ستمبر 14, 2026

​برّی امام کچی آبادی کے مکین انصاف کے منتظر

کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

​ اسلام آباد، جسے ترقی اور نظم و ضبط کا ماڈل قرار دیا جاتا ہے، آج اسی شہر کے باسیوں کے ساتھ ایک ایسا افسوسناک اور ظالمانہ واقعہ پیش آیا ہے جس نے انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے تمام دعووں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ برّی امام رحمۃ اللہ علیہ کے دربار سے متصل یہ قدیمی آبادی، جس کی جڑیں 1947 سے قبل کی تاریخ سے پیوست ہیں، اس آبادی کو جس سفاکی اور غیر قانونی طریقے سے مسمار کیا گیا ہے، وہ حکومتی نااہلی اور غریب کش پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ آبادی محض چند گھروں کا مجموعہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک تاریخی اور جذباتی تسلسل تھی۔ 1958 میں جب وفاقی دارالحکومت کی تعمیر کا آغاز ہوا، تو انہی محنت کشوں نے جو آج بے گھر کر دیے گئے ہیں، اسلام آباد کی تعمیر و ترقی میں اپنا خون پسینہ بہایا تھا۔ 1971 میں جب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے کچی آبادیوں کو قانونی حیثیت دی تو اس بستی کو سرکاری طور پر منظور شدہ کچی آبادیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ ریاست کا ایک باقاعدہ وعدہ اور قانونی تحفظ تھا، جسے آج کی انتظامیہ نے پلک جھپکتے ہی پامال کر دیا ہے۔ ریاست کی یہ بنیادی ذمہ داری تھی کہ وہ ان لوگوں کو متبادل انتظام دیتی، مگر اس کے برعکس انہیں کھلے آسمان تلے لا کر ان کا جینا محال کر دیا گیا۔ حکومتِ وقت کا یہ اقدام قانون کے بنیادی اصولوں اور انسانی ہمدردی کے سراسر منافی ہے۔ کچی آبادیوں کے قانون کی رو سے اگر ریاست کو کسی پراجیکٹ کے لیے زمین درکار ہو، تو وہ مکینوں کی رضامندی اور متبادل جگہ پر آباد کاری کی پابند ہے مگر یہاں تو کسی پیشگی اطلاع یا قانونی تقاضے کو پورا کیے بغیر بلڈوزروں کے ذریعے غریبوں کی چھتیں گرا دی گئیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قانون صرف کمزوروں کے لیے ہے؟ کیا ریاست کا کام شہریوں کو تحفظ دینا ہے یا ان کے سروں سے چھت چھین کر انہیں بے یارومددگار کرنا ہے؟ یہ کیسا تضاد ہے کہ اسلام آباد کے پوش سیکٹرز میں ہونے والی غیر قانونی تجاوزات اور بڑے بڑے پلازوں پر تو چشم پوشی کی جاتی ہے مگر غریب کی دہائیوں پرانی بستی کو چند گھنٹوں میں مسمار کر دیا جاتا ہے۔ ان مکینوں کے گھروں کا مسمار ہونا صرف دیواروں کا گرنا نہیں، بلکہ ان کی برسوں کی جمع پونجی اور ان کے بچوں کے مستقبل کا اجتماعی قتلِ عام ہے۔ یہ لوگ اپنے گھروں میں برسوں سے آباد تھے، جہاں ان کے بزرگوں کی یادیں اور ان کے بچوں کا مستقبل وابستہ تھا۔ اس بے حسی نے معاشرے میں ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جس سے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا مکمل طور پر مجروح ہو چکی ہے۔ آج غریب شہری یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا اس ملک میں صرف صاحبِ ثروت لوگوں کو ہی جینے کا حق ہے؟ جبکہ ایک فلاحی ریاست کا تصور تو یہ تھا کہ وہ کمزوروں کی دستگیری کرے لیکن یہاں تو ریاست ہی کمزوروں کے خلاف صف آراء دکھائی دیتی ہے۔ ہم اربابِ اختیار سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس غیر قانونی کارروائی کی فوری جوڈیشل انکوائری کروائی جائے، متاثرین کو قانون کے مطابق فوری متبادل رہائش فراہم کی جائے اور بلڈنگ مٹیریل سمیت دیگر نقصانات کا مکمل مالی ازالہ کیا جائے۔ کیا حکمران بھول گئے ہیں کہ اقتدار ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا اور مظلوم کی بددعا کسی بھی ایوان کو دہلا سکتی ہے؟ ہم انتظامیہ کو خبردار کرتے ہیں کہ طاقت کا یہ بے جا استعمال تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ ایک سیاہ دھبے کے طور پر موجود رہے گا۔ انصاف کے تقاضے یہی ہیں کہ ان متاثرین کو ان کا حق دیا جائے کیونکہ قانون کی حکمرانی کا پہلا اصول سب کے لیے یکساں انصاف ہے۔ آج اس ظلم کے شکار متاثرین آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے انصاف کی دہائی دے رہے ہیں۔ اے اللہ! تو بے یارومددگاروں کا مددگار ہے، ان کے سروں سے چھت چھیننے والوں سے بازپرس فرما۔ ان مظلوموں کی فریاد کو قبول فرما، ان کے چھینے گئے حقوق کو انہیں واپس دلا، اور اس ریاست میں انصاف کا بول بالا فرما کہ ہر شہری اپنی چھت تلے سکون سے رہ سکے۔ اے ربِ کائنات! جو اس ظلم کے ذمہ دار ہیں، انہیں عبرت کا نشان بنا اور متاثرین کی مشکل کشائی فرما۔ آمین