تحریر:محمدانوربھٹی
سمندر کا پانی بظاہر حد درجہ نمکین اور کڑوا ہوتا ہے اس کی لہروں میں ایک شور ہے اس کی گہرائیوں میں ایک خاموش اندھیرا ہے اور اس کے ذائقے میں ایسی تلخی ہے جسے کوئی زبان برداشت نہیں کر سکتی مگر قدرت کا ایک ایسا حیرت انگیز اور خاموش نظام بھی ہے جو بظاہر تلخ حقیقتوں کو بھی ایک نئی مٹھاس میں بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے سورج کی حدت جب اس وسیع سمندر پر پڑتی ہے تو وہی کھارا پانی آہستہ آہستہ بخارات بن کر آسمان کی طرف اٹھنے لگتا ہے اس سفر میں ایک عجیب تبدیلی رونما ہوتی ہے کیونکہ جو چیز زمین پر رہتے ہوئے نمکین اور کڑوی تھی وہ بلندی کی طرف بڑھتے ہوئے اپنی ساری تلخی پیچھے چھوڑ دیتی ہے اس کا نمک اسی سمندر میں رہ جاتا ہے اور جو اوپر اٹھتا ہے وہ ایک لطیف اور پاکیزہ صورت اختیار کر لیتا ہے بادلوں کی شکل میں آسمان کی وسعتوں میں پھیل جاتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے جب یہی بادل زمین کی طرف واپس لوٹتے ہیں مگر اب وہ سمندر جیسی تلخی کے ساتھ نہیں آتے بلکہ میٹھی اور شفاف بارش بن کر لوٹتے ہیں جو پیاسی زمین کو سیراب کرتی ہے بنجر کھیتوں میں زندگی کا نیا باب کھول دیتی ہے درختوں کو تازگی عطا کرتی ہے فضا کو پاکیزگی بخشتی ہے اور انسان کے دل کو بھی ایک عجیب سا سکون دے جاتی ہے قدرت کے اس سادہ مگر گہرے منظر میں انسان کی زندگی کا ایک ایسا راز پوشیدہ ہے جسے اگر کوئی سمجھ لے تو اس کے بہت سے سوالوں کے جواب مل سکتے ہیں کیونکہ انسان کا دل بھی کسی سمندر سے کم نہیں ہوتا اس کے اندر بھی کبھی دکھوں کی نمکینی ہوتی ہے کبھی محرومیوں کی تلخی ہوتی ہے کبھی ناانصافیوں کا شور ہوتا ہے اور کبھی زندگی کے حادثات اس کے اندر ایسی لہریں پیدا کر دیتے ہیں جو اسے بے چین کر دیتی ہیں انسان کے دل میں یادیں بھی بسیرا کرتی ہیں شکایتیں بھی جمع ہوتی ہیں اور بعض اوقات دنیا کی سختیاں اسے ایسا بوجھل بنا دیتی ہیں کہ اسے لگتا ہے جیسے اس کے اندر صرف کڑواہٹ ہی باقی رہ گئی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ دل کی یہی کیفیت اس کے بدلنے کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے کیونکہ جس طرح سورج کی حدت کے بغیر سمندر کا پانی کبھی بخارات نہیں بنتا اسی طرح زندگی کی آزمائشوں کے بغیر انسان کا دل بھی کبھی بلندی کی طرف نہیں اٹھتا تکلیفیں دراصل انسان کے اندر ایک حرکت پیدا کرتی ہیں وہ اسے مجبور کرتی ہیں کہ وہ اپنے وجود کے اندر جھانکے وہ اپنی حقیقت کو پہچانے اور وہ اس سوال کا جواب تلاش کرے کہ اس کے دل میں جو درد ہے وہ آخر کس مقصد کے لیے رکھا گیا ہے جب انسان اس تلاش میں اپنے دل کو آسمان کی طرف اٹھاتا ہے جب وہ اپنی شکایتوں کو دعا میں بدل دیتا ہے جب وہ اپنی بے بسی کو عاجزی میں تبدیل کر دیتا ہے اور جب وہ اپنے دکھوں کو اپنے رب کے حضور پیش کر دیتا ہے تو اس کے اندر بھی ایک خاموش مگر گہری تبدیلی شروع ہو جاتی ہے اس کی تلخی آہستہ آہستہ تحلیل ہونے لگتی ہے اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہونے لگتا ہے اور اس کے اندر ایک ایسی نرمی پیدا ہونے لگتی ہے جو پہلے اسے محسوس بھی نہیں ہوتی یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کا دل بھی بخارات کی طرح زمین کی بھاری فضا سے اٹھ کر آسمان کی طرف بڑھنے لگتا ہے اور جب وہ اس بلندی کو چھو لیتا ہے تو اس کے اندر کی بہت سی کڑواہٹیں پیچھے رہ جاتی ہیں کیونکہ بلندی کی طرف اٹھنے والا ہر وجود اپنی غیر ضروری بوجھل چیزوں کو نیچے چھوڑ دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب انسان اپنے دل کو دنیا کی گرد سے اٹھا کر روحانیت کی طرف لے جاتا ہے تو اس کے اندر ایک نیا سکون پیدا ہونے لگتا ہے وہ پہلے جیسا نہیں رہتا اس کی سوچ بدلنے لگتی ہے اس کی نظر بدلنے لگتی ہے اور اس کے الفاظ میں بھی ایک نئی نرمی آ جاتی ہے پھر وہی انسان جو کبھی اپنی تکلیفوں میں گھرا ہوا تھا ایک دن دوسروں کے لیے تسلی کا ذریعہ بن جاتا ہے وہی دل جو کبھی دکھوں کا سمندر تھا ایک دن محبت کی بارش بن کر برسنے لگتا ہے کیونکہ جو دل اپنے دکھوں کو سمجھ لیتا ہے وہ دوسروں کے دکھوں کو بھی محسوس کرنے لگتا ہے اور جو انسان اپنی تلخیوں کو صبر میں بدل دیتا ہے اس کے اندر ایک ایسی مٹھاس پیدا ہو جاتی ہے جو اس کے ہر رویے میں جھلکنے لگتی ہے وہ لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آتا ہے وہ کسی کے دل کو توڑنے سے ڈرتا ہے وہ دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی موجودگی لوگوں کے لیے ایک سکون بن جاتی ہے بالکل اسی طرح جیسے بارش کے قطرے زمین پر گر کر صرف مٹی کو ہی نہیں بلکہ فضا کو بھی تازہ کر دیتے ہیں دراصل قدرت ہمیں بار بار یہی سبق دیتی ہے کہ بلندی کی طرف اٹھنے کا عمل ہمیشہ تبدیلی لاتا ہے جو چیز نیچے رہ کر بوجھل محسوس ہوتی ہے وہی چیز جب اوپر اٹھتی ہے تو لطیف اور پاکیزہ بن جاتی ہے سمندر اپنی جگہ پر ہمیشہ نمکین ہی رہتا ہے مگر اس سے اٹھنے والی بارش میٹھی ہوتی ہے اور یہی بات انسان کی زندگی کے لیے بھی ایک گہری علامت ہے دنیا اپنی سختیوں کے ساتھ ہمیشہ موجود رہے گی ناانصافیاں بھی ختم نہیں ہوں گی مشکلات بھی آتی رہیں گی اور بعض اوقات انسان کو ایسے حالات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا جنہیں وہ بدل نہیں سکتا مگر اس کے باوجود انسان کے پاس ایک اختیار ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ وہ اپنے دل کو کس سمت میں لے جانا چاہتا ہے اگر وہ اپنے دل کو صرف شکایتوں کے سمندر میں رکھے گا تو اس کے اندر کی نمکینی بڑھتی رہے گی مگر اگر وہ اسے آسمان کی طرف اٹھائے گا اگر وہ اسے امید دعا اور یقین کے ساتھ جوڑ دے گا تو اس کے اندر بھی ایک ایسی تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے جو اس کی پوری زندگی کا رخ بدل دے گی پھر اس کے الفاظ میں شکایت کی جگہ حکمت آ جائے گی اس کی آنکھوں میں مایوسی کی جگہ امید آ جائے گی اور اس کے دل میں تلخی کی جگہ وہ مٹھاس پیدا ہو جائے گی جو دوسروں کے لیے بھی رحمت بن جائے گی یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں وہی لوگ یاد رکھے گئے ہیں جنہوں نے اپنی تکلیفوں کو نفرت میں نہیں بلکہ رحمت میں بدلا جنہوں نے اپنی محرومیوں کو شکایت نہیں بنایا بلکہ انہیں صبر اور حکمت میں ڈھال دیا اور جنہوں نے اپنے دل کو زمین کی تنگیوں میں قید رکھنے کے بجائے آسمان کی وسعتوں سے جوڑ دیا کیونکہ آسمان کی طرف اٹھنے والا دل کبھی خالی واپس نہیں آتا وہ ضرور کچھ نہ کچھ لے کر لوٹتا ہے کبھی سکون لے کر آتا ہے کبھی یقین لے کر آتا ہے کبھی امید لے کر آتا ہے اور کبھی ایسی روشنی لے کر آتا ہے جو اس کی پوری زندگی کو بدل دیتی ہے اور جب وہ دل واپس زمین کی طرف آتا ہے تو وہ پہلے جیسا نہیں رہتا اس کے اندر کی سختی نرم ہو چکی ہوتی ہے اس کے اندر کی کڑواہٹ تحلیل ہو چکی ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک ایسی شفافیت پیدا ہو چکی ہوتی ہے جو اسے دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند بنا دیتی ہے بالکل اسی طرح جیسے بادلوں سے برسنے والی بارش صرف ایک قطرہ نہیں ہوتی بلکہ ایک مکمل نظام رحمت ہوتی ہے جو پہاڑوں سے لے کر میدانوں تک ہر جگہ زندگی کو تازہ کر دیتی ہے اور یہی وہ راز ہے جو انسان کو سمجھنا چاہیے کہ بلندی صرف جسم کی نہیں ہوتی اصل بلندی دل کی ہوتی ہے اور جب دل بلند ہو جاتا ہے تو انسان کی پوری زندگی بدل جاتی ہے اس کی نگاہوں میں وسعت آ جاتی ہے اس کے لہجے میں نرمی آ جاتی ہے اس کے فیصلوں میں حکمت آ جاتی ہے اور اس کے وجود میں ایک ایسی روشنی پیدا ہو جاتی ہے جو دوسروں کے راستے بھی روشن کرنے لگتی ہے اسی لیے کبھی کبھی ضروری ہوتا ہے کہ انسان اپنی مصروف زندگی سے چند لمحے نکال کر اپنے دل کو آسمان کی طرف لے جائے کیونکہ زمین کی گرد دل کو بوجھل بنا دیتی ہے دنیا کی آوازیں انسان کو بے چین کر دیتی ہیں اور زندگی کی دوڑ انسان کو تھکا دیتی ہے مگر جب انسان خاموشی کے چند لمحوں میں اپنے دل کو اوپر اٹھاتا ہے جب وہ اپنے خالق کو یاد کرتا ہے جب وہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرتا ہے اور جب وہ اپنی امیدوں کو ایک بلند مقصد کے ساتھ جوڑ دیتا ہے تو اس کے اندر ایک ایسی طہارت پیدا ہونے لگتی ہے جو کسی اور راستے سے حاصل نہیں ہو سکتی پھر وہی دل جو کبھی اپنے بوجھ سے دب گیا تھا ایک دن ہلکا ہو کر واپس آتا ہے اور وہی دل جو کبھی نمکین سمندر کی طرح تلخ تھا ایک دن میٹھی بارش کی طرح دوسروں کے لیے رحمت بن جاتا ہے اور شاید یہی زندگی کا سب سے خوبصورت راز ہے کہ انسان کی اصل عظمت اس کی طاقت میں نہیں بلکہ اس تبدیلی میں ہے جو وہ اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے کیونکہ جو دل آسمان کی طرف اٹھنا سیکھ لیتا ہے وہ زمین پر بھی رحمت بن کر جیتا ہے اور جب وہ واپس لوٹتا ہے تو اپنے ساتھ ایسی مٹھاس لے کر آتا ہے جو نہ صرف اس کی اپنی پیاس بجھاتی ہے بلکہ اس دنیا کے بہت سے خشک دلوں کو بھی زندگی عطا کر دیتی ہے اور یہی وہ پیغام ہے جو قدرت ہر بارش کے قطرے کے ذریعے انسان کو دیتی ہے کہ اگر تم اپنے دل کو بلندی کی طرف لے جاؤ تو تمہاری تلخی بھی رحمت میں بدل سکتی ہے تمہاری تھکن بھی سکون میں بدل سکتی ہے اور تمہارا بوجھ بھی روشنی میں ڈھل سکتا ہے کیونکہ قدرت کا قانون یہی ہے کہ جو چیز اوپر اٹھتی ہے وہ پاکیزہ ہو جاتی ہے اور جو دل آسمان کی طرف سفر کر لیتا ہے وہ واپس آ کر زمین کے لیے رحمت بن جاتا ہے۔




