جون 1, 2026

پینشنرز کی خاموش چیخ اور حکمرانوں کی بے حسی

تحریر: محمدانوربھٹی

بندن میاں آج کل جب بھی کسی سرکاری دفتر کے باہر سے گزرتے ہیں تو اُن کی نظریں اکثر اُن سفید بالوں والے چہروں پر جا کر رک جاتی ہیں جو ہاتھ میں فائلیں پکڑے بینکوں اور اکاؤنٹس دفاتر کی لمبی قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں اُن کے چہروں پر عجیب سی خاموشی ہوتی ہے نہ وہ شور مچاتے ہیں نہ احتجاج کرتے ہیں نہ سڑکیں بند کرتے ہیں بس خاموش کھڑے رہتے ہیں جیسے عمر بھر کی تھکن اب اُن کی ہڈیوں میں جم چکی ہو بندن میاں کہتے ہیں اس ملک میں سب سے زیادہ خاموش طبقہ پینشنرز کا طبقہ ہے اور شاید سب سے زیادہ مظلوم بھی یہی لوگ ہیں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی پوری جوانی اس ریاست کے نام کردی مگر آج بڑھاپے میں یہی ریاست اُنہیں ایسے دیکھتی ہے جیسے وہ کوئی اضافی بوجھ ہوں بندن میاں اکثر سوچتے ہیں کہ آخر ایک انسان پوری زندگی نوکری کیوں کرتا ہے شاید اس امید پر کہ بڑھاپا سکون سے گزر جائے گا شاید اس امید پر کہ بچوں کے سروں پر چھت رہے گی شاید اس امید پر کہ دوائی اور عزت دونوں میسر رہیں گے مگر آج پاکستان کے لاکھوں پینشنرز کی حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ ریٹائرمنٹ اب سکون کا نہیں بلکہ ایک نئے عذاب کا آغاز بن چکی ہے بندن میاں کے محلے میں ایک بزرگ رہتے ہیں جو کبھی سرکاری دفتر میں بڑے ایماندار افسر سمجھے جاتے تھے وقت کی پابندی ایسی کہ لوگ اپنی گھڑیاں اُن کے آنے جانے سے ملا لیتے تھے زندگی بھر حلال رزق کمایا کبھی رشوت نہیں لی کبھی کسی غریب کی فائل نہیں روکی مگر آج وہی شخص مہینے کے آخر میں دوائی خریدنے سے پہلے یہ حساب کرتا ہے کہ بجلی کا بل بھرے یا شوگر کی دوا خریدے بندن میاں کہتے ہیں یہ صرف ایک آدمی کی کہانی نہیں یہ پاکستان کے لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین کی اجتماعی چیخ ہے جو خاموشی کے اندر دفن ہوچکی ہے آج ایک پینشنر کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اُس کی پینشن بڑھتی نہیں مگر مہنگائی روز بڑھ جاتی ہے بازار بدل جاتا ہے قیمتیں بدل جاتی ہیں دوائیوں کے ریٹ بدل جاتے ہیں مگر اُس کی پنشن وہی رہتی ہے بندن میاں اکثر کہتے ہیں اس ملک میں شاید سب سے سستا انسان وہ ہے جس نے پوری زندگی ایمانداری سے سرکاری نوکری کی ہو کیونکہ جب تک وہ نوکری کرتا ہے اُس سے کام لیا جاتا ہے اور جب وہ ریٹائر ہوجاتا ہے تو اُسے اعداد و شمار کا بوجھ سمجھ لیا جاتا ہے بندن میاں کو سب سے زیادہ تکلیف اُس وقت ہوتی ہے جب وہ کسی پینشنر کو میڈیکل اسٹور پر اپنی دوائیاں کم کرواتے دیکھتے ہیں ایک دن وہ ایک میڈیکل اسٹور پر کھڑے تھے سامنے ایک بزرگ دوائیوں کی پرچی ہاتھ میں لیے کھڑے تھے دکان دار نے بل بنایا تو بزرگ کی آنکھیں جھک گئیں انہوں نے آہستہ سے کہا بھائی یہ والی دوا ابھی رہنے دو اگلے مہینے لے لوں گا بندن میاں کہتے ہیں اُس لمحے مجھے لگا جیسے وہ دوائی نہیں اپنی سانسیں آدھی کروا رہا تھا کیونکہ بیماری یہ نہیں دیکھتی کہ جیب میں کتنے پیسے ہیں شوگر بلڈ پریشر دل کے امراض جوڑوں کا درد یہ سب بیماریاں ریٹائرمنٹ کے بعد انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں بلکہ بڑھاپے کے ساتھ اور زیادہ چمٹ جاتی ہیں مگر افسوس اس ملک میں سرکاری ملازم کی سروس ختم ہوتے ہی اُس کی اہمیت بھی ختم کردی جاتی ہے بندن میاں اکثر حیران ہوتے ہیں کہ یہ کیسا نظام ہے جہاں اسمبلی اور سینٹ کے ممبران اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے لیے ایک ہوجاتے ہیں مگر پینشنرز کے لیے بجٹ بناتے وقت خزانہ خالی ہوجاتا ہے حکمرانوں کے لیے بیرون ملک علاج کے دروازے کھلے ہوتے ہیں اُن کے لیے ایئر ایمبولینس تک دستیاب ہوتی ہے اُن کے بچوں کی تعلیم بھی محفوظ ہوتی ہے اُن کی زندگی بھی مگر ایک پینشنر سرکاری اسپتال کے باہر لائن میں کھڑا اپنی باری کا انتظار کرتا رہتا ہے بندن میاں کہتے ہیں اس ملک میں طاقتور کے بخار کا علاج بھی وی آئی پی ہوتا ہے اور غریب کے دل کے دورے کو بھی عام بیماری سمجھ لیا جاتا ہے آج پینشنرز کی سب سے بڑی تکلیف صرف مالی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہے کیونکہ جب ایک باپ اپنی اولاد پر بوجھ بننے لگتا ہے تو وہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے بندن میاں نے کئی ایسے باپ دیکھے ہیں جو اپنی بیماری چھپاتے پھرتے ہیں تاکہ بیٹے پریشان نہ ہوں کئی ایسے بزرگ دیکھے ہیں جو رات کو درد کی گولیاں آدھی کرکے کھاتے ہیں تاکہ مہینہ پورا گزر سکے کئی ایسی مائیں دیکھی ہیں جو اپنی دوائی چھوڑ کر پوتوں کی فیس ادا کروانے کو ترجیح دیتی ہیں بندن میاں کہتے ہیں غربت انسان کو اتنا نہیں توڑتی جتنا بے بسی توڑ دیتی ہے اور پینشنرز کی سب سے بڑی بیماری اب بے بسی بن چکی ہے آج اگر کسی پینشنر کے گھر جا کر بیٹھیں تو وہاں عجیب خاموشی ملتی ہے دیوار پر لگی ریٹائرمنٹ کی تعریفی شیلڈ دھول میں ڈھکی ہوتی ہے الماری میں رکھی اسناد وقت کے ساتھ زرد پڑچکی ہوتی ہیں اور ایک کونے میں بیٹھا وہ شخص سوچ رہا ہوتا ہے کہ جس ملک کے لیے اُس نے اپنی جوانی کھپائی آج وہی ملک اُسے دوائی تک کیوں نہیں دے سکتا بندن میاں اکثر کہتے ہیں پاکستان میں عزت صرف نوکری تک محدود رہ گئی ہے ریٹائرمنٹ کے بعد انسان آہستہ آہستہ لوگوں کی ترجیحات سے نکلنے لگتا ہے پہلے دفتر والے بھول جاتے ہیں پھر معاشرہ اور پھر کبھی کبھی اپنے بھی مصروف ہوجاتے ہیں بندن میاں یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مہنگائی نے پینشنرز کے گھروں سے خوشی چھین لی ہے بجلی کے بل الگ عذاب بن چکے ہیں گیس کے بل الگ تکلیف بن چکے ہیں آٹا چینی گھی دال سبزی سب کچھ اُس رفتار سے مہنگا ہورہا ہے جس رفتار سے شاید ایک بوڑھا انسان سانس بھی نہیں لے سکتا آج ایک ریٹائرڈ ملازم مہینے کے شروع میں پینشن لیتا ہے اور چند دن بعد پھر خالی جیب بیٹھا سوچ رہا ہوتا ہے کہ باقی مہینہ کیسے گزرے گا بندن میاں کہتے ہیں اس ملک میں اب پینشن گزارہ نہیں بلکہ صرف زندہ رہنے کی ناکام کوشش بن چکی ہے پھر سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ حکومتیں ہر سال بجٹ میں بڑے بڑے دعوے کرتی ہیں غریب عوام ریلیف پیکیج سنتی ہے پینشنرز امید باندھتے ہیں مگر بجٹ ختم ہونے کے بعد اُن کی زندگی میں کچھ نہیں بدلتا بندن میاں کہتے ہیں حکمرانوں کو شاید کبھی کسی پینشنر کے گھر جا کر بیٹھنا چاہیے تاکہ اُنہیں معلوم ہو کہ مہنگائی صرف ٹی وی کی خبر نہیں ہوتی یہ انسان کی نیند چھین لیتی ہے اُس کی عزت چھین لیتی ہے اُس کی خودداری توڑ دیتی ہے بندن میاں اکثر ریلوے کے پینشنرز کا ذکر کرتے ہوئے اداس ہوجاتے ہیں کہتے ہیں کچھ بزرگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے پوری زندگی ریل کے پہیوں کے ساتھ گزار دی مگر آج اُن کے گھروں کے چولہے بجھ رہے ہیں کوئی اپنی بیوی کی دوائی کے لیے پریشان ہے کوئی اپنی بیٹی کی شادی کے لیے اور کوئی اپنے گھر کے کرائے کے لیے بندن میاں کہتے ہیں افسوس یہ ہے کہ اس ملک میں سڑکوں اور میٹرو منصوبوں پر تو اربوں خرچ ہوسکتے ہیں مگر بوڑھے انسان کی دوائی پر خرچ کرتے وقت خزانہ کم پڑجاتا ہے آج پینشنرز صرف مالی مشکلات کا شکار نہیں بلکہ احساس محرومی کا بھی شکار ہیں اُنہیں لگتا ہے جیسے اُن کی ساری خدمات فراموش کردی گئی ہیں بندن میاں کہتے ہیں یہ قوم اگر واقعی مہذب بننا چاہتی ہے تو سب سے پہلے اپنے بزرگوں کا احترام سیکھے کیونکہ جو معاشرہ اپنے بوڑھوں کو بے وقعت کردے وہاں ترقی صرف عمارتوں تک محدود رہ جاتی ہے انسانیت مرجاتی ہے بندن میاں کی آواز اُس وقت بھر جاتی ہے جب وہ کہتے ہیں کہ ایک پینشنر صرف ریٹائرڈ ملازم نہیں ہوتا وہ ایک مکمل تاریخ ہوتا ہے اُس کی جھریوں میں برسوں کی محنت چھپی ہوتی ہے اُس کے کمزور ہاتھوں میں فائلوں کا بوجھ ہوتا ہے اُس کی خاموشی میں بچوں کی قربانیاں ہوتی ہیں اور اُس کی آنکھوں میں وہ خواب دفن ہوتے ہیں جو اُس نے اپنی اولاد کے لیے دیکھے تھے مگر افسوس آج یہی لوگ سب سے زیادہ نظر انداز کیے جارہے ہیں بندن میاں صدر پاکستان وزیر اعظم پاکستان وزیر خزانہ اور قومی اسمبلی و سینٹ کے تمام اراکین سے سوال کرتے ہیں کہ آخر کب تک پینشنرز کو صرف وعدوں پر زندہ رکھا جائے گا آخر کب تک یہ لوگ دوائی اور راشن کے درمیان فیصلہ کرتے رہیں گے آخر کب تک ایک باپ اپنی بیماری چھپا کر بچوں پر بوجھ نہ بننے کی کوشش کرتا رہے گا بندن میاں کہتے ہیں اگر حکومت واقعی عوامی حکومت ہے تو پھر آنے والے بجٹ میں سب سے پہلے پینشنرز کو ریلیف دیا جائے اُن کی پینشن مہنگائی کے تناسب سے بڑھائی جائے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں اُن کے لیے مفت علاج یقینی بنایا جائے دوائیاں مفت فراہم کی جائیں بجلی اور گیس کے بلوں میں خصوصی رعایت دی جائے اور سب سے بڑھ کر اُنہیں احساس دلایا جائے کہ ریاست اُنہیں بھولی نہیں بندن میاں کہتے ہیں حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار ہمیشہ نہیں رہتا آج جو لوگ بڑے بڑے پروٹوکول میں گھوم رہے ہیں کل وہ بھی بڑھاپے کی دہلیز پر ہوں گے کل اُنہیں بھی دوائی کی ضرورت پڑے گی کل اُنہیں بھی احساس ہوگا کہ بڑھاپے میں سب سے بڑی ضرورت پیسہ نہیں عزت اور سہارا ہوتا ہے بندن میاں آخر میں ہمیشہ ایک ہی بات کہتے ہیں کہ کسی بھی قوم کی اصل ترقی اُس کے پلوں سڑکوں یا عمارتوں سے نہیں بلکہ اُس بات سے دیکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے بوڑھوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے اور آج اگر پاکستان کے لاکھوں پینشنرز خاموش آنسو بہا رہے ہیں تو یہ صرف اُن کا دکھ نہیں یہ پوری ریاست کے ضمیر کا امتحان ہے کیونکہ جس ملک میں عمر بھر خدمت کرنے والے لوگ بڑھاپے میں دوائی اور عزت کے لیے ترس جائیں وہاں صرف معیشت کمزور نہیں ہوتی وہاں انسانیت بھی بیمار ہوجاتی ہے۔