ستمبر 20, 2026

یورپ کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں، تعلقات کی بحالی اور امن کے لیے تیار ہیں: روسی صدر ولادی میر پیوٹن

روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ماسکو میں فوجی و صنعتی کمیشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ روس کے یورپ یا کسی بھی یورپی ملک کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں اور اس بات کی سرے سے کوئی بنیاد ہی موجود نہیں ہے۔ انہوں نے یورپ کو تعلقات بحال کرنے اور پرامن بقائے باہمی کی پیشکش کرتے ہوئے بعض یورپی ممالک پر الزام عائد کیا کہ وہ یوکرین تنازع اور روس کی مبینہ دھمکیوں کا من گھڑت جواز بنا کر خود جنگ کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ پیوٹن نے تنبیہ کی کہ اگر یورپی ممالک نے اپنے طرزِ عمل سے روس کو مجبور کیا یا شہری بحری جہازوں پر قبضہ جیسی اقدامات کیے تو روس بھی اس کا بھرپور اور موثر جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہے۔

اپنے خطاب کے دوران روسی صدر نے ملک کے نئے ریاستی دفاعی پروگرام کی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ترجیحات روس کی مکمل خودمختاری کی ضمانت اور عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ انہوں نے فخر کے ساتھ بتایا کہ روس کی اسٹریٹجک میزائل فورسز کا 92 فیصد حصہ جدید ترین اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ہتھیاروں سے لیس ہو چکا ہے۔ پیوٹن کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک ایک طرف تو بین الاقوامی قوانین کے دفاع کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن دوسری جانب عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی کوششیں کر رہے ہیں، لہٰذا امن سے رہنا ہی تمام فریقین کے مفاد میں ہے۔