سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے ایک اہم ترین سکیورٹی بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ مملکت کے دفاعی نظام نے عراق کی سمت سے سعودی فضائی حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے 3 مسلح ڈرونز کو فضا میں ہی کامیابی سے ٹریس کر کے مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ وزارتِ دفاع نے اس فضائی جارحیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ سعودی عرب اس بزدلانہ کارروائی کے خلاف اپنی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے بالکل مناسب وقت اور جگہ پر بھرپور جواب دینے کا پورا شرعی و قانونی حق محفوظ رکھتا ہے۔
اس سنگین واقعے کے ساتھ ہی، سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے جوہری پلانٹ کے قریبی علاقے پر ہونے والے حالیہ ڈرون حملے کی بھی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ برادر ملک متحدہ عرب امارات کی اہم تنصیبات اور شہریوں پر اس طرح کے حملے دراصل پورے خطے کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا اور کھلا خطرہ ہیں۔ مکہ مکرمہ اور خلیجی خطے کی سکیورٹی کو داؤ پر لگانے والی ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے خلاف ریاض حکومت ابوظہبی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔
خلیج میں بڑھتی ہوئی اس نئی کشیدگی کے بعد سعودی عرب کی مسلح افواج اور فضائی دفاعی دستوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ سرحدوں کی نگرانی کو مزید سخت کیا جا سکے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ خطے کی سکیورٹی کو سبوتاژ کرنے اور امن خراب کرنے والے عناصر کو کسی بھی صورت اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، اور مملکت اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر حد تک جائے گی۔





