ستمبر 12, 2026

سیاسی منظرنامے میں بڑی ہلچل: اپوزیشن نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو مذاکرات کا مکمل اختیار دے دیا، "مائنس بانی پی ٹی آئی” کی تجویز مسترد

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا ایک اہم ترین اجلاس قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور مستقبل کی حکمت عملی پر گہرا غور و خوض کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس اہم بیٹھک کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے قائدین حزب اختلاف کو حکومت یا دیگر مقتدر حلقوں سے مذاکرات کرنے کا اب تک کا مکمل اور غیر مشروط اختیار دینے کی باضابطہ قرارداد منظور کر لی ہے، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی ملک کے وسیع تر مفاد میں جو بھی فیصلہ کریں گے وہ پوری پارلیمانی پارٹی کو دل و جان سے قبول ہوگا۔

اجلاس کے اختتام پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ اس بیٹھک میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم اپنے حقوق کے لیے ایک بھرپور تحریک چلائیں گے لیکن ہماری یہ جدوجہد مکمل طور پر پُرامن رہے گی اور ہم کسی کو گالی دینے یا دشنام طرازی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ ہمارا بنیادی اور واحد مقصد ملک میں آئینِ پاکستان کا ہر قیمت پر دفاع کرنا ہے۔ اس موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے پارٹی کا دوٹوک مؤقف سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ پوری پارلیمانی پارٹی نے مشترکہ اور متفقہ طور پر فیصلہ دیا ہے کہ ہمیں کسی بھی صورت "مائنس بانی پی ٹی آئی” فارمولا منظور نہیں ہے۔ دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو میں خبردار کیا کہ اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کا فیصلہ کرنے کو کسی بھی طور ہماری کم زوری نہ سمجھا جائے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر اب بھی اس ملک کو درست سمت میں چلانا ہے تو تمام اسٹیک ہولڈرز کے مابین بات چیت کا ہونا ناگزیر ہے، لہٰذا اس مقصد کے لیے خود وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں تشریف لائیں۔