اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے تصدیق کی ہے کہ 13 مارچ کو افغان طالبان نے پاکستان پر ڈرون حملے کیے، تاہم فوج نے ان ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے مار گرایا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق تباہ شدہ ڈرون کے ملبے سے کوئٹہ میں دو بچے زخمی ہوئے، جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک ایک شخص زخمی ہوا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ حملے عوام میں خوف پھیلانے کی افغان طالبان کی ناپاک کوشش ہیں، لیکن عوام اور مسلح افواج افغانستان پر قابض کرائے کی دہشتگرد ملیشیا کی حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ افغان سرزمین سے دہشتگردوں کے خاتمے تک آپریشن غضب للحق جاری رہے گا۔
پاک فوج نے واضح کیا کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے اور افواج دہشتگردی اور اس کی تمام شکلوں کے خلاف ثابت قدمی سے لڑتی رہیں گی۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ عوام مکمل اعتماد رکھیں کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی دہشتگردی کا مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہیں اور ملکی سلامتی اور عوام کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔




