تحریر: شیخ توصیف رستم
آج کا دور مشکلات اور پریشانیوں سے بھرا ہوا ہے۔ کاروبار کمزور پڑ رہے ہیں، زندگی کی رفتار تیز ہو چکی ہے اور اخراجات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف انسان کی خواہشات بھی ہر وقت اسے بے چین رکھتی ہیں۔ ایسے حالات میں ذہنی دباؤ (ڈپریشن) کا شکار ہو جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں، بلکہ ایک فطری ردِعمل ہے۔
مگر ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم آہستہ آہستہ دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
ہم اکثر خود سے وعدے کرتے ہیں:
"کل سے نماز شروع کروں گا”،
"جمعہ سے پابندی کروں گا”،
"اگلے ہفتے سے سب ٹھیک کر لوں گا”
لیکن یہ "کل” کبھی نہیں آتا۔
اس دوری کے اثرات ہماری زندگی میں بے چینی، غصے اور بے سکونی کی صورت میں ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ پھر ہم وہ غصہ کہیں اور نکالنے لگتے ہیں.گھر میں، بیوی بچوں پر، یا سوشل میڈیا پر۔
آپ غور کریں…
جب انسان اندر سے پریشان ہوتا ہے تو اس کی تحریر میں بھی تلخی آ جاتی ہے۔
الفاظ میں محبت کم اور نفرت، حسد اور بغض زیادہ نظر آتا ہے۔
وہ اچھائی کے نام پر دوسروں کو نشانہ بناتا ہے، مگر لوگ حقیقت کو سمجھتے ہیں—کیونکہ وہ آپ کو جانتے ہیں۔
یہ سب دراصل اندرونی بے سکونی اور ڈپریشن کی علامات ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ حل کیا ہے؟
✔ اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں (نماز کی پابندی کریں)
✔ روزانہ تھوڑی واک یا ورزش کو معمول بنائیں
✔ وقت پر سونے اور جاگنے کی عادت ڈالیں
✔ مثبت سوچ اپنائیں
✔ اپنے کام اور کاروبار پر توجہ دیں
✔ سب سے بڑھ کر اپنی فیملی اور بچوں کو وقت دیں
یاد رکھیں، سکون کہیں باہر نہیں—یہ آپ کے اپنے فیصلوں میں چھپا ہے۔
آج خود کو بدلنے کا فیصلہ کریں، کیونکہ اگر آپ سنبھل گئے تو بہت کچھ سنبھل جائے گا…
اور اگر آپ بکھر گئے تو صرف آپ نہیں، آپ سے جڑے کئی رشتے بھی متاثر ہوں گئے۔





