ستمبر 12, 2026

روزہ اور لبلبہ: طبی حقیقتتحریر: ہومیو ڈاکٹر تصور حسین مرزا

روزہ اسلام کی ایک بنیادی عبادت ہے، مگر اس کے طبی فوائد بھی اتنے ہی واضح اور سائنسی ہیں۔ جدید میڈیکل سائنس اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ روزہ انسانی جسم، خصوصاً لبلبہ (Pancreas) اور شوگر کے نظام پر گہرے مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ انسانی صحت کے لیے خون میں شوگر (Blood Glucose) کا توازن بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اور اس توازن کا مرکز لبلبہ ہے۔
لبلبہ کے اندر موجود مخصوص خلیاتی مجموعے کو آئلیٹس آف لینگرہانس (Islets of Langerhans) کہا جاتا ہے، جن میں تین اہم اقسام کے خلیات شامل ہیں: بیٹا سیلز (Beta Cells)، الفا سیلز (Alpha Cells) اور ڈیلٹا سیلز (Delta Cells)۔ یہ خلیات مل کر شوگر میٹابولزم (Glucose Metabolism) کو کنٹرول کرتے ہیں۔ بیٹا سیلز انسولین (Insulin) پیدا کرتے ہیں، جو خون میں موجود گلوکوز کو جسم کے خلیات میں داخل کر کے توانائی میں تبدیل کرتی ہے اور اضافی شوگر کو جگر (Liver) اور پٹھوں (Muscles) میں گلیکوجن (Glycogen) کی صورت میں محفوظ کرتی ہے۔
مسلسل اور بے ترتیب کھانے پینے کی عادت بیٹا سیلز پر غیر ضروری دباؤ ڈالتی ہے، جس کے نتیجے میں انسولین ریزسٹنس (Insulin Resistance) پیدا ہو سکتی ہے۔ روزہ اس دباؤ کو کم کرتا ہے، بیٹا سیلز کو عملی آرام (Functional Rest) دیتا ہے اور انسولین کی حساسیت (Insulin Sensitivity) کو بہتر بناتا ہے، جو ذیابیطس ٹائپ ٹو (Type 2 Diabetes Mellitus) سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

روزے کے دوران جب خون میں شوگر کم ہوتی ہے تو الفا سیلز سے خارج ہونے والا گلوکاگون (Glucagon) جگر میں محفوظ گلیکوجن کو توڑ کر دوبارہ گلوکوز میں تبدیل کرتا ہے اور اسے خون میں شامل کر دیتا ہے۔ اس عمل سے دماغ (Brain) اور دیگر اہم اعضا کو توانائی کی مسلسل فراہمی برقرار رہتی ہے۔ انسولین اور گلوکاگون ایک دوسرے کے مخالف ہونے کے باوجود باہمی ہم آہنگی سے جسم میں توازن برقرار رکھتے ہیں، جسے ہومیو اسٹیسس (Homeostasis) کہا جاتا ہے۔ روزہ اس فطری نظام کو مضبوط کرتا ہے۔

ڈیلٹا سیلز سے خارج ہونے والا ہارمون سومیٹو اسٹیٹن (Somatostatin) انسولین اور گلوکاگون دونوں کے اخراج کو منظم کرتا ہے۔ روزے کے دوران اس ہارمون کا توازن بہتر ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں معدے کی تیزابیت (Gastric Acid Secretion)، بدہضمی (Indigestion) اور دیگر ہاضمے (Digestive System) کے مسائل میں کمی آتی ہے، بشرطیکہ افطار اور سحر میں اعتدال اختیار کیا جائے۔

جدید سائنسی تحقیق کے مطابق روزہ آٹو فیجی (Autophagy) کے عمل کو متحرک کرتا ہے۔ آٹو فیجی جسم کا قدرتی صفائی نظام ہے، جس کے ذریعے پرانے، خراب یا ناکارہ خلیات ختم ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ صحت مند نئے خلیات بنتے ہیں۔ یہ عمل لبلبہ، جگر اور مدافعتی نظام (Immune System) کے لیے نہایت مفید ہے اور جسم کی بیماریوں کے خلاف مزاحمت بڑھاتا ہے۔

روزہ وزن میں کمی (Weight Loss) اور چربی کے استعمال (Fat Metabolism) میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب جسم کو فوری خوراک میسر نہ ہو تو وہ ذخیرہ شدہ چربی کو توانائی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اس سے موٹاپا (Obesity)، فیٹی لیور (Fatty Liver Disease) اور انسولین ریزسٹنس میں واضح کمی آتی ہے، جو بالآخر لبلبہ کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔

یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ روزہ ہر فرد کے لیے یکساں موزوں نہیں۔ شدید ذیابیطس (Severe Diabetes)، انسولین پر منحصر مریض (Insulin Dependent Patients)، حاملہ خواتین (Pregnant Women) اور بعض دائمی امراض (Chronic Diseases) میں مبتلا افراد کو روزہ رکھنے سے پہلے اپنے معالج (Physician) سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔ اسلام نے بیماری کی حالت میں رخصت دی ہے، اس لیے صحت کو نقصان پہنچانا نہ دینی طور پر درست ہے اور نہ ہی سائنسی طور پر۔

خلاصہ یہ کہ روزہ لبلبہ کو آرام، شوگر کے توازن میں بہتری، ہارمونل ہم آہنگی (Hormonal Balance)، وزن میں کمی اور مدافعتی نظام کی مضبوطی فراہم کرتا ہے۔ اگر افطار اور سحر میں سادہ غذا، اعتدال اور درست طرزِ زندگی اپنائی جائے تو روزہ محض عبادت نہیں رہتا بلکہ ایک مؤثر، قدرتی اور سائنسی علاج کی شکل اختیار کر لیتا ہے