ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ ایران نے جاری کشیدگی میں جنگ کا نیا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ اپنے بیان میں پاسداران انقلاب نے کہا کہ انہیں توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے پر مجبور کیا گیا اور یہ اقدام ردعمل کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران پڑوسی ممالک کی توانائی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنانا چاہتا تھا، تاہم ایرانی توانائی تنصیبات پر حملوں کے بعد حالات نے انہیں مجبور کیا کہ وہ امریکی کمپنیوں سے منسلک تنصیبات کو ہدف بنائیں۔ پاسداران انقلاب کے مطابق یہ کارروائیاں دفاعی حکمت عملی کے تحت کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے ریاض پر بیلسٹک میزائل حملے بھی کیے گئے، تاہم سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے چار میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
سعودی حکام کے مطابق تباہ کیے گئے میزائلوں کا ملبہ شہر کے مختلف علاقوں میں گرا، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ صورتحال کے پیش نظر سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور متعلقہ ادارے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے متحرک ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے اور اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو یہ تنازع وسیع تر شکل اختیار کر سکتا ہے۔




