ستمبر 12, 2026

امریکی سیاست میں بڑا دھماکا: نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ مستعفی، وائٹ ہاؤس کی جانب سے استعفے کے لیے مجبور کیے جانے کا دعویٰ

امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ اپنے عہدے سے اچانک مستعفی ہو گئی ہیں جس نے امریکی سیاسی اور سفارتی حلقوں میں ایک نئی ہلچل مچا دی ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق تلسی گبارڈ نے یہ انتہائی قدم اپنے شوہر کو ہڈیوں کے کینسر (بون کینسر) جیسی موذی بیماری کی تشخیص ہونے کے بعد خاندانی وجوہات کی بنا پر اٹھایا ہے اور انہوں نے جمعے کے روز وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر کے انہیں اپنے اس فیصلے سے باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا تھا۔ تاہم دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے نے اس حساس معاملے سے گہری واقفیت رکھنے والے ایک معتبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے ایک چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے کہ تلسی گبارڈ نے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ نہیں دیا بلکہ انہیں وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ کی طرف سے مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ تلسی گبارڈ نے گزشتہ سال فروری کے مہینے میں امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے باوقار اور انتہائی اہم ترین عہدے کا حلف اٹھایا تھا اور وہ طویل عرصے سے امریکی انٹیلی جنس برادری میں کلیدی کردار ادا کر رہی تھیں۔ اس اچانک استعفے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا باضابطہ بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے تصدیق کی ہے کہ تلسی گبارڈ رواں سال 30 جون کو باقاعدہ طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دیں گی جس کے بعد نئے مستقل ڈائریکٹر کے تعیّن تک ڈپٹی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس آرون لوکاس عبوری ڈائریکٹر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں اور فرائض سرانجام دیں گے۔