اسلام آباد: حکومت کی جانب سے وفاقی ترقیاتی بجٹ (PSDP) میں ایک بار پھر بڑی کٹوتی کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے اہم سماجی اور انفراسٹرکچر کے شعبے بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق، تازہ ترین اقدام میں ترقیاتی فنڈز سے مزید 63 ارب روپے نکال لیے گئے ہیں۔ اس کٹوتی کے بعد رواں مالی سال کے لیے ترقیاتی بجٹ کا کل حجم جو پہلے ایک ہزار ارب روپے تھا، اب کم ہو کر صرف 837 ارب روپے رہ گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کٹوتی کی زد میں پانی، تعلیم، صحت، ریلوے، ہاؤسنگ، اور آئی ٹی و ٹیلی کام سمیت تمام اہم شعبے آئے ہیں۔ یہ رواں برس کٹوتی کا دوسرا بڑا مرحلہ ہے؛ اس سے قبل مارچ میں بھی پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی فراہم کرنے کے لیے 100 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی تھی۔ اب تک مجموعی طور پر ترقیاتی بجٹ میں 163 ارب روپے کی کمی کی جا چکی ہے، جس سے جاری منصوبوں کی تکمیل اور عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں شدید تاخیر کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے



