ستمبر 20, 2026

اسرائیل کے ساتھ گہرے تعلقات: ایران کی متحدہ عرب امارات کو سخت وارننگ

ایران نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی و تزویراتی تعلقات مزید گہرے کرنے پر سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے۔ قطری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی سپریم لیڈر کے ملٹری سیکرٹری محسن رضائی نے ابوظہبی کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے فی الوقت متحدہ عرب امارات کے ساتھ دوستی کے دروازے بند نہیں کیے، لیکن اماراتی قیادت کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہونی چاہیے کہ ایران کے صبر کی بھی ایک حد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط سے پوری طرح باخبر ہے، لہذا یو اے ای کو چاہیے کہ وہ خطے میں اسرائیل کی جانب سے بچھائی جانے والی سازشوں کے جال میں ہرگز نہ الجھے۔

مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، اسرائیل اور امریکا کی ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کو ایران کی جانب سے شدید ترین فوجی حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، جبکہ حالیہ سیکیورٹی اطلاعات اور شواہد سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ یو اے ای نے ان حملوں کے جواب میں ممکنہ طور پر کچھ جوابی کارروائیاں بھی کیں۔ اس حساس صورتحال کے تناظر میں، اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی متحدہ عرب امارات کو ایران کے خلاف ہونے والی مختلف کارروائیوں میں براہِ راست ملوث قرار دیا تھا، جس سے دونوں مسلم ممالک کے درمیان سفارتی خلیج مزید گہری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ‘برکس’ (BRICS) سربراہی اجلاس سے خطاب کے دوران اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف تنظیم کی یکجہتی اور سفارتی آداب کی خاطر امارات کا نام کھل کر نہیں لیا، تاہم سچ یہ ہے کہ جب ایران پر بیرونی حملے شروع ہوئے تو متحدہ عرب امارات نے ان کی مذمت تک کرنا گوارا نہیں کیا؛ لہٰذا ایران سے متعلق متحدہ عرب امارات کو اپنی موجودہ پالیسی پر فوری نظرِثانی کرنی چاہیے۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری ایک سنسنی خیز بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نیتن یاہو نے ایران جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کا ایک انتہائی خفیہ دورہ کر کے اماراتی صدر سے ملاقات کی تھی، تاہم یو اے ای کی حکومت نے ایران کے ساتھ شدید کشیدگی کے باعث اسرائیلی وزیراعظم کے اس مبینہ دورہِ امارات کی سختی سے تردید کی ہے۔