خیبرپختونخوا کی سیاست میں ایک نیا آئینی موڑ سامنے آیا ہے جہاں وفاقی آئینی عدالت میں علی امین گنڈاپور کو دوبارہ بطور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بحال کرنے کے لیے ایک اہم درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ بیرسٹر شیر افضل مروت کی جانب سے دائر کی جانے والی اس آئینی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ ایک سزا یافتہ اور نااہل فردِ واحد کی ڈکٹیشن پر لیا گیا، جس کی قانون کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ درخواست گزار کے مطابق، علی امین گنڈاپور کو ڈی نوٹیفائی کرنا سراسر غیر قانونی اور آئینِ پاکستان سے متصادم اقدام ہے، لہٰذا اس غیر آئینی اقدام کے نتیجے میں ہونے والے اب تک کے تمام سرکاری فیصلے منسوخ کیے جائیں۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سہیل آفریدی کی بطور نئے وزیر اعلیٰ تقرری کا نوٹیفکیشن فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے اور علی امین گنڈاپور کو ان کے عہدے پر دوبارہ بحال کیا جائے۔
"میں نے اپنے لیڈر عمران خان کے حکم کے مطابق بلا کسی تاخیر کے اپنی وزارتِ اعلیٰ کے استعفے کی ہدایات پر عمل درامد کروا کر اپنا فرض ادا کیا.
— Ali Amin Khan Gandapur (@AliAminKhanPTI) May 21, 2026
کسی بھی طرح کے کیس یا عدالتی کاروائی کے ساتھ نہ میرا تعلق ہے اور نہ میرا کوئی عمل دخل ہے"
علی امین خان گنڈاپور pic.twitter.com/S8GEDpqQYF
دوسری جانب، وفاقی آئینی عدالت میں دائر اس درخواست پر سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا باضابطہ اور واضح ردِعمل بھی سامنے آگیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک اہم پیغام میں عدالت جانے کے اس اقدام سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ "میں نے اپنے قائد عمران خان کے حکم کے مطابق، بلا کسی تاخیر کے اپنی وزارتِ اعلیٰ سے استعفے کی ہدایات پر عمل درآمد کروا کر اپنا تنظیمی اور اخلاقی فرض ادا کیا تھا”۔
انہوں نے اپنے پیغام میں مزید لکھا کہ اس وقت عدالت میں دائر کسی بھی قسم کے کیس یا آئینی کارروائی کے ساتھ نہ تو ان کا کوئی ذاتی تعلق ہے اور نہ ہی اس میں ان کا کوئی عمل دخل یا رضامندی شامل ہے۔ اپنے مؤقف کی مضبوطی اور سچائی کو ثابت کرنے کے لیے علی امین گنڈاپور نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ پر گورنر کو بھیجے گئے اپنے استعفے کی اصل کاپی بھی شیئر کر دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پارٹی قیادت کے فیصلے کے ساتھ مکمل طور پر کھڑے ہیں۔



