اپریل 17, 2026

طاقت کا غرور یا معیشت کا بوجھ مشرق وسطیٰ کی جنگ کا اصل سوال

تحریر: محمد انور بھٹی

عالمی سیاست اور جنگی معیشت کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بڑی طاقتیں اکثر اپنی عسکری قوت کے نشے میں ایسے فیصلے کر بیٹھتی ہیں جن کے معاشی اثرات بہت دیر تک ان کا پیچھا کرتے رہتے ہیں اور جب جنگ کا دھواں چھٹتا ہے تو میدان میں صرف تباہی اور خزانے کی خالی ہوتی ہوئی تجوریاں باقی رہ جاتی ہیں حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ کے گرد گھومتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی عسکری ٹکراؤ کی خبریں اسی حقیقت کی ایک نئی مثال کے طور پر سامنے آ رہی ہیں مختلف عالمی اخبارات اور تجزیاتی رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ امریکہ نے صرف چند دنوں کے اندر اربوں ڈالر جنگی اخراجات کی نذر کر دیے ہیں اور اگر یہ تنازعہ اسی شدت کے ساتھ جاری رہا تو اس کے مالی اثرات نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی مالیاتی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم جنگی معیشت کے اس پورے منظر نامے کا ٹھنڈے دماغ سے جائزہ لیں کیونکہ اکثر جنگ کے بارے میں عوامی بیانیہ جذباتی اور سیاسی نعروں سے متاثر ہوتا ہے جبکہ اصل حقیقت خزانے کے حساب کتاب میں چھپی ہوتی ہے اور یہی وہ پہلو ہے جو کسی بھی طاقت کی اصل طاقت اور اس کی کمزوری کو بے نقاب کر دیتا ہے امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے اور اس کا دفاعی بجٹ بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہے لیکن اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں مسلسل جنگوں نے اس کے مالی وسائل پر ایک غیر معمولی دباؤ پیدا کیا ہے افغانستان اور عراق کی جنگوں پر کھربوں ڈالر خرچ ہوئے اور اس کے بعد یوکرین کے بحران نے بھی امریکی خزانے پر ایک نیا بوجھ ڈال دیا اب اگر ایران کے ساتھ ایک وسیع پیمانے کا عسکری تنازعہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا مطلب صرف فوجی کارروائیاں نہیں بلکہ ایک مکمل جنگی معیشت کی طرف واپسی ہے جس کے اثرات بہت دور تک محسوس کیے جائیں گے حالیہ رپورٹس میں جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں ان کے مطابق صرف چند دنوں میں اربوں ڈالر کے میزائل اور دفاعی نظام استعمال ہوئے ہیں اور اس بات پر خاص توجہ دی جا رہی ہے کہ جدید جنگ کا ایک بڑا تضاد سامنے آ رہا ہے جس میں ایک طرف سستے ڈرون اور کم قیمت ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف ان کو روکنے کے لیے انتہائی مہنگے دفاعی نظام استعمال کیے جا رہے ہیں یہ صورتحال دراصل جدید جنگی حکمت عملی کی ایک بڑی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے کیونکہ اگر ایک ہزار یا چند ہزار ڈالر کا ڈرون کسی دفاعی نظام کو لاکھوں ڈالر کا میزائل استعمال کرنے پر مجبور کر دے تو طویل مدت میں معاشی توازن بگڑ جاتا ہے یہی وہ مسئلہ ہے جس کی طرف کئی دفاعی ماہرین نے اشارہ کیا ہے کہ مستقبل کی جنگیں صرف ہتھیاروں کی طاقت سے نہیں بلکہ معاشی برداشت سے جیتی جائیں گی اور اگر کوئی طاقت مسلسل مہنگے ہتھیار استعمال کرتی رہے جبکہ اس کا مخالف سستی ٹیکنالوجی کے ذریعے اسے تھکا دے تو وقت کے ساتھ ساتھ مالی دباؤ ایک فیصلہ کن عنصر بن سکتا ہے اسی تناظر میں امریکی دفاعی اخراجات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ ہر سال سینکڑوں ارب ڈالر دفاع پر خرچ کرتا ہے اور اس کا فوجی بجٹ دنیا کے کئی ممالک کے مجموعی دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود جدید جنگ کی رفتار اتنی تیز ہو چکی ہے کہ چند ہفتوں میں ہی اربوں ڈالر کے وسائل استعمال ہو سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکی کانگریس میں بھی وقتاً فوقتاً یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا امریکہ کو ہر عالمی تنازعے میں براہ راست مداخلت کرنی چاہیے یا اسے اپنی عسکری حکمت عملی کو محدود اور زیادہ مؤثر بنانا چاہیے اس بحث کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ امریکی معیشت اگرچہ بہت بڑی ہے لیکن اس پر پہلے ہی بھاری قرضوں کا بوجھ موجود ہے امریکہ کا قومی قرض کئی کھرب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور ہر سال بجٹ کا ایک بڑا حصہ صرف سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے ایسے حالات میں اگر نئی جنگیں شروع ہو جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حکومت کو مزید قرض لینا پڑے گا یا دوسرے شعبوں کے اخراجات کم کرنا پڑیں گے یہی وجہ ہے کہ کچھ معاشی ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی طویل ہو گئی تو کیا امریکہ اس مالی دباؤ کو آسانی سے برداشت کر سکے گا یا اسے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا پڑے گی اس سوال کا جواب فوری طور پر دینا آسان نہیں کیونکہ امریکہ کی معیشت اب بھی دنیا کی سب سے بڑی اور متنوع معیشت ہے اس کے پاس ٹیکنالوجی مالیاتی نظام اور عالمی کرنسی کی برتری جیسے ایسے عوامل موجود ہیں جو اسے دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ لچک دیتے ہیں لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ کوئی بھی طاقت اگر مسلسل جنگوں میں الجھی رہے تو آخرکار اس کی معاشی طاقت متاثر ہوتی ہے برطانیہ کی مثال ہمارے سامنے ہے جس نے دو عالمی جنگوں کے بعد اپنی عالمی برتری کھو دی کیونکہ جنگی اخراجات نے اس کی معیشت کو کمزور کر دیا اسی طرح سوویت یونین کی معیشت بھی سرد جنگ کے دوران فوجی اخراجات کے بوجھ تلے دبتی چلی گئی اور آخرکار وہ نظام ہی ٹوٹ گیا اگرچہ امریکہ کی صورتحال ان مثالوں سے مختلف ہے لیکن یہ تاریخی حقائق اس بات کی یاد دہانی ضرور کراتے ہیں کہ معاشی طاقت کے بغیر فوجی طاقت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات میں ایک اور اہم پہلو توانائی کی سیاست ہے خلیج فارس دنیا کے تیل کی سپلائی کا ایک اہم راستہ ہے اور اگر وہاں کشیدگی بڑھتی ہے یا سمندری راستے متاثر ہوتے ہیں تو تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں اس کا اثر صرف امریکہ پر نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت پر پڑے گا کیونکہ توانائی کی قیمتیں بڑھنے سے نقل و حمل صنعت اور تجارت سب متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈیاں مشرق وسطیٰ کی کسی بھی عسکری خبر پر فوری ردعمل دیتی ہیں کیونکہ سرمایہ کار جانتے ہیں کہ اس خطے میں عدم استحکام عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتا ہے اس پس منظر میں امریکہ کے جنگی اخراجات کا سوال صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ بن جاتا ہے کیونکہ اگر امریکہ کی مالی پوزیشن کمزور ہوتی ہے تو اس کا اثر ڈالر کی طاقت عالمی تجارت اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر بھی پڑ سکتا ہے تاہم یہ کہنا کہ امریکہ فوری طور پر دیوالیہ ہو جائے گا ایک مبالغہ آرائی ہو سکتی ہے کیونکہ دیوالیہ پن کا تصور عام طور پر ان ریاستوں پر لاگو ہوتا ہے جو اپنے قرضے ادا کرنے سے قاصر ہو جائیں جبکہ امریکہ کے پاس اپنی کرنسی جاری کرنے اور عالمی مالیاتی نظام میں مرکزی کردار ادا کرنے کی وجہ سے بہت زیادہ مالی گنجائش موجود ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ جنگی اخراجات کے اثرات کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے کیونکہ ہر جنگ اپنے ساتھ ایک معاشی قیمت بھی لاتی ہے اور اگر یہ قیمت مسلسل بڑھتی رہے تو بالاخر اسے ادا کرنا پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ کئی امریکی ماہرین پالیسی سازوں کو خبردار کر رہے ہیں کہ انہیں اپنی عسکری حکمت عملی کو زیادہ محتاط بنانا ہوگا اور ایسے تنازعات سے بچنا ہوگا جو طویل مدت تک وسائل کو کھا جائیں دوسری طرف ایران اور اس جیسے ممالک کی حکمت عملی اکثر غیر متوازن جنگ پر مبنی ہوتی ہے جس میں وہ براہ راست بڑی فوجی طاقت کا مقابلہ کرنے کے بجائے سستی اور لچکدار ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں جیسے ڈرون میزائل یا غیر روایتی جنگی طریقے اس حکمت عملی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بڑے اور مہنگے دفاعی نظام رکھنے والے ممالک کو معاشی طور پر تھکا دیا جائے یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کو جنگی میدان میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس نے جنگ کی لاگت کے توازن کو بدل دیا ہے جہاں پہلے صرف بڑے ممالک جدید ہتھیاروں کے ذریعے برتری حاصل کرتے تھے وہاں اب چھوٹے وسائل رکھنے والے ممالک بھی نسبتاً کم خرچ میں بڑی طاقتوں کو چیلنج کر سکتے ہیں اس صورتحال نے عالمی دفاعی پالیسیوں کو بھی تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے اور کئی ممالک اب ایسے دفاعی نظام تیار کرنے پر توجہ دے رہے ہیں جو کم لاگت کے ساتھ زیادہ مؤثر ہوں کیونکہ اگر دفاعی اخراجات مسلسل بڑھتے رہیں تو وہ خود معیشت کے لیے ایک بوجھ بن سکتے ہیں مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی اور اس کے ساتھ جڑے ہوئے جنگی اخراجات ہمیں ایک بڑی حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ جدید دنیا میں جنگ صرف میدان جنگ میں نہیں لڑی جاتی بلکہ معیشت کے میدان میں بھی لڑی جاتی ہے اور اکثر فیصلہ کن معرکہ وہی ہوتا ہے جو بجٹ اور وسائل کے اندر لڑا جاتا ہے امریکہ اب بھی ایک بڑی طاقت ہے اور اس کی معیشت بہت مضبوط ہے لیکن اگر وہ مسلسل مہنگی جنگوں میں الجھا رہا تو اس کے اثرات وقت کے ساتھ نمایاں ہو سکتے ہیں اسی لیے دانشمندانہ حکمت عملی یہی ہے کہ تنازعات کو سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے کیونکہ ہر میزائل کے پیچھے ایک قیمت ہوتی ہے اور ہر جنگ کے بعد ایک طویل معاشی سایہ باقی رہ جاتا ہے اور تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ طاقت کی اصل پائیداری ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معیشت کے استحکام اور دانشمندانہ پالیسیوں سے پیدا ہوتی ہے اور جو قومیں اس حقیقت کو نظر انداز کرتی ہیں وہ اکثر میدان جنگ جیت کر بھی تاریخ کے طویل سفر میں کمزور پڑ جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر کے سنجیدہ مبصرین اس سوال پر غور کر رہے ہیں کہ آیا موجودہ کشیدگی صرف ایک عارضی بحران ہے یا یہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک ایسے دور کا آغاز ہے جہاں جنگی اخراجات اور معاشی دباؤ مستقبل کی عالمی سیاست کی سمت کا تعین کریں گے اور اگر ایسا ہوا تو آنے والے برسوں میں دنیا کو صرف نئی جنگوں کا ہی نہیں بلکہ ایک نئے معاشی توازن کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔