مردان (خصوصی رپورٹ) خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں ہمت اور ایمان کی ایسی داستان سامنے آئی ہے جس نے انسانی عقل کو حیران کر دیا ہے۔ پلوڈھیری کے مقام پر ماربل کی کان میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں دب جانے والا مزدور عبدالوہاب 17 روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد معجزانہ طور پر زندہ نکال لیا گیا۔
حادثے کا پس منظر : یہ افسوسناک واقعہ 31 مارچ کو عصر کے وقت پیش آیا جب پہاڑ سے بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور کام میں مصروف مزدور ملبے تلے دب گئے۔ حادثے کے فوری بعد ریسکیو 1122 نے آپریشن شروع کیا، جس کے نتیجے میں 8 مزدوروں کی لاشیں نکالی گئیں جبکہ 3 زخمیوں کو بچا لیا گیا، تاہم مہمند سے تعلق رکھنے والا مزدور عبدالوہاب لاپتہ رہا۔
17 دن کی صبر آزما داستان: عبدالوہاب نے ہوش و حواس میں آنے کے بعد بتایا کہ جس وقت پہاڑ گرا، وہ ایک سرنگ نما جگہ میں پھنس گئے تھے۔ انہوں نے ہمت ہارنے کے بجائے اللہ پر بھروسہ رکھا۔ ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ تھا، وہ صرف بارش کے اس پانی پر گزارا کرتے تھے جو پہاڑ کی درڑوں سے بوند بوند ٹپکتا تھا۔
عبادت اور عزم و ہمت: عبدالوہاب کے مطابق، اندھیری سرنگ میں انہیں دن اور رات کا فرق معلوم نہیں ہوتا تھا، لیکن وہ دل کی تسلی اور وقت کے اندازے پر پانچ وقت کی نماز اور نوافل ادا کرتے رہے۔ انہوں نے بتایا:
"میں نے خود سے عہد کیا تھا کہ چاہے 10 دن لگیں یا مہینہ، میں یہاں سے زندہ نکلوں گا۔ میں اپنی ٹانگوں کو حرکت دیتا رہتا تھا تاکہ وہ سن نہ ہو جائیں اور جسمانی طور پر فعال رہنے کی کوشش کرتا رہا۔”
والدہ کی یاد اور جذباتی لمحات : عبدالوہاب نے بتایا کہ ان لمحات میں انہیں اپنے بیمار والدین بہت یاد آئے۔ خاص طور پر اپنی والدہ کی بیماری کا سوچ کر وہ رو پڑتے تھے، لیکن پھر بھی ان کی زندگی کی امید برقرار رہی۔
کامیاب ریسکیو آپریشن: 16 اپریل کو جب ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹاتے ہوئے قریب پہنچیں تو عبدالوہاب نے چیخ کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ ریسکیو اہلکاروں نے جب 17 دن بعد ایک انسان کو زندہ حالت میں ملبے سے نکلتے دیکھا تو وہ بھی دنگ رہ گئے۔
مطالبہ اور پیغام: ہسپتال میں زیر علاج عبدالوہاب نے ٹھیکیداروں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں کیونکہ یہ کام انتہائی خطرناک ہے اور معمولی غفلت کئی جانیں لے سکتی ہے۔




