی ڈھانچے کو کاٹ رہی تھی۔
بندن میاں کا ماننا ہے کہ بیجنگ کا یہ دورہ چین کی فتح کا حتمی اعلان نہیں بلکہ امریکہ کے زوالِ اقتدار کی وہ دستاویزی فلم ہے جس کا اسکرپٹ خود واشنگٹن نے اپنی داخلی ناکامیوں اور بے سمت خارجہ پالیسی سے لکھا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کوئی بڑی طاقت اپنی اخلاقی ساکھ کھو بیٹھتی ہے تو معاشی اعداد و شمار اس کے زوال کو روک نہیں پاتے۔ ایران کے ساتھ کشیدگی کے محاذ پر جس طرح امریکی صدارتی انتظامیہ کو پسپائی اختیار کرنی پڑی اور بیجنگ پہنچتے ہی تہران کے معاملے پر اپنے برسوں پرانے سخت مؤقف کو تیاگنا پڑا وہ اس بات کا واشگاف ثبوت ہے کہ اب واشنگٹن کے پاس دنیا کو ڈرانے کے لیے وہ پرانا کوڑا باقی نہیں رہا۔
بندن میاں آج اپنی بیٹھک میں ذرا خاموش بیٹھے حقے کی نالی تھامے دھوئیں کے مرغولوں میں عالمی سیاست کے نقشے بنتے بگڑتے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے سامنے رکھی پرانی میز پر اخبارات کا ڈھیر ہے جن کی شہ سرخیاں واشنگٹن کی گھبراہٹ اور بیجنگ کی خاموش مسکراہٹوں کی داستان سنا رہی ہیں۔ وہ اپنی عینک کو درست کرتے ہوئے مسکراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب غرور کی عمارت حد سے بلند ہو جائے تو اس کے گرنے کی آواز نہیں آتی بس دھول اڑتی ہے اور وہ دھول آج واشنگٹن سے اٹھ کر بیجنگ کے آسمان تک پہنچ چکی ہے۔ جب کوئی طاقت ور کمزور ہو کر کسی کی چوکھٹ پر دستک دیتا ہے تو میزبان کی آنکھوں میں احترام نہیں بلکہ حساب کتاب کی چمک ہوتی ہے اور آج بیجنگ کی میز پر وہی پرانا حساب کتاب بیباق کیا جا رہا ہے۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں تو سمجھ آتا ہے کہ سلطنتوں کے عروج و زوال کی کہانیاں کبھی اچانک جنم نہیں لیتیں۔ رومن سلطنت سے لے کر برطانوی راج تک ہر طاقت کے ڈوبنے کا ایک مخصوص پیٹرن رہا ہے۔ جب کوئی نظام اندرونی طور پر کھوکھلا ہو جاتا ہے تو اس کی بیرونی چمک دمک محض ایک سراب رہ جاتی ہے۔ واشنگٹن نے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد جس "نئے عالمی نظام” (نیو ورلڈ آرڈر) کی بنیاد رکھی تھی اس کا خمیر ہی اس مفروضے پر اٹھا تھا کہ اب دنیا پر راج صرف ایک ہی طاقت کا رہے گا۔ لیکن وہ یہ بھول گئے کہ وقت کا پہیہ کبھی ساکت نہیں رہتا۔ معاشی تاریخ دان جانتے ہیں کہ جب آپ پیداواری معیشت کو چھوڑ کر محض مالیاتی جادوگری اور جنگی معیشت پر انحصار کرنے لگتے ہیں تو زوال کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ چین نے اسی دوران خاموشی سے اپنی جڑیں مضبوط کیں، کارخانوں کا جال بچھایا اور دنیا کے کونے کونے تک اپنی مصنوعات پہنچا کر ایک ایسا معاشی حصار قائم کر لیا جسے اب توڑنا ناممکن حد تک مشکل ہو چکا ہے۔
سرمایہ داری کا یہ کڑوا سچ اب کھل کر سامنے آ چکا ہے کہ کثیر القومی کارپوریشنز کی کوئی ایک مادری زمین نہیں ہوتی ان کا اصل خدا صرف اور صرف "منافع” ہوتا ہے۔ جب امریکی کارپوریٹ اشرافیہ کو یہ نظر آتا ہے کہ ان کے کاروبار کی بقا بیجنگ کی رسد کے نظام (سپلائی چین) سے جڑی ہے تو وہ واشنگٹن کے سیاسی مفادات کو پسِ پشت ڈالنے میں ایک منٹ بھی ضائع نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب امریکی صدر بیجنگ کی سرزمیں پر قدم رکھتے ہیں تو ان کی پشت پر ان کے اپنے ملک کے سرمایہ دار کھڑے نہیں ہوتے بلکہ وہ چینی حکام سے الگ تھلگ سودے بازیاں کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ وہ منظر ہے جس نے امریکی بالادستی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ جب ریاست اور اس کا سرمایہ دار طبقہ دو الگ الگ سمتوں میں سفر کرنے لگیں تو عالمی بساط پر شکست مقدر بن جایا کرتی ہے۔
اس پورے جغرافیائی سیاسی (جیو پولیٹیکل) منظرنامے کا ایک اہم ترین رخ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی تاریخی تبدیلیاں ہیں۔ ایران کے معاملے پر جو پسپائی واشنگٹن کو اختیار کرنی پڑی وہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ برسوں تک معاشی پابندیوں کے ذریعے جس تہران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی آج وہ چین کی تزویراتی شراکت داری کے باعث اس پوزیشن میں آ چکا ہے کہ امریکی دھمکیاں اس کے لیے بے اثر ہو چکی ہیں۔ چین نے چند سال قبل جب سعودی عرب اور ایران کے مابین بیجنگ میں مصالحت کرائی تھی اسی دن یہ واضح ہو گیا تھا کہ اب مشرقِ وسطیٰ کے فیصلے واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس میں نہیں بلکہ بیجنگ کے ایوانوں میں ہوں گے۔ امریکی صدر کا اب تہران کے معاملے پر نرمی کا رویہ اختیار کرنا اس حقیقت کا کھلا اعتراف ہے کہ اب وہ دنیا کو ڈرانے اور دھمکانے کی پوزیشن سے محروم ہو چکے ہیں۔
بندن میاں کا کہنا ہے کہ اخلاقی دیوالیہ پن کسی بھی سلطنت کے زوال کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی نشانی ہوتا ہے۔ ایپسٹین جیسے شرمناک اخلاقی اسکینڈلز جن میں مغرب کی اعلیٰ ترین سیاسی و سماجی اشرافیہ کے نام سامنے آئے انہوں نے اس "تہذیب” کے چہرے سے پارسائی کا وہ سارا لبادہ نوچ لیا جو وہ دنیا کو جمہوریت، حقوقِ نسواں اور انسانی حقوق کے سبق پڑھانے کے لیے اوڑھا کرتے تھے۔ جب دنیا یہ دیکھتی ہے کہ دوسروں کو تہذیب سکھانے والوں کا اپنا دامن اس قدر داغدار ہے تو ان کا رعب اور دبدبہ دم توڑ دیتا ہے۔ داخلی سطح پر نسل پرستی کا ابھار، گلی کوچوں میں بڑھتی ہوئی انارکی اور سماجی ٹوٹ پھوٹ یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ نظام اب اندر سے ہانپ رہا ہے اور اس کے پاس دنیا کو دینے کے لیے اب کوئی تعمیری پیغام باقی نہیں رہا۔
معاشی محاذ پر اگر دیکھا جائے تو ڈالر کی بالادستی کا خاتمہ اس زوال کا سب سے بڑا محرک ہے۔ دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ جب بھی واشنگٹن کسی ملک سے ناراض ہوتا ہے وہ اس کے ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیتا ہے اور اسے عالمی بینکنگ نظام (سوئفٹ) سے کاٹ پھینکتا ہے۔ اس طرزِ عمل نے دنیا کے باقی ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ایک ایسی کرنسی پر کب تک بھروسہ کیا جائے جو کسی بھی وقت آپ کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ آج برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے فورمز پر مقامی کرنسیاں ابھر کر سامنے آ رہی ہیں اور چین کا یوآن عالمی تجارت میں ایک مستحکم متبادل بنتا جا رہا ہے۔ ڈالر کا یہ گرتا ہوا گراف دراصل اس عالمی سلطنت کے زوال کا گراف ہے جس کی بنیاد ہی اس کاغذی کرنسی پر رکھی گئی تھی۔
موجودہ منظرنامہ ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے کہ بین الاقوامی سیاست اب یک قطبی نظام سے نکل کر ایک ایسے کثیر قطبی دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ابھرتی ہوئی معاشی حقیقتیں پرانے عسکری دبدبے پر بھاری پڑ رہی ہیں۔ وہ ممالک جو اب تک مغرب کی اندھی تقلید کو اپنی بقا کا واحد راستہ سمجھتے تھے اب وہ بھی بیجنگ کی طرف دیکھ رہے ہیں جہاں سے ایک نیا عالمی نظام جنم لے رہا ہے۔ اب دنیا کو یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ میز کے آر پار بیٹھنے والے اب "آقا اور سائل” نہیں بلکہ ایک اندرونی بحرانوں میں گھری پرانی طاقت اور ایک منظم پرعزم نئی معاشی قوت کا ٹکراؤ ہے جہاں اب سبق سکھانے کا وقت گزر چکا اور سمجھوتے کی گھڑی آ پہنچی ہے۔
اس پورے منظرنامے کا حاصل یہ ہے کہ عالمی سیاست کا یہ نیا ڈرامہ محض اتفاقی نہیں بلکہ اس معاشی توازن کا منطقی نتیجہ ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل مشرق کی طرف جھک رہا تھا۔ جو ملک کل تک دنیا کو اپنی انگلیوں پر نچاتا تھا آج اس کی بے بسی تاریخ کے صفحات میں ایک نئے باب کا اضافہ کر رہی ہے اور بندن میاں آپ کو یہ یاد دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ تاریخ جب اپنا فیصلہ سناتی ہے تو اس میں نہ تو کسی کی صدارت کا لحاظ ہوتا ہے اور نہ ہی کسی پرانے رعب کا۔ جب سمندر کی لہریں اپنا رخ بدلتی ہیں تو پرانے ساحلوں کے نشان مٹ جایا کرتے ہیں اور اب دنیا کو اس بدلتی ہوئی حقیقت کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا۔

عالمی بساط پر ڈھلتی طاقت کا نوحہ اور ابھرتی حقیقت

تحریرمحمد انور بھٹی

عالمی سیاست کے اسٹیج پر اس وقت ایک ایسا تماشہ رچایا جا رہا ہے جس کی مثال تاریخ کے اوراق میں کم ہی ملتی ہے۔ وہ مملکت جو کبھی اقوامِ عالم کو اپنی انگلیوں کے اشاروں پر نچاتی تھی آج اس کا سربراہ بیجنگ کی چوکھٹ پر ایک ایسے وقت میں کھڑا ہے جب اقتدار کا سورج مشرق سے پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہو رہا ہے۔ یہ محض ایک روایتی سفارتی دورہ نہیں بلکہ ایک ابھرتی ہوئی عالمی قوت کے ہاتھوں ایک ڈھلتی ہوئی طاقت کی عبرت ناک داستان ہے جس نے پوری دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ بین الاقوامی نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق بیجنگ کے سخت ترین آہنی احتساب اور سنسر شپ کے نظام نے اس بار امریکی صدر کے خلاف عوامی غیظ و غضب اور تمسخر کے بند کھول دیے ہیں۔ وہاں کے سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر وائرل ہونے والے پیغامات واشنگٹن کے ایوانوں کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہیں جہاں اب اعلانیہ طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ مغرب اپنا رعب و دبدبہ کھو چکا ہے اور وہ اب صرف ایک "کاغذی شیر” کی مانند رہ گیا ہے۔ چینی عوام کے ان جملوں کو محض جذبات قرار دینا نادانی ہوگی کیونکہ بیجنگ جیسے نظم و ضبط والے شہر میں اس طرح کی مہم تب تک جڑ نہیں پکڑتی جب تک حکومتِ وقت خود اسے سبز جھنڈی نہ دکھائے۔ شی جن پنگ کی انتظامیہ اس طرزِ عمل سے دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ اب میز کے اس پار بیٹھا شخص "برابر کا کھلاڑی” نہیں بلکہ ایک "شکستہ حال سائل” ہے جو اپنے معاشی زخموں کی مرہم کاری کے لیے یہاں آیا ہے۔ وہ صدر، جنہوں نے برسوں اپنے ملک کو اولیت دینے اور چین پر سخت تجارتی محصولات کے نام پر اپنی سیاست چمکائی تھی آج خود انھی ہتھیاروں سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان کی اپنی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں نے ان کے صدارتی اختیارات کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے ہیں اور اب وہ چینی صدر سے معاشی "رحم” کی بھیک مانگنے کی پوزیشن میں نظر آ رہے ہیں۔ یہ منظر نامہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جب کسی ملک کی داخلی بنیادیں ہل جاتی ہیں تو اس کا بین الاقوامی وقار بھی خاک میں مل جاتا ہے۔
سرمایہ داری کا یہ عجیب و غریب تضاد دیکھیے کہ ایک طرف اس مملکت کی بڑی بڑی کارپوریٹ شخصیات اور صنعتی اشرافیہ اپنے تجارتی منافع کی خاطر بیجنگ کے ایوانوں میں حاضری دے رہی ہے اور دوسری طرف ان کا اپنا صدر وہاں کی عوام کے لیے ایک "لطیفہ” بن چکا ہے۔ اقتدار کی اس کمزوری کی جڑیں دراصل ان کی داخلی ناکامیوں میں پیوست ہیں۔ ایران کے ساتھ ایک بے مقصد اور لاحاصل جنگ کا خطرہ مول لینا ہو یا ایپسٹین جیسے شرمناک اخلاقی اسکینڈلز کی پردہ پوشی ان تمام عوامل نے واشنگٹن کی عالمی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی انھیں ایران کے معاملے پر ایک ایسا قلابازی (یو ٹرن) کھانا پڑا جس نے ان کی سفارتی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اب یہ دورہ کسی بڑے تاریخی معاہدے کے بجائے محض ایک بے اثر عکس بندی (فوٹو سیشن) تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
صاحبو بات جہاں پر رکی تھی اب اس سے آگے کا احوال سنیے اور سر دھنیے۔ اس جغرافیائی سیاست (جیو پولیٹیکل) المیے کا سب سے کڑوا رخ وہ سرمایہ دارانہ تضاد ہے جہاں عالمی معیشت کے بڑے بڑے جادوگر جو کبھی امریکی ایوانوں کے فیصلے کرتے تھے آج بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل کی راہداریوں میں اپنی رسد کے نظام (سپلائی چین) کے تحفظ کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ جب معاشی مفادات اور ریاستی وقار ایک دوسرے کے متضاد سمت میں بھاگنے لگیں تو بڑی سے بڑی حکومتیں بھی عالمی اسٹیج پر اپنا رعب کھو دیا کرتی ہیں۔ واشنگٹن کی سب سے بڑی تزویراتی غلطی یہ تھی کہ اس نے معاشی جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہا جس کی دھار خود اس کے اپنے صنعتی ڈھانچے کو کاٹ رہی تھی۔
بندن میاں کا ماننا ہے کہ بیجنگ کا یہ دورہ چین کی فتح کا حتمی اعلان نہیں بلکہ امریکہ کے زوالِ اقتدار کی وہ دستاویزی فلم ہے جس کا اسکرپٹ خود واشنگٹن نے اپنی داخلی ناکامیوں اور بے سمت خارجہ پالیسی سے لکھا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کوئی بڑی طاقت اپنی اخلاقی ساکھ کھو بیٹھتی ہے تو معاشی اعداد و شمار اس کے زوال کو روک نہیں پاتے۔ ایران کے ساتھ کشیدگی کے محاذ پر جس طرح امریکی صدارتی انتظامیہ کو پسپائی اختیار کرنی پڑی اور بیجنگ پہنچتے ہی تہران کے معاملے پر اپنے برسوں پرانے سخت مؤقف کو تیاگنا پڑا وہ اس بات کا واشگاف ثبوت ہے کہ اب واشنگٹن کے پاس دنیا کو ڈرانے کے لیے وہ پرانا کوڑا باقی نہیں رہا۔
بندن میاں آج اپنی بیٹھک میں ذرا خاموش بیٹھے حقے کی نالی تھامے دھوئیں کے مرغولوں میں عالمی سیاست کے نقشے بنتے بگڑتے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے سامنے رکھی پرانی میز پر اخبارات کا ڈھیر ہے جن کی شہ سرخیاں واشنگٹن کی گھبراہٹ اور بیجنگ کی خاموش مسکراہٹوں کی داستان سنا رہی ہیں۔ وہ اپنی عینک کو درست کرتے ہوئے مسکراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب غرور کی عمارت حد سے بلند ہو جائے تو اس کے گرنے کی آواز نہیں آتی بس دھول اڑتی ہے اور وہ دھول آج واشنگٹن سے اٹھ کر بیجنگ کے آسمان تک پہنچ چکی ہے۔ جب کوئی طاقت ور کمزور ہو کر کسی کی چوکھٹ پر دستک دیتا ہے تو میزبان کی آنکھوں میں احترام نہیں بلکہ حساب کتاب کی چمک ہوتی ہے اور آج بیجنگ کی میز پر وہی پرانا حساب کتاب بیباق کیا جا رہا ہے۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں تو سمجھ آتا ہے کہ سلطنتوں کے عروج و زوال کی کہانیاں کبھی اچانک جنم نہیں لیتیں۔ رومن سلطنت سے لے کر برطانوی راج تک ہر طاقت کے ڈوبنے کا ایک مخصوص پیٹرن رہا ہے۔ جب کوئی نظام اندرونی طور پر کھوکھلا ہو جاتا ہے تو اس کی بیرونی چمک دمک محض ایک سراب رہ جاتی ہے۔ واشنگٹن نے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد جس "نئے عالمی نظام” (نیو ورلڈ آرڈر) کی بنیاد رکھی تھی اس کا خمیر ہی اس مفروضے پر اٹھا تھا کہ اب دنیا پر راج صرف ایک ہی طاقت کا رہے گا۔ لیکن وہ یہ بھول گئے کہ وقت کا پہیہ کبھی ساکت نہیں رہتا۔ معاشی تاریخ دان جانتے ہیں کہ جب آپ پیداواری معیشت کو چھوڑ کر محض مالیاتی جادوگری اور جنگی معیشت پر انحصار کرنے لگتے ہیں تو زوال کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ چین نے اسی دوران خاموشی سے اپنی جڑیں مضبوط کیں، کارخانوں کا جال بچھایا اور دنیا کے کونے کونے تک اپنی مصنوعات پہنچا کر ایک ایسا معاشی حصار قائم کر لیا جسے اب توڑنا ناممکن حد تک مشکل ہو چکا ہے۔
سرمایہ داری کا یہ کڑوا سچ اب کھل کر سامنے آ چکا ہے کہ کثیر القومی کارپوریشنز کی کوئی ایک مادری زمین نہیں ہوتی ان کا اصل خدا صرف اور صرف "منافع” ہوتا ہے۔ جب امریکی کارپوریٹ اشرافیہ کو یہ نظر آتا ہے کہ ان کے کاروبار کی بقا بیجنگ کی رسد کے نظام (سپلائی چین) سے جڑی ہے تو وہ واشنگٹن کے سیاسی مفادات کو پسِ پشت ڈالنے میں ایک منٹ بھی ضائع نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب امریکی صدر بیجنگ کی سرزمیں پر قدم رکھتے ہیں تو ان کی پشت پر ان کے اپنے ملک کے سرمایہ دار کھڑے نہیں ہوتے بلکہ وہ چینی حکام سے الگ تھلگ سودے بازیاں کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ وہ منظر ہے جس نے امریکی بالادستی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ جب ریاست اور اس کا سرمایہ دار طبقہ دو الگ الگ سمتوں میں سفر کرنے لگیں تو عالمی بساط پر شکست مقدر بن جایا کرتی ہے۔
اس پورے جغرافیائی سیاسی (جیو پولیٹیکل) منظرنامے کا ایک اہم ترین رخ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی تاریخی تبدیلیاں ہیں۔ ایران کے معاملے پر جو پسپائی واشنگٹن کو اختیار کرنی پڑی وہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ برسوں تک معاشی پابندیوں کے ذریعے جس تہران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی آج وہ چین کی تزویراتی شراکت داری کے باعث اس پوزیشن میں آ چکا ہے کہ امریکی دھمکیاں اس کے لیے بے اثر ہو چکی ہیں۔ چین نے چند سال قبل جب سعودی عرب اور ایران کے مابین بیجنگ میں مصالحت کرائی تھی اسی دن یہ واضح ہو گیا تھا کہ اب مشرقِ وسطیٰ کے فیصلے واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس میں نہیں بلکہ بیجنگ کے ایوانوں میں ہوں گے۔ امریکی صدر کا اب تہران کے معاملے پر نرمی کا رویہ اختیار کرنا اس حقیقت کا کھلا اعتراف ہے کہ اب وہ دنیا کو ڈرانے اور دھمکانے کی پوزیشن سے محروم ہو چکے ہیں۔
بندن میاں کا کہنا ہے کہ اخلاقی دیوالیہ پن کسی بھی سلطنت کے زوال کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی نشانی ہوتا ہے۔ ایپسٹین جیسے شرمناک اخلاقی اسکینڈلز جن میں مغرب کی اعلیٰ ترین سیاسی و سماجی اشرافیہ کے نام سامنے آئے انہوں نے اس "تہذیب” کے چہرے سے پارسائی کا وہ سارا لبادہ نوچ لیا جو وہ دنیا کو جمہوریت، حقوقِ نسواں اور انسانی حقوق کے سبق پڑھانے کے لیے اوڑھا کرتے تھے۔ جب دنیا یہ دیکھتی ہے کہ دوسروں کو تہذیب سکھانے والوں کا اپنا دامن اس قدر داغدار ہے تو ان کا رعب اور دبدبہ دم توڑ دیتا ہے۔ داخلی سطح پر نسل پرستی کا ابھار، گلی کوچوں میں بڑھتی ہوئی انارکی اور سماجی ٹوٹ پھوٹ یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ نظام اب اندر سے ہانپ رہا ہے اور اس کے پاس دنیا کو دینے کے لیے اب کوئی تعمیری پیغام باقی نہیں رہا۔
معاشی محاذ پر اگر دیکھا جائے تو ڈالر کی بالادستی کا خاتمہ اس زوال کا سب سے بڑا محرک ہے۔ دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ جب بھی واشنگٹن کسی ملک سے ناراض ہوتا ہے وہ اس کے ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیتا ہے اور اسے عالمی بینکنگ نظام (سوئفٹ) سے کاٹ پھینکتا ہے۔ اس طرزِ عمل نے دنیا کے باقی ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ایک ایسی کرنسی پر کب تک بھروسہ کیا جائے جو کسی بھی وقت آپ کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ آج برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے فورمز پر مقامی کرنسیاں ابھر کر سامنے آ رہی ہیں اور چین کا یوآن عالمی تجارت میں ایک مستحکم متبادل بنتا جا رہا ہے۔ ڈالر کا یہ گرتا ہوا گراف دراصل اس عالمی سلطنت کے زوال کا گراف ہے جس کی بنیاد ہی اس کاغذی کرنسی پر رکھی گئی تھی۔
موجودہ منظرنامہ ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے کہ بین الاقوامی سیاست اب یک قطبی نظام سے نکل کر ایک ایسے کثیر قطبی دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ابھرتی ہوئی معاشی حقیقتیں پرانے عسکری دبدبے پر بھاری پڑ رہی ہیں۔ وہ ممالک جو اب تک مغرب کی اندھی تقلید کو اپنی بقا کا واحد راستہ سمجھتے تھے اب وہ بھی بیجنگ کی طرف دیکھ رہے ہیں جہاں سے ایک نیا عالمی نظام جنم لے رہا ہے۔ اب دنیا کو یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ میز کے آر پار بیٹھنے والے اب "آقا اور سائل” نہیں بلکہ ایک اندرونی بحرانوں میں گھری پرانی طاقت اور ایک منظم پرعزم نئی معاشی قوت کا ٹکراؤ ہے جہاں اب سبق سکھانے کا وقت گزر چکا اور سمجھوتے کی گھڑی آ پہنچی ہے۔
اس پورے منظرنامے کا حاصل یہ ہے کہ عالمی سیاست کا یہ نیا ڈرامہ محض اتفاقی نہیں بلکہ اس معاشی توازن کا منطقی نتیجہ ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل مشرق کی طرف جھک رہا تھا۔ جو ملک کل تک دنیا کو اپنی انگلیوں پر نچاتا تھا آج اس کی بے بسی تاریخ کے صفحات میں ایک نئے باب کا اضافہ کر رہی ہے اور بندن میاں آپ کو یہ یاد دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ تاریخ جب اپنا فیصلہ سناتی ہے تو اس میں نہ تو کسی کی صدارت کا لحاظ ہوتا ہے اور نہ ہی کسی پرانے رعب کا۔ جب سمندر کی لہریں اپنا رخ بدلتی ہیں تو پرانے ساحلوں کے نشان مٹ جایا کرتے ہیں اور اب دنیا کو اس بدلتی ہوئی حقیقت کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا۔