اپریل 18, 2026

طاقت کی ہوس جنگ کا خوف اور انسانیت کی بقا کا المیہ

تحریر: محمد انور بھٹی

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب طاقتور ریاستیں اپنے مفادات کو اصولوں پر فوقیت دیتی ہیں تو عالمی نظام کے توازن میں دراڑیں پڑنا شروع ہوجاتی ہیں اور یہی دراڑیں رفتہ رفتہ ایسے شگافوں میں بدل جاتی ہیں جو پوری انسانیت کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں آج جو کشیدگی مشرق وسطیٰ کے افق پر نمودار ہو رہی ہے وہ محض دو یا تین ریاستوں کے درمیان ایک عسکری تصادم نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں طاقت سیاست عالمی مفادات معاشی دباؤ نظریاتی اختلافات اور صدیوں سے جاری جغرافیائی کشمکش کے وہ پیچیدہ دھاگے موجود ہیں جنہیں سمجھنا آسان نہیں مگر نظر انداز کرنا اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے جب کوئی طاقتور ملک یا اتحاد یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کے پاس عسکری قوت کا ایسا ذخیرہ موجود ہے جس کے بل پر وہ اپنے مخالفین کو جھکا سکتا ہے تو تاریخ بار بار یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ سوچ اکثر الٹی پڑتی ہے کیونکہ جنگیں کبھی بھی صرف میدان جنگ میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ ان کے اثرات معیشت سیاست سماج اور عالمی توازن کے ہر پہلو میں سرایت کر جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے سنجیدہ مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی واقعی کسی بڑے عالمی تصادم کا پیش خیمہ تو نہیں بن رہی کیونکہ اگر اس خطے میں جنگ کی آگ پھیلتی ہے تو اس کے شعلے صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کی بنیادوں کو ہلا سکتے ہیں جب امریکہ اور اسرائیل جیسے طاقتور اتحادی کسی عسکری کارروائی کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو ان کے حامی اسے دفاعی ضرورت یا سلامتی کا تقاضا قرار دیتے ہیں جبکہ ناقدین اسے طاقت کے عدم توازن کا مظہر اور سفارتی عمل کی ناکامی سمجھتے ہیں حقیقت شاید ان دونوں بیانیوں کے درمیان کہیں موجود ہے کیونکہ عالمی سیاست میں مکمل سچائی اکثر کسی ایک فریق کے پاس نہیں ہوتی بلکہ ہر ریاست اپنے مفادات کے مطابق واقعات کی تشریح کرتی ہے اس وقت دنیا کے بہت سے حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا واقعی مذاکرات کی فضا میں عسکری کارروائی کرنا ایک مناسب حکمت عملی تھی یا یہ ایک ایسا قدم تھا جس نے خطے میں عدم اعتماد کو مزید گہرا کردیا ہے اگر کسی ملک کو یہ احساس ہو کہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں تو وہ اپنی پوزیشن کو نرم کرنے کی طرف مائل ہوسکتا ہے لیکن اگر اسی دوران اسے حملے کا سامنا کرنا پڑے تو اس کے اندر بداعتمادی اور انتقام کا جذبہ بڑھنا فطری امر ہے یہی وجہ ہے کہ عالمی سفارت کاری میں اعتماد کا عنصر بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور جب یہ اعتماد ٹوٹ جاتا ہے تو مذاکرات کا عمل بھی کمزور پڑ جاتا ہے مشرق وسطیٰ کی سیاست پہلے ہی فرقہ وارانہ تنازعات علاقائی رقابتوں اور عالمی طاقتوں کی مداخلت سے پیچیدہ ہوچکی ہے ایسے میں کسی بھی بڑے عسکری اقدام کے اثرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں کیونکہ اس خطے میں ہر ملک کے پیچھے کسی نہ کسی بڑی طاقت کی سیاسی یا معاشی دلچسپی موجود ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ جب ایک جنگ شروع ہوتی ہے تو اس کے دائرے میں آہستہ آہستہ دیگر ممالک بھی شامل ہوتے جاتے ہیں اور پھر صورتحال ایک ایسی پیچیدہ شطرنج میں تبدیل ہوجاتی ہے جہاں ہر چال کے پیچھے کئی خفیہ مقاصد پوشیدہ ہوتے ہیں دنیا کے بڑے ممالک جیسے روس اور چین اس وقت بظاہر محتاط پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں کیونکہ وہ براہ راست کسی بڑے عسکری تصادم میں شامل ہونے کے بجائے سفارتی اور معاشی اثر و رسوخ کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں روس کی پالیسی گزشتہ چند برسوں میں خاص طور پر یوکرین کے تنازع کے بعد زیادہ محتاط ہوگئی ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ براہ راست عالمی محاذ آرائی اس کی معیشت اور داخلی استحکام پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے اسی طرح چین جو اس وقت عالمی معیشت کا ایک بڑا ستون بن چکا ہے وہ کھلی جنگی سیاست سے گریز کرتے ہوئے معاشی سفارت کاری کے ذریعے اپنا اثر بڑھانا چاہتا ہے چین کی قیادت جانتی ہے کہ اگر عالمی جنگ کا ماحول پیدا ہوتا ہے تو اس کے تجارتی راستے سپلائی چین اور صنعتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اس لیے وہ زیادہ تر مواقع پر ثالثی اور توازن کی پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے جاپان یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک بھی اسی مخمصے کا شکار ہیں کیونکہ ایک طرف وہ امریکہ کے اتحادی ہیں اور دوسری طرف وہ کسی بڑے عالمی تصادم سے خوفزدہ بھی ہیں اس لیے ان کی پالیسی اکثر محتاط بیانات اور محدود حمایت تک محدود رہتی ہے عالمی سیاست کی ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ بڑی طاقتیں اکثر جنگوں کو براہ راست لڑنے کے بجائے اتحادیوں کے ذریعے لڑتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے مبصرین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا امریکہ واقعی اسرائیل کی جنگ لڑ رہا ہے یا اس کے اپنے اسٹریٹجک مفادات اس میں شامل ہیں حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے لیے مشرق وسطیٰ ہمیشہ سے ایک اسٹریٹجک خطہ رہا ہے کیونکہ یہاں توانائی کے بڑے ذخائر موجود ہیں اور عالمی تجارتی راستے بھی اسی خطے سے گزرتے ہیں اگر اس خطے میں اس کا اثر و رسوخ کمزور پڑ جائے تو اس کے عالمی اثرات بھی محدود ہوسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کی حمایت کو اپنی عالمی حکمت عملی کا حصہ سمجھتا ہے لیکن اس پالیسی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے کیونکہ جب کوئی طاقت بار بار عسکری مداخلت کرتی ہے تو اس کے اپنے وسائل بھی تیزی سے خرچ ہوتے ہیں امریکہ نے گزشتہ دو دہائیوں میں افغانستان اور عراق جیسی جنگوں پر کھربوں ڈالر خرچ کیے اور ان جنگوں کے نتائج آج بھی متنازع ہیں اس لیے یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آیا ایک نئی کشیدگی اس کی معیشت پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے یا نہیں تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی طاقتیں اکثر اپنی فوجی برتری کے باوجود معاشی دباؤ کی وجہ سے کمزور پڑ جاتی ہیں سوویت یونین کی مثال اکثر پیش کی جاتی ہے جس نے عسکری میدان میں طاقت کے باوجود معاشی مشکلات کے باعث اپنا عالمی مقام کھو دیا تاہم امریکہ کی معیشت سوویت یونین سے مختلف ہے کیونکہ اس کے پاس عالمی مالیاتی نظام پر گہرا اثر و رسوخ موجود ہے ڈالر کی عالمی حیثیت اور اس کی ٹیکنالوجی معیشت اسے ایک منفرد طاقت فراہم کرتی ہے لیکن اس کے باوجود طویل جنگیں کسی بھی ملک کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں کیونکہ وہ داخلی سیاست کو بھی متاثر کرتی ہیں اور عوامی اعتماد کو بھی کمزور کرتی ہیں امریکی سیاست میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ خارجہ پالیسی کے فیصلے اندرونی سیاسی دباؤ سے بھی متاثر ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بیانات اور پالیسیوں میں تضاد محسوس ہوتا ہے جب کسی صدر کے بیانات بار بار بدلتے نظر آئیں تو عالمی مبصرین اسے حکمت عملی کی لچک بھی کہہ سکتے ہیں اور پالیسی کی غیر یقینی صورتحال بھی یہی غیر یقینی صورتحال عالمی منڈیوں کو بھی متاثر کرتی ہے کیونکہ سرمایہ کار اور ریاستیں دونوں یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ مستقبل کا رخ کس طرف جا رہا ہے ایٹمی طاقتوں کی موجودگی اس پورے منظرنامے کو مزید حساس بنا دیتی ہے کیونکہ جب کئی ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہوں تو کسی بھی بڑی جنگ کے نتائج ناقابل تصور ہوسکتے ہیں جنوبی ایشیا میں پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے جبکہ مشرقی ایشیا میں شمالی کوریا بھی اسی صلاحیت کا حامل ہے مشرق وسطیٰ میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر عالمی بحث جاری ہے جبکہ اسرائیل کے بارے میں بھی طویل عرصے سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس ایٹمی صلاحیت موجود ہے ایسے میں اگر کسی بڑے تصادم میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ پیدا ہو جائے تو پوری دنیا اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتی یہی وجہ ہے کہ عالمی سفارت کاری میں ایٹمی پھیلاؤ کو روکنے کے معاہدوں کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ طاقت کی سیاست اکثر ان معاہدوں کو کمزور کر دیتی ہے اگر کبھی مشرق وسطیٰ میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال ہوا تو اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اور شاید پوری دنیا اس کے اثرات محسوس کرے گی اس لیے اکثر ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بڑی طاقتوں کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو صورتحال کو اس حد تک دھکیل دیں جہاں واپسی کا راستہ مشکل ہو جائے سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا امریکہ اس کشیدگی میں پھنس سکتا ہے کیونکہ تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک محدود عسکری کارروائی رفتہ رفتہ ایک طویل تنازع میں تبدیل ہو گئی اور پھر اس سے نکلنا مشکل ہو گیا افغانستان اور عراق کی مثالیں اسی حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں اگر کوئی تنازع لمبا کھنچ جائے تو اس کے اخراجات صرف مالی نہیں ہوتے بلکہ سیاسی اور سماجی بھی ہوتے ہیں امریکی معاشرے میں بھی جنگوں کے بارے میں رائے منقسم رہتی ہے کچھ حلقے اسے عالمی قیادت کی ضرورت سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے اسے غیر ضروری مداخلت قرار دیتے ہیں یہی داخلی بحث اکثر امریکی پالیسی کو پیچیدہ بنا دیتی ہے عالمی سطح پر اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ کیا طاقت کی سیاست سفارت کاری پر غالب آتی جا رہی ہے اگر ایسا ہوا تو دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہوسکتی ہے جہاں علاقائی جنگیں زیادہ عام ہوں گی اور عالمی ادارے کمزور پڑ جائیں گے لیکن اگر بڑی طاقتیں یہ سمجھ لیں کہ طویل المدت استحکام صرف مذاکرات اور تعاون سے ممکن ہے تو شاید دنیا ایک بڑے تصادم سے بچ سکتی ہے اس وقت دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہر فیصلہ مستقبل کی سمت متعین کر سکتا ہے تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ انسانیت نے کئی بار تباہ کن جنگوں کے بعد ہی امن کی قدر کو سمجھا ہے پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد ہی عالمی اداروں اور سفارتی نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ طاقت کی سیاست دوبارہ سر اٹھا لیتی ہے اور دنیا پھر اسی دوراہے پر آ کھڑی ہوتی ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ تصادم کے راستے پر چلنا چاہتی ہے یا تعاون کے راستے پر اگر موجودہ کشیدگی کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک پہنچ سکتے ہیں کیونکہ جدید جنگیں صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ معیشت ماحول اور عالمی امن کے ہر پہلو کو متاثر کرتی ہیں اس لیے دنیا کے سنجیدہ حلقے آج یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا عالمی قیادت کے پاس اتنی دانش موجود ہے کہ وہ طاقت کے نشے سے نکل کر عقل اور تدبر کا راستہ اختیار کرے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ کشیدگی واقعی دنیا کو ایک ایسے اندھیرے کی طرف لے جا سکتی ہے جہاں سے واپسی کا راستہ بہت مشکل ہو جائے گا اور انسانیت کو ایک بار پھر یہ احساس ہوگا کہ جنگیں کبھی بھی حقیقی فتح نہیں لاتیں بلکہ وہ صرف شکست خوردہ انسانیت کی داستانیں چھوڑ جاتی ہیں۔