اپریل 18, 2026

پاکستان ریلویز چمکتی دیواریں زنگ آلود پٹریاں

تحریر: محمدانوربھٹی

بندن میاں آج پھر ریلوے اسٹیشن کی اسی پرانی بینچ پر بیٹھے تھے فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار پلیٹ فارم کی دیواریں کچھ زیادہ چمک رہی تھیں ویٹنگ روم میں اے سی کی ٹھنڈی ہوا رواں تھی اور واش روم بھی کسی فائیو اسٹار ہوٹل کا منظر پیش کر رہا تھا بندن میاں نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور بولے لگتا ہے ریل اب واقعی ترقی کر گئی ہے یہ الگ بات ہے کہ مسافر تو ویسے ہی دھکے کھا رہا ہے ۔محنت کش پریشان حال ہیں مگر دیواریں خوشحال ہو گئی ہیں پھر انہوں نے سامنے کھڑی ایک مسافر ٹرین کی خستہ حال کوچ کو دیکھا جس کی کھڑکیاں ایسے لرز رہی تھیں جیسے ہر جھٹکے پر اپنی آخری گھڑی کا اعلان کر رہی ہوں بندن میاں مسکرائے اور بولے واہ رے ترقی ایک طرف دیواروں کی چمک دمک اور دوسری جانب پٹریوں کی زبوں حالی ۔اتنے میں کسی نے خبر دی کہ وزیر صاحب نے بڑا انقلابی اعلان کیا ہے کہ اب کوچز میں کیمرے نصب ہوں گے تاکہ حادثات کا خاتمہ ہو سکے بندن میاں نے زور دار قہقہہ لگایا اور بولے سبحان اللہ اب سانحہ نہیں ہوگا کیونکہ کیمرہ دیکھ کر ٹرین خود شرما جائے گی اور پٹری سے نہیں اترے گی کپلنگ بھی خوف کھا کر سلامت رہے گی اور بفر بھی عزت بچانے کو اپنی جگہ جمے رہیں گے بندن میاں نے سر تھام لیا اور بولے اے میرے ملک کے دانشورو یہ کیمرے نہیں یہ تو ہماری سوچ کا پوسٹ مارٹم ہیں۔
پھر بندن میاں کی آنکھوں کے سامنے وہ تمام حادثات گردش کرنے لگے لودھراں کے قریب الٹتی ہوئی عوام ایکسپریس لاکھا روڈ پر کھڑی گڈز ٹرین سے شالیمار ایکسپریس کا ٹکراؤ مسافروں کی چیخ و پکار آدم واہن اسٹیشن پر بفر ٹوٹنے کا واقعہ وزیرآباد جنکشن پر گرین لائن کا حادثہ بندن میاں کی آواز بھرّا گئی اور وہ بولے یہ سانحات نہیں بلکہ ہماری نااہلی کے اشتہار ہیں یہ وہ حقیقت ہے جسے ہر بار کسی فائل کے نیچے دبا دیا جاتا ہے کبھی انسانی غلطی کا بہانہ بنایا جاتا ہے کبھی فنی خرابی کا پردہ ڈالا جاتا ہے مگر سچ یہ ہے کہ یہ سب مل کر ایک اجتماعی جرم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
بندن میاں نے داڑھی سہلاتے ہوئے کہا مگر ایک اور داستان بھی ہے جسے سننے کی کسی کو فرصت نہیں ریلوے کی آمدن میں اضافہ ہو رہا ہے عید کے تین دنوں میں اڑتالیس کروڑ کی کمائی کوئی معمولی بات نہیں اب سوال یہ نہیں کہ ریل کمانے لگی ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ جب ایک سرکاری ادارہ دوبارہ سانس لینے لگے تو کن چہروں کی رونق ماند پڑتی ہے کن مفادات کی بنیادیں لرزتی ہیں کن کاروباروں میں بے چینی کی لہر دوڑتی ہے بندن میاں نے آنکھ دبا کر آہستہ سے کہا بیٹا جب ریل مضبوط ہوتی ہے تو سڑکوں کے تاجروں کے دل کمزور ہونے لگتے ہیں جب پٹریاں آباد ہوتی ہیں تو کچھ منافع خوروں کے راستے سنسان ہو جاتے ہیں اور جہاں مفاد کی دیواریں دراڑیں لینے لگیں وہاں حادثات محض حادثات نہیں رہتے بلکہ سوالیہ نشان بن جاتے ہیں چاہے وہ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ مافیا ہو یا کوئی اور طاقت یہ کھیل صرف پٹریوں پر نہیں بلکہ پس پردہ بھی جاری رہتا ہے اور ہم ہر بار ڈرائیور پوائنٹس مین اسٹیشن ماسٹر اور گینگ مین کو قصوروار ٹھہرا کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں۔
پھر بندن میاں نے پٹریوں کی جانب اشارہ کیا اور بولے اصل کہانی یہاں رقم ہے جہاں زنگ آلود ٹریک فریاد کر رہا ہے کہ مجھے درست کرو جہاں کوچز اپنی عمر پوری ہونے کے باوجود زبردستی دوڑائی جا رہی ہیں جہاں کپلنگ ٹوٹتی ہے بفر گرتے ہیں اور ٹریس بار ہیگنگ معمول بن چکی ہے مگر افسوس کہ وزیر سے لے کر افسر تک سب کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی کیونکہ ان کے دفاتر کے اے سی درست چل رہے ہیں ۔اسی دوران بندن میاں نے دیکھا کہ قریب ہی چند بزرگ آپس میں الجھ پڑے کہ اصل یونین کون سی ہے کچھ کہہ رہے تھے ہم حقیقی ہیں کچھ بضد تھے کہ نہیں ہم ہی اصل ہیں بندن میاں نے سب کو غور سے دیکھا اور ہنس کر بولے ریل ڈوب رہی ہے مزدور پس رہا ہے اور لیڈران نشان کے جھگڑے میں الجھے ہوئے ہیں کبھی ایک لیٹر پیڈ پر دو نشان چھاپتے ہیں کبھی ایک دوسرے کو جعلی کہتے ہیں خدا کا خوف کرو یہ یونین نہیں بچوں کا کھیل بن چکا ہے بندن میاں نے سنجیدگی سے کہا اگر واقعی مزدور کی بھلائی چاہتے ہو تو این آئی آر سی کے تحت الیکشن کراؤ جو جیتے اسے تسلیم کرو مگر یہاں مسئلہ خدمت کانہیں بلکہ انا کا ہے یہاں ہر کوئی اپنی برتری ثابت کرنا چاہتا ہے چاہے ریل زمین میں کیوں نہ دھنس جائے۔بندن میاں نے آخر میں قریب کھڑے نوجوانوں کی طرف دیکھا اور دھیمے مگر پُراثر لہجے میں کہااب وقت آ گیا ہے کہ تم اس بوسیدہ قیادت کے چنگل سے یونین کو آزاد کرالوکیونکہ جو لوگ ماضی کی زنجیروں میں جکڑے رہتے ہیں وہ مستقبل کی راہیں ہموار نہیں کر سکتے اگر تم نے بھی آج اپنی آواز بلند نہ کی تو کل یہی پٹریاں بھی تمہارا ساتھ چھوڑ دیں گی اور تم بھی اسی بینچ پر بیٹھ کر یہی داستان دہراتے رہو گے۔یہ کہہ کر بندن میاں اٹھے پٹری کو ہاتھ لگایا اور آہستہ سے بولے،یا اللہ اس ریل پر رحم فرما کیونکہ یہاں نہ نیتیں درست رہی ہیں نہ ترجیحات اور جب نیتیں اور ترجیحات بگڑ جائیں تو نہ کیمرے کام آتے ہیں نہ دعائیں سانحات کو روک سکتی ہیں۔
مگر بندن میاں یہ کہہ کر خاموش نہ ہوئے وہ آگے بڑھے اور جیسے ماضی کے دریچوں میں جھانکنے لگے انہوں نے کہا ایک وقت تھا جب یہی پٹریاں امید کی علامت تھیں جب ریل کی سیٹی سن کر دلوں میں خوشی دوڑ جاتی تھی جب ایک ٹکٹ صرف سفر نہیں بلکہ اعتماد کی رسید ہوا کرتا تھا مگر آج یہی ریل سوال بن چکی ہے اعتماد کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے اور یقین کا انجن بار بار رک جاتا ہے۔ انہوں نے دفتر میں بیٹھے ایک کلرک کو دیکھا جو رجسٹر کے اوراق پلٹ رہا تھا بندن میاں نے پوچھا کیا تلاش کر رہے ہو اس نے جواب دیا حساب مگر بندن میاں مسکرا کر بولے یہاں حساب نہیں بلکہ پورا نظام بگڑا ہوا ہے یہاں نقصان درج نہیں ہوتا بلکہ بہانے لکھے جاتے ہیں۔
اسی لمحے ایک نوجوان مزدور آیا جس کے ہاتھوں پرمحنت کے گہرے چھالے تھے انگلیوں کے جوڑ پھٹے ہوئے تھے ہتھیلیاں زخموں سے بھری تھیں اور آنکھوں میں نیند سے زیادہ تھکن اور بے بسی کا سایہ تھا اس نے دھیمی مگر بوجھل آواز میں کہا میاں جی ہم دن رات اس ریل کو چلانے کی کوشش کرتے ہیں مگر ہمارے پاس نہ مکمل اوزار ہیں نہ ضروری اسپیئر پارٹس ایک پرزہ خراب ہو جائے تو ہم اسے جوڑ توڑ کر وقتی سہارا دے دیتے ہیں اوپر سے حکم آتا ہے کہ ٹرین کو ہر حال میں بروقت روانہ کرو چاہے اس کی حالت کچھ بھی ہو بندن میاں نے اس کے ہاتھوں کو غور سے دیکھا جیسے ان زخموں میں پورے نظام کی کہانی پڑھ رہے ہوں پھر آہستہ سے بولے بیٹا جب مزدور کے ہاتھوں میں اوزار کم اور زخم زیادہ ہوں جب مرمت کے لیے پرزے دستیاب نہ ہوں اور حکم صرف وقت کی پابندی کا ہو جب افرادی قوت کم ہوتی جائے اور ذمہ داریاں بڑھتی جائیں تو یہ صرف کوتاہی نہیں رہتی بلکہ ایک اندھا نظام جنم لیتا ہے جو اپنی ہی بنیادیں کھوکھلی کرتا ہے ایسے میں حادثات اچانک نہیں ہوتے بلکہ آہستہ آہستہ پروان چڑھتے ہیں ہر ادھوری مرمت ہر عارضی حل ہر دباؤ میں دیا گیا حکم دراصل ایک آنے والے سانحے کی خاموش تیاری ہوتا ہے اور جب وہ سانحہ رونما ہوتا ہے تو سب سے پہلے انہی زخمی ہاتھوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس نظام کو چلانے کی کوشش کی ہوتی ہے۔
پھر انہوں نے ایک بچے کو دیکھا جو پٹری کے کنارے کھیل رہا تھا بندن میاں فوراً لپکے اور اسے آہستگی سے پیچھے ہٹاتے ہوئے بولے بیٹا یہ کھیلنے کی جگہ نہیں یہ لوہے کی لکیر نہیں بلکہ زندگی اور موت کے درمیان کھینچی گئی ایک باریک حد ہے یہاں ایک لمحے کی غفلت پوری زندگی کا خراج لے سکتی ہے مگر یہ کہتے کہتے بندن میاں کے لہجے میں ٹھہراؤ آ گیا اور وہ اندر ہی اندر کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے انہوں نے محسوس کیا کہ اصل خطرہ اس معصوم بچے کی لاعلمی نہیں بلکہ پورے نظام کی بے حسی ہے جس نے خطرے کو معمول اور غفلت کو روایت بنا دیا ہے جہاں حفاظتی اقدامات صرف کاغذوں میں موجود ہیں اور نگرانی فائلوں تک محدود ہے جہاں ذمہ داری کا احساس ماند پڑ جائے اور احتساب کا خوف ختم ہو جائے وہاں پٹری کے کنارے کھیلتا بچہ دراصل اس اجتماعی لاپرواہی کی علامت بن جاتا ہے جو آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہوتی ہے۔
اسی اثنا میں ہوا کا ایک جھونکا آیا اور دور سے ایک مدھم سی سیٹی کی آواز ابھری جو فضا میں پھیل کر عجیب سی اداسی چھوڑ گئی بندن میاں نے سر اٹھا کر اس آواز کو سنا اور آہستہ سے بولے یہ صرف ہوا کی سرسراہٹ نہیں بلکہ اس ادارے کی دبتی ہوئی چیخ ہے یہ اس نظام کی آہ ہے جو اپنی ہی بے ترتیبیوں کے بوجھ تلے سسک رہا ہے یہ وہ صدا ہے جو ہمیں خبردار کر رہی ہے کہ اگر ہم نے اب بھی خود کو نہ بدلا تو یہ سسکیاں کل ایک بڑے نوحے میں بدل جائیں گی اور پھر ہم صرف افسوس کے الفاظ دہراتے رہ جائیں گے مگر وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا انہوں نے درد بھرے لہجے میں کہا اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں تو کل یہ پٹریاں صرف لوہے کی سلاخیں نہیں رہیں گی بلکہ ہماری ناکامیوں کی زنجیر بن جائیں گی اور ہم سب اس کے قیدی ہوں گے
بندن میاں نے قدم بڑھائے مگر چند ہی قدم چل کر جیسے کسی ان دیکھے سوال نے انہیں روک لیا وہ ٹھہر گئے آہستہ سے پلٹے اور ایک طویل نظر اس پورے اسٹیشن پر ڈالی چمکتی دیواریں نئے رنگ سے سجے دفاتر افسران کے بنگلوں کی آرائش اور خوشنما لان ایک طرف تھے اور دوسری جانب تھکی ہوئی پٹریاں سانس پھولتی کوچیں اور بے بس مزدور بندن میاں کی آنکھوں میں ایک گہرا سوال ابھرا اور انہوں نے دھیمے مگر کاٹ دار لہجے میں کہا کیا واقعی یہی ترقی ہے کہ عمارتیں سنور جائیں مگر نظام بکھر جائے کیا فائدہ اس چمک دمک کا جب پٹریاں زنگ آلود ہوں اور کوچز اپنی آخری سانسیں لے رہی ہوں کیا یہ دانشمندی ہے کہ دفتروں کے پردے بدل دیے جائیں مگر انجن کے پرزے بدلنے کے لیے خزانہ خالی ہو انہوں نے ایک لمحہ توقف کیا اور پھر جیسے پورے نظام کو مخاطب کرتے ہوئے بولے اے اختیار کے ایوانوں میں بیٹھنے والو ریل دیواروں کے رنگ سے نہیں چلتی یہ پٹریوں کی مضبوطی اور پرزوں کی درستگی سے چلتی ہے اگر واقعی خدمت کا دعویٰ ہے تو سب سے پہلے ٹریک کی بحالی کو ترجیح دو کوچنگ بوگیوں کی مکمل مرمت کو یقینی بناؤ ہر کپلنگ ہر بفر ہر پہیے کو وہ توجہ دو جو ایک زندہ نظام کا تقاضا ہے کیونکہ ایک معمولی سی غفلت سینکڑوں زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتی ہے
پھر بندن میاں نے یونین کے نام نہاد علمبرداروں کی طرف رخ کیا اور کہا اور تم جو خود کو مزدور کا نمائندہ کہتے ہو ذرا اپنے گریبان میں جھانکو تمہاری لڑائیاں تمہاری انا کی جنگیں تمہارے نشانوں کا تنازع اس مزدور کے کس کام کا ہے جس کے ہاتھوں میں چھالے ہیں جس کے پاس اوزار بھی ناکافی ہیں اور جسے ہر روز حکم ملتا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں ٹرین کو روانہ کرو تم نے کب اس کے لیے آواز بلند کی تم نے کب اس کے لیے مکمل سہولتوں کا مطالبہ کیا تم نے کب اس کی حفاظت کو اپنی ترجیح بنایا اگر تم واقعی نمائندہ ہو تو پھر دست و گریباں ہونے کے بجائے متحد ہو جاؤ اس مزدور کے لیے کھڑے ہو جاؤ جس کے کندھوں پر یہ پورا نظام ٹکا ہوا ہے۔
بندن میاں کی آواز اب بلند نہیں تھی مگر اس میں ایسی سچائی تھی جو ہر شور سے زیادہ اثر رکھتی تھی وہ بولے یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ آئینہ دیکھنے کا ہے حکومت کو بھی اور یونین کو بھی افسر کو بھی اور مزدور کو بھی سب کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر ریل ڈوبی تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں سب شریک ہیں اور سب کو اپنی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی انہوں نے آخری بار پٹری کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا یاد رکھو ریل صرف ایک محکمہ نہیں بلکہ ایک قوم کی شہ رگ ہے اگر یہ کمزور ہو گئی تو پورا جسم مفلوج ہو جائے گا اس لیے ابھی بھی وقت ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں ترجیحات درست کریں دکھاوے کے بجائے حقیقت کو سنواریں اور انا کے بجائے خدمت کو اپنائیں یہ کہہ کر بندن میاں خاموش ہو گئے اور دھیرے دھیرے بھیڑ میں گم ہو گئے مگر ان کی آواز دیر تک فضا میں گونجتی رہی کہ قومیں عمارتوں کی چمک سے نہیں بلکہ نظام کی مضبوطی سے پہچانی جاتی ہیں اور جب آئینہ سچ دکھائے تو اس سے نظریں نہیں چرائی جاتیں بلکہ خود کو بدلا جاتا ہے ورنہ وقت خود فیصلہ سنا دیتا ہے اور پھر صرف افسوس باقی رہ جاتا ہے۔