نومبر 3, 2026

میں ٹھیک ہوں تم ٹھیک ہو پھر یہ بربادی کیسی بندن میاں کا سوال

تحریر : محمد انور بھٹی

بندن میاں کہتا ہے کہ کچھ موضوعات ایسے ہوتے ہیں جن پر بات کرنے سے پہلے انسان کو اپنے دل کی گرد جھاڑنی پڑتی ہے کیونکہ یہ باتیں نہ صرف سماج کے پردے ہٹاتی ہیں بلکہ انسان کو خود اپنے اندر بھی جھانکنے پر مجبور کر دیتی ہیں خیانت زنا وفاداری اور وراثت انہی موضوعات میں سے ہیں جن پر لوگ یا تو نعرے لگاتے ہیں یا مکمل انکار کر دیتے ہیں مگر بندن میاں نہ نعرہ لگاتا ہے نہ آنکھ بند کرتا ہے وہ بس یہ سوال رکھ دیتا ہے کہ اگر سب کچھ ماحول ہی بناتا ہے تو ایک ہی ماں باپ کے دو بچوں کے مزاج زمین آسمان کے فرق والے کیوں ہوتے ہیں اگر انسان واقعی خالی کاغذ ہوتا تو ہم شکل جڑواں بچوں کی زندگیوں میں حیران کن مماثلت کیوں نظر آتی یہی سوال سائنس کو جڑواں بچوں کی تحقیق تک لے گیا اور یہی سوال بندن میاں کو اس نتیجے تک لایا کہ کچھ رجحانات وراثت میں ملتے ہیں جیسے غصہ بے چینی جلد اکتاہٹ اور نئی لذت کی طلب بندن میاں یہاں یہ بات واضح کرتا ہے کہ رجحان کا مطلب مجبوری نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ڈھلوان ہوتی ہے جس پر پھسلنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے مگر پاؤں روکنے کا اختیار پھر بھی انسان کے پاس ہوتا ہے جیسے کسی کو غصہ وراثت میں ملے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہر بار ہاتھ اٹھائے بلکہ یہ کہ اسے خود پر قابو پانے کے لیے زیادہ محنت کرنا ہوگی اب سوال یہ ہے کہ کیا والدین کے اعمال کا اثر اولاد پر پڑتا ہے بندن میاں کہتا ہے ہاں پڑتا ہے مگر لعنت کی طرح نہیں مزاج کی طرح انسان اپنے ماں باپ سے صرف چہرہ نہیں لیتا بلکہ ان کے جسمانی نظام ہارمونز کے توازن اور ذہنی راستوں کا ایک خاکہ بھی لیتا ہے جب کوئی شخص مسلسل بے راہ روی اختیار کرتا ہے وقتی لذت کے پیچھے دوڑتا ہے تو اس کا دماغ انہی راستوں کو مضبوط کرتا چلا جاتا ہے اور یہی مضبوط راستے بعض صورتوں میں اولاد میں بے چینی کی صورت ظاہر ہو سکتے ہیں یہاں مذہب اور سائنس ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ہم زبان ہو جاتے ہیں مذہب کہتا ہے زنا برا راستہ ہے سائنس کہتی ہے بے ضبطی انسان کے اندرونی توازن کو بگاڑ دیتی ہے دونوں ایک ہی حقیقت کو مختلف لفظوں میں بیان کرتے ہیں بندن میاں کہتا ہے مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں لوگ یا تو وراثت کو سب کچھ مان لیتے ہیں یا اسے بالکل رد کر دیتے ہیں دونوں رویے خطرناک ہیں اگر وراثت ہی سب کچھ ہوتی تو حساب کتاب بے معنی ہو جاتا اور اگر وراثت کا کوئی اثر ہی نہ ہوتا تو انسان کی کمزوریاں بے وجہ ہوتیں اسلام نے اسی لیے ہر انسان کو اس کے اپنے عمل کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے کیونکہ اختیار موجود ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ کچھ راستے ایسے ہیں جو انسان اور اس کی نسل دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں بندن میاں دیہاتی مثال دیتا ہے کہ اگر کسی زمین میں پہلے سے نمک زیادہ ہو تو وہاں فصل اگانا مشکل ضرور ہوتا ہے مگر ناممکن نہیں کسان زیادہ محنت کرتا ہے پانی زیادہ دیتا ہے اور آخرکار زمین کو قابل بنا لیتا ہے اسی طرح اگر کسی کو وراثت میں بے چینی یا نئی لذت کی طلب ملی ہو تو اس کے لیے ضبط اور نظم عام انسان سے زیادہ ضروری ہو جاتا ہے اب بندن میاں بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتا ہے کہ وفاداری صرف اخلاقی سبق نہیں بلکہ ایک جذباتی بندھن ہے جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوتا ہے مگر جب کوئی شخص بار بار اس بندھن کو توڑتا ہے تو وہ صرف رشتہ نہیں توڑتا بلکہ اپنے اندر کے اس نظام کو بھی کمزور کرتا ہے جو وابستگی کو ممکن بناتا ہے جس راستے پر روز بیل گاڑی چلے وہ پختہ ہو جاتا ہے اور جس پر کم چلے وہ مٹنے لگتا ہے یہی حال انسان کے اندرونی راستوں کا بھی ہے یہی وجہ ہے کہ کچھ بچوں کو ایک تعلق میں سکون نہیں ملتا یہاں الزام بچے پر رکھنا ناانصافی ہے کیونکہ وہ میدان میں اترنے سے پہلے ہی ڈھلوان پر کھڑا کر دیا گیا تھا مگر بندن میاں پھر دہراتا ہے کہ ڈھلوان پر کھڑا ہونا گرنے کی ضمانت نہیں ہوتی اگر انسان آنکھ کھلی رکھے قدم سنبھال کر رکھے اور ہاتھ میں لاٹھی لے لے تو وہ پھسلنے سے بچ سکتا ہے یہی لاٹھی ضبط نفس ہے یہی آنکھ تقوی ہے یہی قدموں کی احتیاط ماحول کا درست انتخاب ہے اب ایک اور سوال اٹھتا ہے کہ جہاں یہ پابندیاں نہیں وہاں سب کچھ کیوں نہیں بکھر گیا بندن میاں کہتا ہے بکھرا ہے مگر شور کم ہے وہاں خاندان ٹوٹنے کو المیہ نہیں سمجھا جاتا اس لیے دکھ بھی خاموش ہوتا ہے بچے الگ گھروں میں پلتے ہیں اور خلا کو آزادی کے نام سے بھر دیا جاتا ہے مگر خلا تو خلا ہی رہتا ہے یہ بے چینی کبھی بے وفائی کی صورت میں کبھی تنہائی کی صورت میں کبھی غصے کی شکل میں نسل در نسل چلتی رہتی ہے اب یہاں بندن میاں یہ بھی کہتا ہے کہ اثر صرف باپ کی طرف سے نہیں آتا ماں کا خوف عدم تحفظ اور مسلسل ذہنی دباؤ بھی بچے کے دنیا سے تعلق بنانے کے انداز کو متاثر کرتا ہے اسی لیے زنا صرف فرد کا نہیں پورے خاندان کا مسئلہ ہے ایک دراڑ ہے جو ایک دیوار میں پڑے تو اگلی دیواریں بھی کمزور ہو جاتی ہیں مگر اس کے باوجود سب کچھ ختم نہیں ہوتا بندن میاں پوری قوت سے کہتا ہے کہ یہاں سے اصل انسان شروع ہوتا ہے وہ انسان جو اپنی کمزوری پہچان کر یہ فیصلہ کرے کہ میں وہ کڑی نہیں بنوں گا جو یہ سلسلہ آگے بڑھائے وہ شخص جو جانتا ہے کہ اس کے اندر بے چینی زیادہ ہے مگر وہ پھر بھی ایک تعلق کو تھام کر رکھتا ہے وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنی آنے والی نسل کے لیے بھی راستہ بدل دیتا ہے کیونکہ جب وہ ضبط اور وفاداری اختیار کرتا ہے تو وہ صرف اخلاقی فیصلہ نہیں کرتا بلکہ اپنے اندر کے نظام کو بھی آہستہ آہستہ نئی سمت پر ڈال دیتا ہے یہاں توبہ آتی ہے جو محض لفظ نہیں بلکہ اندرونی بغاوت ہے اپنی پرانی سمت کے خلاف بغاوت سچی ندامت انسان کے اندر وہ بریک لگا دیتی ہے جو برسوں سے تیز رفتار خواہشات کو روکنے کا کام کرتی ہے ضبط نفس سننے میں سخت لگتا ہے مگر حقیقت میں یہی آزادی ہے کیونکہ خواہش کا غلام آزاد نہیں ہوتا شادی محض معاہدہ نہیں بلکہ پناہ گاہ ہے جہاں دو لوگ ایک دوسرے کی کمزوریوں کے محافظ بنتے ہیں بچے لفظوں سے نہیں فضا سے سیکھتے ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ وعدہ نبھایا جاتا ہے یا توڑا جاتا ہے یہی منظر ان کے اندر تعلق بنانے کا نقشہ بناتا ہے ماحول بدلنا بزدلی نہیں دانائی ہے جیسے بیمار پرہیز کرتا ہے ویسے ہی کمزور مزاج والا بھی کرتا ہے آخر میں بندن میاں اس بات پر آ کر ٹھہرتا ہے کہ وراثت انسان کو کہانی دیتی ہے انجام نہیں انجام انسان خود لکھتا ہے اور جو شخص مشکل کہانی کے باوجود اچھا انجام لکھ دے وہی نسلوں کا محسن ہوتا ہے کیونکہ انسان اپنی اولاد کو صرف خون نہیں بلکہ سمت بھی دیتا ہے اور یہی اصل کامیابی ہے کہ آدمی خود کو بدل کر آنے والی نسل کو بدل دے۔