پیکٹا گجرات میں 7 مارچ 2026 کو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ایلیمنٹری چوہدری محمد فاروق کی زیر قیادت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر کے تعلیمی معاملات، جماعت ہشتم کے امتحانات کے انتظامات، اسکولوں کی کارکردگی اور آئندہ تعلیمی سیشن کے حوالے سے مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک اور نعتِ رسول مقبول ﷺ سے کیا گیا۔
اجلاس میں پرنسپل پیکٹا عرفان انجم، سید مبشرالحسن شاہ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز مردانہ معروف احمد، ڈاکٹر افتخار اختر اور بشیر احمد کے علاوہ اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز گجرات نے شرکت کی اور شرکا کو خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر چوہدری محمد فاروق نے تمام افسران اور اساتذہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مختلف ہدایات جاری کیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ جماعت ہشتم کے امتحانات کے شفاف اور منظم انعقاد کے لیے کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے تاکہ طلبہ اور اساتذہ کو کسی بھی مشکل کی صورت میں فوری رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ مزید بتایا گیا کہ جماعت ہشتم کے تمام مضامین کے پرچے ہوں گے جن میں سے چار پرچے بورڈ کے تحت لیے جائیں گے جبکہ باقی امتحانات اسکولوں کی سطح پر منعقد کیے جائیں گے۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے ہدایت دی کہ تمام اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز ہر ماہ 28 تاریخ سے پہلے اپنا ماہانہ ورک پلان جمع کروائیں اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام اسکولوں میں بھرپور انرولمنٹ مہم شروع کی جائے اور اساتذہ کو طلبہ کے داخلوں کا باقاعدہ ہدف دیا جائے جسے آرڈر بک میں درج کیا جائے گا۔
اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ نئے تعلیمی سیشن کے آغاز سے قبل تمام کلاس رومز کی وائٹ واش، صفائی اور سجاوٹ مکمل کر لی جائے جبکہ ہر کلاس روم میں تعلیمی کیلنڈر آویزاں کیا جائے اور اس پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
طلبہ کی تعلیمی بہتری کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ روزانہ کی بنیاد پر ٹیسٹ لیے جائیں اور ان کا ریکارڈ ڈائری میں درج کیا جائے۔ ہر طالب علم کے پاس اپنی ٹیسٹ ڈائری ہونی چاہیے جو اس کے بیگ میں موجود ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اسکولوں میں کتابوں کا بک بینک بنانے کی بھی ہدایت دی گئی تاکہ جس مضمون کا امتحان ہو جائے اس کی کتابیں اسکول کی سطح پر جمع کر لی جائیں اور بعد میں ضرورت مند طلبہ کو فراہم کی جا سکیں۔

اجلاس میں یہ بھی ہدایت دی گئی کہ ہر اسکول کا سربراہ اسکول کا باقاعدہ سماجی رابطے کا صفحہ بنائے اور اس پر اسکول کی روزمرہ سرگرمیوں اور تعلیمی سرگرمیوں کی تصاویر اور معلومات شیئر کی جائیں تاکہ تعلیمی سرگرمیوں کو نمایاں کیا جا سکے۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے اس بات پر زور دیا کہ اسکولوں میں دستیاب فنڈز کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے اور یہ ہرگز قابل قبول نہیں کہ اسکول کے پاس فنڈز موجود ہوں مگر اسکول کی حالت خراب ہو۔ اس کے علاوہ تمام اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز کو ہدایت دی گئی کہ وہ ہر ماہ لاگ بک تحریر کریں اور اپنے دیے گئے احکامات پر اگلی لاگ بک میں عملدرآمد کا جائزہ لیں۔
طلبہ کے تعلیمی رابطے کو بہتر بنانے کے لیے طلبہ کے واٹس ایپ گروپس بنانے کی تجویز بھی دی گئی تاکہ تعلیمی معلومات اور ڈائری سے متعلق ہدایات شیئر کی جا سکیں، تاہم اس بات پر زور دیا گیا کہ اساتذہ غیر ضروری طور پر موبائل فون کے استعمال سے گریز کریں۔
اجلاس میں ماہانہ تعلیمی موضوع پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت بھی کی گئی اور کہا گیا کہ اس حوالے سے تصاویر اور سرگرمیوں کی رپورٹ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ طلبہ میں اعلیٰ سطح کی سوچ پیدا کرنے کے لیے تعلیمی سرگرمیوں اور ویڈیوز کے ذریعے رہنمائی فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔
ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کو ہدایت دی گئی کہ وہ پے رول کی مکمل جانچ پڑتال کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ حقیقت میں کتنے ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں اور کہیں کوئی غیر ضروری الاؤنس تو نہیں لیا جا رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی سروس بکس مکمل رکھنے اور انہیں متعلقہ افسران کی دسترس میں رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی۔
اجلاس میں شجرکاری مہم کے تحت ہر سطح پر ریکارڈ رکھنے کے لیے رجسٹر بنانے کی ہدایت کی گئی جبکہ ڈپٹی افسران کو سرکاری نرسری سے مقررہ ہدف کے مطابق پودے حاصل کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔
اس کے علاوہ جاری ترقیاتی منصوبوں کے مقامات کو محفوظ بنانے کے لیے انہیں نو گو ایریا قرار دینے اور بچوں کے داخلے پر پابندی لگانے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں اسکول بیسڈ ایکشن پلان تیار کرنے اور اس میں سالانہ اخراجات کی تفصیل درج کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
فیڈر ٹیچر کی تقرری کے حوالے سے بتایا گیا کہ این ایس بی فنڈ کے تحت اساتذہ کو 89 دن کے لیے تعینات کیا جائے گا اور اگر ضرورت ہو تو اسکول کونسل کی منظوری سے مزید 89 دن کے لیے دوبارہ تقرری کی جا سکتی ہے۔
طلبہ کی شخصیت سازی کے لیے کمیونیکیشن اسکلز بہتر بنانے کی ہدایت دی گئی اور اس مقصد کے لیے رول پلے جیسی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ اسی طرح طلبہ کی صاف ستھری نوٹ بکس کے مقابلے منعقد کرنے اور بہترین کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو انعام دینے کی بھی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں مرکز کی سطح پر اسکولوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے رینکنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر معروف احمد کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ایک ہفتے کے اندر کارکردگی کے پیمانے اور انڈیکیٹرز تیار کرے گی۔
اجلاس کے اختتام پر اساتذہ کو ہدایت دی گئی کہ ٹیچر ڈائری، لیسن پلان اور امتحانی رجسٹر ہر صورت مکمل رکھے جائیں اور تعلیمی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے تمام اقدامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔




