افغانستان میں طالبان کی جانب سے کی جانے والی دہشتگردی کے جواب میں پاکستان نے افغانستان کے مختلف مقامات پر دہشتگردوں کے 7 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق، پاکستان میں حالیہ خودکش حملوں میں افغانستان میں موجود دہشتگرد قیادت اور ان کے سہولت کار ملوث ہیں، جنہوں نے اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں دہشتگردانہ کارروائیاں کیں۔
وزارت اطلاعات کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، فتنہ الخوارج اور ان کے اتحادیوں نے قبول کی ہے۔ پاکستان کے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ ان دہشتگردی کی کارروائیوں کو افغانستان میں موجود قیادت کی ہدایات پر انجام دیا گیا۔
Press Release
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) February 21, 2026
21 February, 2026
In the aftermath of recent suicide bombing incidents in Pakistan, including Imam Bargah at Islamabad, one each in Bajaur and Bannu followed by another incident today in Bannu during the holy month of Ramzan, Pakistan has conclusive evidence that…
وزارت کے مطابق، پاکستان نے متعدد بار افغان طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگرد تنظیموں اور پراکسی عناصر کے استعمال سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے، تاہم افغان عبوری حکومت اس سلسلے میں مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پاکستان نے اپنی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں موجود دہشتگردوں کے 7 کیمپس اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، لیکن پاکستانی عوام کی سلامتی ہمیشہ اولین ترجیح ہے۔
پاکستان نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ وزارت نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان طالبان حکومت پر دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنے کے لیے دباؤ ڈالے تاکہ خطے اور دنیا میں امن و سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔



