کھاریاں (رپورٹ: قاری نصیر احمد کلیار) بوریا نوالی گورنمنٹ پرائمری سکول زوال کا شکار ہے اور اس کی حالت نہایت تشویشناک ہے۔ ترقی کے دعوے، منصوبوں کے اعلانات اور بڑے بڑے وعدے تو اکثر سنی سنائی باتوں تک محدود رہ جاتے ہیں، مگر عملی طور پر یہ سب سکول کی حالت پر کوئی اثر نہیں ڈالتے۔ حقیقت یہ ہے کہ بوریا نوالی پرائمری سکول ہمارے سامنے آہستہ آہستہ تباہ ہو رہا ہے۔
سکول میں بنیادی مسائل کئی سطحوں پر نظر آتے ہیں۔ صفائی کا معیار انتہائی ابتر ہے، کلاس رومز میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے، فرنیچر اور دیگر ضروری سامان ناکافی ہے، اور تعلیمی ماحول وہ معیار نہیں رکھتا جو ہمارے بچوں کا حق ہے۔ نہ صرف طلبہ بلکہ والدین بھی اس صورتحال سے بے حد پریشان ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچے سکول آ کر محفوظ اور باوقار ماحول کے بجائے خراب سہولیات اور ناقص انتظامات کے باعث تعلیم حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
یہ سوال صرف حکام کے لیے نہیں بلکہ ہم سب کے لیے بھی ہے۔ ہم سب اس گاوں کے باشندے ہیں، مگر اکثر خاموشی سے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے اپنے تعلیمی اداروں کی حالت پر آواز نہ اٹھائی تو کل ہماری آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ ہم نے ان کے حقوق اور تعلیمی مستقبل کے لیے کیا اقدامات کیے۔
اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ بوریا نوالی کے یہ سرکاری تعلیمی ادارے فوری توجہ کے مستحق ہیں۔ محکمہ تعلیم، تحصیل انتظامیہ اور منتخب عوامی نمائندوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان سکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے فوری عملی اقدامات کریں تاکہ ہمارے بچوں کو ایک محفوظ، باوقار اور معیاری تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
اہل علاقہ کے مطابق اگرچہ مقامی انتظامیہ نے ماضی میں کئی وعدے کیے، مگر عملی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے یہ سکول اب بھی خستہ حالی کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کی حالت بہتر نہ کرنے سے نہ صرف بچوں کی تعلیمی ترقی متاثر ہوگی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے معاشرتی اور اخلاقی نقصان بھی ہوسکتا ہے۔




