ستمبر 20, 2026

پاکستانی درخواست پر سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے ‘پروجیکٹ فریڈم’ روک دیا، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا انکشاف

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ‘پروجیکٹ فریڈم’ کو عارضی طور پر روکنے کی اصل اور بنیادی وجہ پاکستان کی طرف سے کی جانے والی خصوصی سفارتی درخواست تھی۔ واشنگٹن میں جاری کردہ اپنے ایک باضابطہ بیان میں امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے بجائے سفارتی ذرائع کو ترجیح دینا دراصل اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان جاری قریبی رابطوں کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا ہے۔

مارکو روبیو نے سفارتی پسِ منظر کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکام نے امریکی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور یہ مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ "اگر آپ لوگ پروجیکٹ فریڈم کو روک دیں، تو ہمارے خیال میں ہم (مختلف فریقین کے ساتھ) کسی پائیدار معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں”۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اس مثبت اور تعمیری اسٹریٹجک مؤقف کو دیکھتے ہوئے، واشنگٹن نے خطے میں امن کی خاطر سفارت کاری کو ایک بھرپور موقع دینے کے لیے پروجیکٹ فریڈم کو فوری طور پر روکنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے خدوخال واضح کرتے ہوئے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سے جارحیت یا فوجی اقدامات کے بجائے میز پر سفارت کاری اور پرامن بات چیت کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی اس مخلصانہ درخواست اور ثالثی کی کوششوں کے بعد خطے کے دیرینہ مسائل کے حل اور مستقل امن کے قیام کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے درمیان ایک جامع اور قابلِ عمل معاہدہ طے پا جائے گا، جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔